کالم

تعمیر و ترقی کا خواب

قطر ایئر ویز کا طیارہ اپنی منزل کی طرف اڑا جا رہا تھا۔ میں دو تین روز کا جاگا ہوا تھا۔ اس لیے نیند سے آنکھیں بوجھل تھیں۔ میرا بریف کیس اور ہینڈی بیگ میری نشست کے ساتھ ہی رکھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایئر ہوسٹس نے کہا سر بریف کیس اوپر کیبن میں رکھ دوں۔ میں نے کہا لاک نہیں ہے۔ سارے ڈاکومنٹس اسی میں ہیں۔ جواب ملا ’’ضرورت نہیں ہے‘‘ اور اس نے بریف کیس اٹھا کے کیبن میں رکھ دیا۔ میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھے مسافر نے کہا شاید آپ قطر پہلی مرتبہ جا رہے ہیں۔ ایئر ہوسٹس ٹھیک کہہ رہی تھی۔ جہاں آپ جا رہے ہیں وہاں تو بیشتر لوگ گھروں کو تالے نہیں لگاتے۔ قطر ان دنوں تعمیر و ترقی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ وہاں کے حکمران اسے مستقبل کا دبئی بنانا چاہتے ہیں۔ 2050ء کے حوالے سے ان کے ذہن میں انتہائی ترقی یافتہ ملک کا نقشہ ہے۔
نئی عمارتوں اور نئی رہائشی کالونیوں کی تعمیر، نئے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر شہریوں کے لیے تعلیم صحت اور روزگار کی فراہمی۔ ڈیڑھ ماہ کے قیام کے دوران مجھے کہیں پولیس ناکہ نظر نہیں آیا اور نہ ہی کسی چوک میں ٹریفک پولیس کا سپاہی نظر آیا۔ میں نے رات اڑھائی تین بجے بھی جب سڑکوں پر مکمل سناٹا ہوتا ہے۔ شہریوں کو ٹریفک سگنل کی پابندی کرتے دیکھا۔ ایک بات جو میں نے محسوس کی وہاں واقعتا بیشتر گھروں کے گیٹ پر رات کو بھی تالے نہیں لگاتے تھے۔ گنجان آبادی کا میں کہہ نہیں سکتا۔ نئی اور کھلی آبادیوں کی صورت حال کچھ اسی قسم کی تھی۔ لوگوں کا اپنے سسٹم پر مکمل بھروسہ ہے کہ یہاں چوری اور ڈکیتی نہیں ہو سکتی۔ آدھی رات کو بھی خواتین بلا خوف سفر کر سکتی ہیں۔ پورے ڈیرھ ماہ کے قیام کے دوران مجھے اخبارات میں جرم کی ایک ہی خبر نظر آئی۔ وہ بھی کوئی آٹھ سال پرانے مقدمے کے حوالے سے تھی۔۔۔ مجھے وہاں کے تعلیمی بورڈ کے دفتر میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ میرا میزبان مجھے بتا رہا تھا کہ تیس چالیس پیشتر تعلیمی حوالے سے قطر کی صورت حال بڑی پست تھی۔ لٹریسی ریٹ انتہائی مایوس کن تھا۔ بیشتر اہم شعبوں کے لیے بیرون ملک سے تعلیم یافتہ لوگ منگوانے پڑتے تھے۔ مگر پڑھا لکھا قطر وہاں کے حکمران شیخ حمد بن خلیفہ ال تھانی کا خواب تھا۔ وہاں کی مقامی آبادی کے لوگ اپنے بچوں کو بھیڑ بکریاں چرانے یا دیگر کاموں پر لگا دیتے تھے تا کہ انہیں کوئی آمدنی ہو سکے۔ حمد بن خلیفہ ال تھانی نے ان کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے تعلیمی ادارے قائم کیے جہاں مفت تعلیم کا بندوبست تھا۔ مگر جب مقامی لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوئے تو تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے وظیفے کا اعلان ہوا۔ وہ وظیفہ کم از کم اتنا ضرور تھا جتنا بچے محنت مزدوری سے کما کر والدین کو دیتے تھے۔ اس پر والدین بچوں کو سکول داخل کرانے پر راضی ہوئے۔ جن لوگوں کے جتنے زیادہ بچے سکول میں داخل ہوتے انہیں اتنازیادہ وظیفہ ملتا۔ بعض والدین نے اسی وظیفے پر گزر اوقات شروع کر دی۔ کئی دفعہ تو والدین نے ہڑتال کر دی اور بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کر دیا۔ مطالبہ کیا کہ بچوں کے وظیفے میں اضافہ کیا جائے۔ جو وظیفہ دیا جا رہا ہے اس سے ہمارے خاندان کی کفالت نہیں ہوتی۔ چنانچہ خلیفہ کو متعدد مرتبہ اس وظیفے میں اضافہ کرنا پڑا۔ یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک جاری رہا ہے۔ نتیجتاً آج وہاں کی مقامی آبادی کا لٹریسی ریٹ اس وقت 94.72فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ یہ تعلیمی استعداد سائنس، طب ، آئی ٹی اور ہر حوالے سے ہے۔ اب وہ تعلیمی حوالے سے خود کفالت کی منزل تک پہنچ چکے ہیں۔ انہیں اساتذہ باہر سے درآمد نہیں کرنے پڑتے۔ وہ اپنا تعلیمی نظام خود چلا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں بھی مقامی آبادی سے خصوصی رعایت برتی جاتی ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا جو تصور پیش کیا جاتا ہے، وہاں کے حکمران اسے ایسا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاطیر محمد کو ان کی قوم ہمیشہ اس لیے یاد رکھے گی کہ انہوں نے ایک بکھری قوم کو یکجا کیا اور قلیل عرصے میں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ان کا شمار دنیا کے ان حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مرضی سے اقتدار اور سیاست سے علیحدگی اختیار کی۔ ان سے ایک بار کسی نے سوال کیا کہ آپ نے ملائیشیا کو ترقی کی راہ پر کیسے ڈالا۔ انہوں نے جواب دیا ’’میں نے بنیادی طور پر تین شعبوں میں کام کیا۔۔۔ وہ شعبے صحت، تعلیم اور روزگار کے ہیں۔ میں بیمار ہوا تو ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ میرا علاج بیرون ملک ہو گا۔ میں نے باہر جانے سے انکار کر دیا۔ میں سمجھتا تھا کہ میرے وطن کے تمام شہریوں کا اپنے وطن میں علاج ہوتا ہے تو میرا کیوں نہیں ہو سکتا۔ اپنے علاج کے دوران مجھے جن خامیوں اور کمیوں کو جاننے کا موقع ملا، ہم نے انہیں دور کیا۔ جدید طبی سہولیات کا انتظام کیا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب پوری دنیا سے علاج کی غرض سے لوگ ملائیشیا آنے لگے۔ یہی صورت حال تعلیم کے شعبے کی تھی۔ میں نے دوہرے تعلیمی نظام کو ختم کیا۔ میرے بچے اور عام شہری کے بچے ایک ہی سکول میں ایک ساتھ ایک جیسی تعلیمی سہولیات سے مستفید ہو سکتے تھے۔ سکول سے یونیورسٹی تک تعلیمی نظام کو درست کیا۔ پھر وہ وقت آیا جب ہمارے طلباء اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک جانے کے بجائے اپنے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے لگے۔ دنیا کے دیگر ممالک سے طلباء سائنس اور آئی ٹی کی تعلیم سے ملائیشیا کے تعلیمی اداروں میں داخل ہونے لگے۔ اسی طرح روزگار کا مسئلہ تھا۔ ہمارے اپنے شہریوں خصوصاً نوجوانوں کو بے روزگاری کا سامنا تھا۔ بیروزگاری کے خاتمے کے لیے ہم نے تعمیرات کے شعبے سے کام کا آغاز کیا۔ اسی ایک شعبے کی بدولت ہمیں ہر قسم کی انڈسٹری یہاں ڈویلپ کرنا پڑی۔ رفتہ رفتہ یہ حالت ہو گئی کہ ہماری اپنی افرادی قوت کم پڑنے لگی۔ پھر ہمیں بیرونی دنیا سے افرادی قوت امپورٹ کرنا پڑی۔ اب ملائیشیا میں ہر سال روزگار کی تلاش میں لوگ آنے لگے۔ یہ وہ تین شعبے تھے جن کے استحکام کے لیے ہم نے خلوص دل سے کام کیا اور ملائیشیا ترقی کی راہ پر چل نکلا۔ میں سمجھتا ہوں اگر کوئی حکمران ایمانداری اور خدمت کے جذبے کے تحت جدوجہد کرتا ہے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے مگر اس کے لیے آرام اور تعیش کی قربانی دینا پڑتی ہے۔
آج ہمارے ہاں لیپ ٹاپ کی تقسیم سے تصور کیا جاتا ہے کہ تعلیمی ترقی کا دور شروع ہو گیا جب کہ دیکھا جائے تو دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں کتنے بچے ہیں، جو آج بھی بھیڑ بکریاں چراتے ہیں۔ جہاں سکول کی سہولیات میسر نہیں۔ سکول ہے تو اساتذہ نہیں۔ اساتذہ ہیں تو کتابیں نہیں۔ یہی بنیاد ہے۔ جس پر جیسی عمارت تعمیر ہو گی ویسی ہی نظر آئے گی۔ ’’اصل اسی بنیاد کو ٹھیک کرنے اور تعمیر کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ کسی فلاحی مملکت کی بنیاد بھی یہی ہے۔ جنوبی افریقہ اور تیسری دنیا کے عظیم سیاسی رہنما نیلسن منڈیلا کا کہنا ہے غریب کو بھیک نہ دیں اسے صرف انصاف دیں۔ جب انصاف دیں گے تو اسے سب کچھ مل جائے گا۔

Leave a Reply

Back to top button