تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

ترنجیل: اینٹی سیپٹک اور اینٹی فنگل اثرات کا حامل تیل

یہ اینٹی سپٹک، اینٹی فنگل اثرات کا حامل تیل ہے۔ جس میں جیرانیول، سٹرونیلا، جیرانائیل ایسی ٹیٹ، لیمونین، کیفین پائی جاتی ہے۔ جبکہ اس میں مونو ٹرپین ہائیڈرو کابنز کی بڑے پیمانے پر مقدار پائی جاتی ہے۔

ترنجیل یا سائٹراونیلاایک لمبی، خوشبودار اور سدا بہار جنگلی گھاس ہے۔ اس کا اصل وطن سری لنکا ہے جبکہ اب یہ جاوا، ویت نام، افریقہ، ارجنٹائن اور وسطی امریکہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ ترنجیل سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جاتا ہے۔ جس کی طبی افادیت بخار، آنتوں کے کیڑوں، انہضام اور حیض کے مسائل حل کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔
اس خوشبودار گھاس کوسائٹراونیلا کا لفظ فرانسیسی زبان سے دیا گیا ہے۔سائٹراونیلا کا مطلب لیموں کا بادام ہے، چونکہ اس کی مہک لیموں کی خوشبو جیسی ہوتی ہے، چنانچہ اس کا نام سائٹراونیلا رکھ دیا گیا۔ جبکہ اس لوکل زبان میں ترنجیل کہتے ہیں۔ ترجیل کے تیل کا استعمال جلدی انفیکشن کیلئے صدیوں سے سری لنکا،چین اورانڈونیشیا میں چلا آرہا ہے۔

ترنجیل میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
یہ اینٹی سپٹک، اینٹی فنگل اثرات کا حامل تیل ہے۔ جس میں جیرانیول، سٹرونیلا، جیرانائیل ایسی ٹیٹ، لیمونین، کیفین پائی جاتی ہے۔ جبکہ اس میں مونو ٹرپین ہائیڈرو کابنز کی بڑے پیمانے پر مقدار پائی جاتی ہے۔

ترنجیل کے تیل کے فوائد:
ترنجیل کے تیل کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ کیڑوں مکوڑوں اور خاص طور پر مچھروں کو آپ کے پاس نہیں آنے دیتا۔ ترنجیل میں پائی جانے والی خوشبو کی وجہ سے مچھر دور بھاگ جاتے ہیں۔ بعض ممالک میں مچھروں کو بھگانے کیلئے اس کے تیل سے موم بتیاں بھی بنائی جاتی ہیں۔

اینٹی فنگل ایجنٹ:
ترنجیل کے تیل میں اینٹی فنگل خصوصیات ہوتی ہیں جو بعض قسم فنگس میں موثر ثابت ہوتا ہے۔ 2013کی ایک تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ سائٹراونیلا تیل فنگس کی خلیوں کی دیوار کو ختم کرنے اور سیل کے اندر موجود حیاتیات کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو انفیکشن کا سبب بن سکتے ہے۔اس تحقیق میں دیکھا گیا کہ ترنجیل کا تیل ان تمام 12 فنگس کے خلاف موثر ثابت ہوا، جن کا تجربہ کیا گیا تھا۔ اسی مطالعے میں پتا چلا ہے کہ سائٹروونیلا تیل 22 میں سے 15 بیکٹیریا کو روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ چنانچہ محققین کا کہنا ہے کہ سائٹروونیلا کا تیل محفوظ اور ماحول دوست فنگسائڈ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

زخم کی شفا یابی:
حالیہ تحقیق کی بنیاد پر، سائٹرونیلا کا تیل زخموں کی تندرستی میں تیزی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد کے لئے یہ خاص اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے، ترنجیل کا تیل لگانے سے ان کے زخم بھی زیادہ آہستہ آہستہ بھر جاتے ہیں۔
ترنجیل
کیل مہاسوں کی روک تھام:
کیل مہاسوں کا مسئلہ بہت عام ہوچکا ہے جس کی وجہ کیمیکل سے بنی مصنوعات کا استعمال ہوتا ہے،ترنجیل کا تیل کا استعمال مساموں میں موجود بیکٹریا کا خاتمہ کرکے جلد کو ٹھیک کرتا ہے۔

جھریاں دور کرے:
ترجیل کا تیل جلد پر پڑی جھریوں کو ختم کرتا ہے اور جلد کی قدرتی لچک کو برقرار رکھتا ہے۔

احتیاط: اگر کسی کو جلدی الرجی لاحق ہو تو وہ اسے جلد پر لگانے سے اجتناب برتے۔بچوں کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ حاملہ خواتین یا دودھ پلانے والی خواتین اروما تھراپی سے پرہیز کریں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button