روشنی

تعلیماتِ نبوی ؐ اور وعدے کی پابندی…… سید احمد ثقلین حیدر

اعلیٰ اخلاقی اوصاف مضبوط اور اجلے کردار کی دلیل ہوتے ہیں۔ زہد و قناعت، صدق و اخلاص، ایثار و محبت، تحمل و بردباری، عجز و انکساری، عفو و درگزر اور ایفائے عہد وہ صفات ہیں جن سے کسی انسان کی سیرت و کردار کو پرکھا جاتا ہے۔ ایفائے عہد یعنی وعدے کو پورا کرنا اخلاق حسنہ کی ایک اہم شاخ ہے۔ اچھے اخلاق کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ ؐ نے فرمایا کہ اسلام کی میزان میں حسن اخلاق سے زیادہ گراں کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے ایمان (منافق) کی تین نشانیاں ہیں: اوّل بات کرے تو جھوٹ بولے، دوم وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، سوم اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کا ارتکاب کرے۔
قرآن مجید اور احادیث نبوی ؐ میں جا بجا سچ بولنے اور وعدہ نبھانے کی تاکید اور جھوٹ بولنے و وعدہ خلافی کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات طیبہ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ دوسرے تمام اوصاف و کمالات اور محامد و محاسن کی طرح ایفائے عہد کی صفت بھی آپ ؐ کی فطرت پاک میں ودیعت کی گئی تھی۔ بعثت ِ مبارکہ سے پہلے کا دور ہو یا اعلانِ نبوت کے بعد کا عرصہ، نبی پاک ؐ نے ہمیشہ اپنے وعدے کو پورا فرمایا چاہے اس کے لیے آپ ؐ کو کتنی مشقت یا تکلیف ہی برداشت کرنی پڑی۔ دنیا کا کوئی بھی شخص نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پاک زندگی کے کسی ایک مرحلے پر بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ آپ ؐ نے کبھی اپنے وعدے کو پورا نہ فرمایا ہو۔ غزوہ ئ بدر کے موقع پر کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم تھی اور مسلمانوں کو اس نازک موقع پر ایک ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ حضور ؐ کے دو صحابی ؓ جو مکہ سے مدینہ آ رہے تھے کفار نے راستے میں ہی ان کو پکڑ لیا اور پھر اس شرط اور وعدے پر رہا کیا کہ وہ لڑائی میں مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔ یہ دونوں صحابی ؓ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے اور سفر کے تمام واقعات آپ ؐ کے سامنے پیش کئے اور پھر عرض کرنے لگے کہ یہ تو مجبوری کا عہد تھا ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مل کر کافروں کے خلاف ضرور لڑیں گے۔ مگر تمام حالات سننے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نہیں تم اپنا وعدہ پورا کرو اور لڑائی کے میدان سے واپس پلٹ جاؤ ہم کو صرف اللہ تعالیٰ کی مدد درکار ہے۔ میدانِ جنگ میں ایفائے عہد کی اس طرح کی اور کوئی مثال سامنے لانے سے تاریخ عاجز ہے۔
عہد کو تین طرح کے درجات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ عہد جو روز ازل سے انسان نے اپنے معبود حقیقی سے باندھا تھا جب مالک ِحقیقی نے انسانی روحوں سے استفہامیہ انداز میں اقرار کرا لیا تھا کہ وہ ان کا رب نہیں ہے؟ تو انہوں نے تسلیم کیا اور جواب دیا تھا کہ بے شک وہی ان کا رَب ہے۔ یہ ایک فطری معاہدہ تھا۔ اب اس حقیقت کو تسلیم کرنے اور اس کا اقرار کرنے کے بعد ہر انسان پر واجب ہو گیا ہے کہ وہ اپنے رَب کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دے۔ رب العزت کے سوا کسی کو اپنا معبود، خالق اور رازقِ حقیقی نہ مانے۔ موت و حیات، عزت و ذلت، بیماری و شفا، ترقی و تنزلی سب کچھ اسی کے ہاتھ میں سمجھے، اسی کی بابت ہم سے آخرت میں یہ پوچھا جائے گا کہ ہم نے اپنے عہد کی کس حد تک پاسداری کی اور اسے کیسے نبھایا؟
پھر دوسرا وہ عہد ہے جو خالق ارض و سما کا نام لے کر کسی بیعت یا اقرار کی صورت میں کیا جاتا ہے اور پھر تیسرا وہ عہد جو روز مرہ زندگی میں ایک انسان کسی دوسرے انسان سے کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف مواقع پر مختلف حیثیتوں میں جب ایک انسان کسی دوسرے شخص سے کوئی عہد و پیمان کرتا ہے تو اسلام اس کو پورا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ خود رَب العزت کی یہ شان کرم ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرتا ہے، کبھی وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی کرے گا کیونکہ اس سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے اور نبھانے والا کون ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے بندے بھی وعدہ خلافی کریں۔
جو بھی انسان اپنے مالک کی معرفت اور اس کی بارگاہ تک رسائی چاہتا ہے، اس کو سچ کی راہ اختیار کرنی پڑے گی، اپنے عہد کو نبھانا ہو گا کیونکہ اس پر عمل کر کے ہی وہ اپنے رَب کی رضا اور خوشنودی حاصل کر سکتا ہے۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہر خطبہ میں یہ ضرور فرمایا کرتے تھے کہ ”جس میں عہد نہیں اس میں دین نہیں“۔ حضور ؐ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے ان الفاظ کی قدر و قیمت کا آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ وعدے کی پابندی کا اسلام اور اخلاقیات میں کیا درجہ ہے۔ حضرت عبداللہ ابی الحمساء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اعلان نبوت سے قبل حضور ؐ سے کچھ خرید و فروخت کی۔ کچھ رقم آپ ؐ کی میرے ذمہ باقی رہ گئی۔ میں نے وعدہ کیا کہ ابھی اس جگہ لے کر آتا ہوں مگر گھر آ کر میں یہ بات بھول گیا۔ تین دن بعد مجھے یاد آیا تو میں رقم لے کر واپس اس جگہ پہنچا تو دیکھا کہ رسالت مآب ؐ اسی جگہ پر انتظار فرما رہے ہیں۔ آپ ؐ نے کوئی سخت بات کہے بغیر صرف اتنا فرمایا کہ ”تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا، میں یہیں تین دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں“۔
اس ایمان افروز واقعہ کی روشنی میں آج ہم اپنے احوال و اعمال کا جائزہ لیں تو حقیقت خود بخود عیاں ہو جائے گی کہ آج ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے امتی کس موڑ پر کھڑے ہیں۔ وعدہ خلافی کی عادت ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے اور ہم یہ نہیں سوچتے کہ وعدے کی پابندی نہ کرنے والے شخص کی زبان پر سے لوگوں کا اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی شخصی وجاہت اور اس کا وقار ختم ہو جاتا ہے، اس کے کردار کا شیشہ دھندلا ہو جاتا ہے۔ حضرت ابو رافع ؓ فرماتے ہیں کہ اہل مکہ نے مجھے سفیر بنا کر بارگاہ رسالت مآب ؐ میں بھیجا۔ یہاں پہنچ کر میں حضور ؐ کے اخلاق کریمانہ کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا لہذا میں نے حضور ؐ کی خدمت میں ہی ٹھہر جانے کی خواہش ظاہر کی مگر آپ ؐ نے فرمایا کہ ایسا ہرگز ممکن نہیں کیونکہ نہ تو ہم عہد شکنی کرتے ہیں اور نہ ہی قاصدوں کو روکتے ہیں لہذا تم واپس جاؤ۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے اہل بیت ؓ اور صحابہ کرام ؓ کو بھی وعدوں کو پورا کرنے کی ہدایت فرمائی۔ حضرت سیدنا علی المرتضیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ مرد کا کامل استقلال ہے کہ باوجود غصہ اور رنج کے وعدہ پورا کرے۔ یعنی انسان کسی بھی حال میں مبتلا ہو مگر اس کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ وہ اپنے عہد پر پورا ترے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے کہ اس بات کا وعدہ کرو جسے پورا کر سکتے ہو یعنی جو چیز اس کے دائرہ اختیار میں نہیں اس کا وعدہ کرنا بھی مناسب نہیں۔ اللہ کے نیک اور مقرب بندوں کی یہ ایک بڑی پہچان ہوتی ہے کہ وہ اپنے وعدے پر عمل کرتے ہیں۔ ایک سچے مومن کی شان یہی ہوتی ہے کہ چاہے سمندر اپنا رُخ پھیر لیں یا پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر وہ اپنے وعدوں پر پورا اتر کر دوسروں کے لیے ایک روشن اور قابل تقلید مثال بن جاتا ہے۔
سلسلہ روحانیت میں اہم مقام کے حامل بزرگ حضرت معروف کرخی ؒ تجارت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ ؒ نے ایک شخص سے 60 دینار میں بادام فروخت کرنے کا سودا طے کیا مگر کچھ لمحوں بعد ہی ایک شخص نے انہی باداموں کی قیمت 90 دینار لگا دی مگر آپ ؒ فرمانے لگے کہ اگر میں نے اپنے عہد کا پاس نہ کیا تو کل اپنے رَب کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اسی طرح حضرت شیخ ابو سلمان ؒ نے کسی شخص سے دو روز بعد اس کے گھر جانے کا وعدہ فرمایا مگر وقت مقررہ پر بخار نے آن لیا اور قوت و ہمت جواب دے گئی تو خادموں سے فرمایا کہ میری چارپائی اٹھا کر وہاں لے چلو کہ کہیں میرا نام وعدہ خلافی کرنے والوں کی فہرست میں نہ لکھ لیا جائے۔
ہمارے اسلاف اور بزرگان کی یہ روایات بڑی حیات آفریں بھی تھیں اور چشم کشا بھی! کہ وہ کسی مالی منفعت یا کسی بھی نقصان کی پرواہ کئے بغیر وعدے کو پایہ ئ تکمیل تک پہنچایا کرتے تھے مگر آج عام لوگ تو کجا دین کی علامت سمجھے جانے والے حضرات بھی کسی سے پیچھے نظر نہیں آتے حالانکہ ارشاد ہے کہ ”اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو جو نہیں کرتے“۔ آج جب ہم وعدہ پورا نہیں کر سکتے تو پھر مختلف قسم کے بہانے ڈھونڈنے لگتے ہیں، مختلف تاویلیں گھڑنے لگتے ہیں مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ سچی زبان اور پکا وعدہ ہی ہماری شخصیت کا ترجمان ہے۔ وعدہ خدا سے ہو یا مخلوق ِ خدا سے، پورا کرنا حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنا ہے اور اسی کو مجتمع کرنے کا نام دین ہے۔ اب جو اس عہد کو پورا نہیں کرتا نہ صرف وہ دین کی روح سے محروم بلکہ اعلیٰ اخلاق سے بھی عاری ہے۔

Leave a Reply

Back to top button