روشنی

تعلیماتِ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ…… محمد ریاض علیمی

حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے نامور اور ممتاز عالم باعمل اور صوفی باصفا ہیں۔ آپؒ نجیب الطرفین سید ہیں۔ تمام علماء اور اولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ آپؒ مادر زاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو اولیاء کی امامت کا تاج پہنایا ہے۔ آپؒ قیامت تک آنے والے اولیاء کے پیشوا ہیں۔ آپؒ سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔ آپؒ کو اٹھارہ سال کی عمر میں علم سیکھنے کا شوق بیدار ہوا، والدہ سے بغداد جاکر علم حاصل کرنے کی اجازت طلب کی۔ بعد ازاں بغداد میں سکونت اختیار کی اور پوری جستجو سے حصولِ علم میں مشغول ہو گئے۔
آپؒ نے پہلے ظاہری علوم و فنون حاصل کیے، پھر باطن کی اصلاح اور ولایت وسلوک کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہونے کے لیے مشغول ہو گئے۔ اس کے باوجود آپؒ نے علم سے رشتہ نہیں توڑا اور درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپؒ ظاہری علوم کے اکتساب اور باطنی تربیت کی تکمیل کے بعد اصلاح و ارشاد کی طرف متوجہ ہوئے۔ اورساتھ ساتھ درس وتدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بغداد کی پوری آبادی آپؒ کے دروس سے مستفید اور مستفیض ہوتی تھی۔ بڑے بڑے بادشاہوں کا رعب اور دبدبہ آپؒ کے سامنے ہیچ تھا۔ بادشاہ، وزراء اور بڑے بڑے حکام بھی نیاز مندانہ آپؒ کے درس میں شامل ہوتے تھے۔ آپؒ کے خطبات و مواعظ لوگوں کے دلوں پر براہِ راست اثر کرتے تھے۔ آپ لوگوں کے باطن سے واقف ہو کر ان کی عقل کے مطابق وعظ فرمایاکرتے تھے۔ آپؒ نے اپنی پوری زندگی مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری۔ آپؒ صاحب کرامت بزرگ تھے۔ آپؒ کی کرامتوں کی کثرت پر مورخین کا اتفاق ہے۔
نوے سال کی عمر میں آپؒ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ آپؒ کے مواعظ وخطبات میں جو تعلیمات ملتی ہیں ان میں آپؒ نے لوگوں کو سب سے پہلے علم سیکھنے کی طرف مائل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپؒ علم نے پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ اسی طرح آپؒ نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر زیادہ زور دیا کہ جو شخص اپنے آپؒ کو مسلمان کہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکمل طور پر اسلا م میں داخل ہو، محض زبانی کلامی اسلام کا دعویدار نہ بنے۔ ایک وعظ میں آپؒ نے فرمایا: ”یا تو اسلام کی جملہ شرائط کا پابند رہ ورنہ یوں مت کہہ کہ میں مسلمان ہوں۔ اسلام کی شرائط بجا لاؤ اور اسلام کی حقیقت یعنی حق تعالیٰ کے سامنے گردن جھکانے اور سب کچھ اس کے حوالے کر دینے کو اختیار کرو۔“ (مواعظ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی)
انسان کی پیدائش کا مقصد
آپؒ نے فرمایا: ”صاحبو! حق تعالیٰ کے ساتھ معاشرت کو عمدہ بناؤ اور اس سے ڈرتے رہو، اس کے احکام کی تعمیل کرتے رہو کہ اس نے تمہیں اپنے حکم کی تعمیل ہی کا مکلف بنایا ہے“۔ (ایضاً)
اللہ کی اطاعت
اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے متعلق آپؒ نے فرمایا: ”بیدار ہو جاؤ اس سے پہلے کہ اپنے اختیار کے بغیر بیدار ہوگئے۔ دین دار بنو اور اہلِ دین سے میل جول رکھو کیونکہ حقیقت میں آدمی وہی ہیں۔ سب سے زیادہ عقل مند وہ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے، اور سب سے زیادہ نادان وہ ہے جو اس کی نافرمانی کرے“۔ (ایضاً)
اتباع سیرت النبیؐ
آپؒ نے قرآن کے ساتھ ساتھ سنت پر بھی عمل کرنے کا حکم دیا۔ آپؒ نے فرمایا: ”قرآن پر عمل تمہیں قرآن کے نازل فرمانے والے کے پاس لے جاکر کھڑا کر دے گا، سنت پر عمل پیغمبر اسلام سیدنا محمدؐ کے حضور میں لے جاکر کھڑا کردے گا“۔ آپؒ نے مزید فرمایا: ”جنابِ رسول کریمؐ کے ساتھ اپنے انتساب کو صحیح کرو۔ آپؐ کی اتباع جس کے لیے صحیح ہو جاتی ہے، اس کا انتساب بھی صحیح ہو جاتا ہے۔ اتباع کے بغیر تمہارا یہ دعویٰ کہ میں آپؐکا امتی ہوں‘ تمہارے لیے مفید نہیں ہوگا۔ جب تم آپؐ کے اقوال و افعال میں آپؐ کے متبع بن جاؤ گے تو آخرت میں تمہیں آپؐ کی مصاحبت نصیب ہو گی“۔
عمل کیلئے علم ضروری
آپؒ نے اپنے خطبات میں عمل کیلئے علم کو ضروری قرار دیا۔آپؒ نے فرمایا: ”تجھ پر افسوس ہے! تو اللہ تعالیٰ کی عبادت بغیر علم کے کرتا ہے۔ زُہد بھی علم کے بغیر اور دنیا کمانا بھی علم کے بغیر حجاب در حجاب ہے، غصہ در غصہ ہے۔ نہ تجھے بھلائی اور برائی میں امتیاز ہے، نہ اپنے مفید اور مضر میں فرق کرتاہے، اور نہ اپنے دوست اور دشمن کو پہچانتا ہے، اس کی وجہ تیری حکمِ خداوندی سے ناواقفیت اور مشائخ کی خدمت کو چھوڑنا ہے۔ علم اور عمل کے مشائخ ہی تجھے حق تعالیٰ کا راستہ دکھاتے ہیں“۔
حصولِ علم اور عزلت نشینی
آپؒ نے حصول علم کو مومن کی علامت بیان کیا۔ آپؒ نے فرمایا: ”مومن وہ ہے جو سب سے پہلے بقدرِ واجب علم حاصل کرے، اس کے بعد مخلوق سے یکسوئی اختیار کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں خلوت نشین بنے“۔ آپؒ نے مزید فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا کہ فقہ حاصل کرو اور اس کے بعد عزلت نشین بنو۔ یعنی اوّل ظاہری فقہ حاصل کرو، اس کے بعد باطنی فقہ کی تحصیل میں عزلت اختیار کرو، ظاہرِ شرع پر عمل کرتے رہو یہاں تک کہ یہ عمل تمہیں اس عمل تک پہنچا دے جو تم نے نہیں سیکھا۔ ……یہ ظاہری علم نور ہے ظاہر کا اور باطنی علم نور ہے باطن کا۔ جتنا تم اپنے علم پر عمل کرو گے اس قدر حق تعالیٰ کی طرف تمہارا راستہ قریب ہو گا۔ اور تمہارے اور حق تعالیٰ کے درمیان دروازہ کشادہ ہوتا جائے گا۔ اور اس دروازے کے پٹ کھل جائیں گے جو تمہارے لیے مخصوص ہو گا“۔ اس میں آپؒ نے ان لوگوں کا رد بلیغ فرمایا جو علم کو اہمیت نہیں دیتے، صرف گوشہ نشینی اور ترکِ دنیا کو ہی پہلی اور آخری منزل سمجھتے ہیں۔
نیک صحبت اور باطن کا تزکیہ
آپؒ نے اپنے مریدین کو علماء کی صحبت اختیار کرنے کا سبق دیا۔ آپؒ نے فرمایا: ”اندھے پن، جہالت، غفلت اور خراب لوگوں کے ساتھ میل جول مت رکھو بلکہ بصیرت اور علم بیداری کے ساتھ ان سے میل جول رکھو کہ جب ان کی طرف سے ایسی بات دیکھو جو تمہیں اچھی معلوم ہو تو اس کی اتباع کرو اور جب ایسی بات دیکھو جو بُری لگے تو اس سے خود بھی بچو اور ان کو بھی روکو“۔ آپؒ نے جاہل اور بناوٹی صوفیوں کو بھی نصیحت کی کہ صرف صوفی لباس پہننے سے انسان صوفی نہیں بن جاتا بلکہ اس کے لیے سب سے پہلے اپنے باطن کو پاک کرنا ہو گا۔ آپؒ نے فرمایا: ”اے وہ شخص جس نے (صوفی بننے کے لیے) صوف پہن رکھا ہے۔ سب سے پہلے اپنے باطن کو صوف پہنا، اس کے بعد اپنے قلب کو پھر اپنے بدن کو۔ زُہد کی ابتدا باطن سے ہوا کرتی ہے، ظاہر سے باطن کی طرف نہیں ہوتی۔ جب باطن صاف ہو جائے گا تو صفائی قلب، نفس، اعضاء اور لباس تک پہنچ جائے گی، اور تیری حالتوں میں دوڑ جائے گی“۔
پہلے خود عمل کرو!
آپؒ نے متعدد مقامات پر اس بات پر زور دیا کہ کسی کو حکم دینے سے پہلے خود عمل کرو۔ فرمایا: ”پہلے اپنے آپ کو نصیحت کر، اس کے بعد کسی دوسرے کو نصیحت کرنا، خاص اپنے نفس کی اصلاح اپنے ذمے لازم سمجھ اور جب تک تیرے اندر کچھ اصلاح کی ضرورت باقی رہے دوسروں کی طرف مت جھک۔ تجھ پر افسوس ہے کہ خود ڈوب رہا ہے، پھر دوسرے کو کیونکر بچائے گا؟ خود اندھا ہے، دوسرے کا ہاتھ کس طرح تھامے گا؟ لوگوں کا ہاتھ وہی پکڑتا ہے جو بینا ہو اور ان کو دریا سے وہی نکال سکتا ہے جو خود تیرنا جانتا ہو۔ اللہ تعالیٰ تک لوگوں کو وہی پہنچا سکتا ہے جو اس کی معرفت حاصل کر چکا ہو اور جو خود ہی اس سے جاہل ہے وہ کیونکر اس کا راستہ بتا سکتاہے؟“
حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ آپؒ علم وفضل کے آفتاب وماہتاب تھے۔ آپؒ کی تعلیمات نہایت فکر انگیز ہیں۔ آپؒ کے خطبات اور مواعظ علم وحکمت سے بھر پور ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی شخصیت علمی حوالے سے متعارف نہیں کروائی جاتی۔ آپؒ کا تعارف محض ایک صاحبِِ کرامت بزرگ کی حیثیت سے کروایا جاتاہے۔ آپؒ کے عرس کے سلسلے میں منعقد ہونے والی محافل و مجالس میں آپؒ کی کرامات بیان کی جاتی ہیں۔ سامعین کرامات سن کر محظوظ تو ہو جاتے ہیں لیکن آپؒ کی تعلیمات سے کچھ سبق نہیں لے پاتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؒ کی کرامات کے واقعات بھی دل واذہان کو جلا بخشتے ہیں لیکن موجودہ دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مجالس ومحافل میں حضرت غوث الثقلینؒ کی تعلیمات کو بھی روشناس کرایا جائے۔ لوگوں کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف راغب کیا جائے۔ فرائض و واجبات کی ادائیگی پر رغبت دلائی جائے، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ دلایا جائے اور علم کی طرف راغب کیا جائے تاکہ لوگ جہالت کی تاریک گھٹاؤں سے نکل کر علم کے نور سے منور ہوں۔

Leave a Reply

Back to top button