سیلف ہیلپ

تقریر یا پریزنٹیشن کا خوف…… سید ثمر احمد

دنیا کی آج تک کی ساری ترقی ابلاغ کی وجہ سے ہے۔ خدا نے بھی اسے اپنی بہت بڑی نعمت کے طور پہ گنوایا۔ اپنے ابدی پیام کو کہا ”ھذا بیان للناس“۔ انسان پیغام ہی نہ پہنچا سکتا، آئیڈیاز ہی شئیر نہ کر سکتا تو سب تخلیقیت دھری کی دھری رہ جاتی۔ ابلاغ ممکن نہ ہو یا مکمل طور پہ نہ ہو…… ہر دو صورتوں میں نقصان یہ ہے کہ میسیج ادھورا رہ جاتا ہے، جس کا نتیجہ غلط فہمی کی صورت میں نکلتا ہے۔ مطلوبہ نتائج نہیں ملتے اور ناکامی سہنی پڑتی ہے۔ اس لیے کمپنیز اور ادارے خود کو متعارف کروانے کے لئے اپنے بہترین لوگ بھیجتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست جو بہت اچھے پریزنٹر ہیں اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں بھی تین میں سے ایک کے طور منتخب ہوئے ہیں۔ ان کو ایک بڑے بزنس مین نے گھر آکے آفر کی کہ ایک کروڑ تمہیں مل جائیں گے۔ ایک پراجیکٹ کو کھینچ کے پاکستان لانا ہے۔ اور تمہارا کام یہ ہے کہ میری نمائندگی کرتے ہوئے پریزنٹیشن دینی اور ٹیبل ٹاک کرنی ہے۔ گفتگو کسی بھی آغاز کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ غالباََ سقراط کے پاس کوئی قیمتی کپڑوں میں غرور سے اِٹھلاتا ہواآیا تو اُس نے بغیر متاثر ہوئے کہا کہ ’کچھ بولیے تاکہ آپ کتنے مہذب ہیں، ہمیں اندازہ ہو۔ آئیں سنتے ہیں:
کہانی، پہلی تقریر کی……
ہال بھرا ہوا تھا۔ وہ پہلی دفعہ تین، چار سو لوگوں کا سامنا کر رہا تھا۔ مائیک اپنے سٹینڈ کے ساتھ حاضرین کے سامنے تھا، جس کے سامنے ڈائس نہیں تھا۔ ڈائس ’بہت کچھ‘ چھپا لیتا ہے۔ یہ اس کی پہلی تقریر تھی۔ وہ پانچویں کلاس کا طالبِ علم تھا۔ اتنے مجمع اور پہلی دفعہ کے دباؤ کے باعث اسے بخار چڑھ گیا۔ چاہا کہ چھٹی کر لی جائے۔ سکول سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہمت بندھانے کے بعد کہا کہ آنا تو ضروری ہے……آسمان پہ بادل سجے تھے اور بارش بھی صبح صبح ہو چکی تھی۔ موسم ٹھنڈا تھا لیکن اس کا اندر گرم، وہ کمیونٹی سنٹر کی طرف دھڑکتے دل کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ پروگرام شروع ہو گیا……نعتیں، ترانے اور تقریریں ہوئیں مگر وہ خود کے دباؤ میں گم، یہاں تک کہ جس سے ڈر رہا تھا وہ لمحہ بھی آگیا۔ اس کا نام پکارا گیا اور وہ ایک لمبے صفحہ پہ لکھی ہوئی تحریر لے کے بظاہر پراعتماد دِکھنے کی اداکاری کرتا ہوا مائیک تک چلا۔ لیکن اس کا چہرہ سِٹی گم ہونے کی چغلی کھا رہا تھا۔ تقریر بھی زبانی یاد نہ کر سکا تھا۔ دل تھا کہ بھاگ جائے یا یہ لمحات یہاں سے غائب ہو جائیں ……تقریر شروع کی گھبراہٹ، مریل آواز، لرزتی ٹانگیں سبھی کچھ…… سب کو نظر آرہا تھا۔ پریشر کی وجہ سے ہلکے سے کاغذ کا بوجھ بھی ہاتھ نہ سہار سکے۔ پرچہ پیروں میں گر پڑا جسے اس نے اٹھایا۔ بے دلی سے پڑھا، تقریر ختم ہوئی۔ تالیاں بجیں۔ ’جان بچی سو لاکھوں پائے‘۔ اور اس نے آئندہ کے لیے توبہ کی……
کہانی، دوسری تقریر کی……
7سال گزرگئے لیکن اس نے مُڑ کے تقریر کے لیے سٹیج کا رخ نہ کیا۔ اب وہ سیکنڈ ایئر میں آچکا تھا اور کالج سٹوڈنٹ تھا۔ ہم نصابی سرگرمیوں میں نمایاں ہونے کی وجہ سے اسے پھر سے تقریر کو کہا گیا۔ اس نے ٹالا۔ لیکن اساتذہ کو زیادہ دیر انکار نہ کر سکا۔ استاد کے سامنے اپنے خوف اور جھجھک کا بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ بس ’تم نے اونچا اونچا بولتے جانا ہے۔‘پروگرام کا دن آیا اور وہ ڈائس پہ آیا۔ پھر ایک مجمع سامنے تھا۔ جس میں Hooters بھی تھے۔ اس نے کہنا شروع کیا اور دو چار لائنوں کے ساتھ ہی اونچا بولنا شروع کر دیا۔ پھر بولتا گیا، آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ تقریر ختم ہوئی۔ نتیجہ سامنا آیا اور……وہ تیسرے نمبر پہ تھا۔ حیران تھا۔ یہ اس کا ہیلی پیڈ تھا جہاں سے:
پرواز شروع ہوئی……
پھر کالج اور یونیورسٹی، شہر اور صوبہ کی تقریبات۔ اس کا اعتماد بڑھتا گیا۔ وہ طلبا کے ایک ہونہار، محبِ وطن اور مثبت گروہ کا حصہ بن گیا۔ پھر یہ کہا جانے لگا کہ اس شہر میں اس جیسا لفّاظ کوئی دوسرا نہیں۔ الفاظ اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔ وہ فی البدیہ بولتا اور لوگ دَم سادھے سنتے۔ سامعین درجنوں او ر سینکڑوں سے ہوتے ہوئے ہزاروں تک پہنچ گئے۔ وہ ہر جگہ ابلاغ کے جھنڈے گاڑتا چلا گیا۔ اپنی صلاحیت کا اُسے مکمل ادارک حاصل تھا اور وہ اِسے استعمال بھی خوب کیا کرتا……اب وہ زندگی کے پروفیشنل مرحلہ میں داخل ہوا۔ اور وہاں بھی بیسٹ پیش کار (Presenter)چنا گیا۔ یہاں وہ مرکزی اہمیت لیے ہوئے سامنے آیا اور سرگرم سماجی زندگی میں بھی۔ وہ جب چاہتا مجمع کو جذباتی کر دیتا، جب چاہتا رُلادیتا اور جب چاہتا ہنسا دیتا۔ لوگ پوچھتے کہ آپ جیسا ہم کیسے بول سکتے ہیں اور کہیں اندر بیٹھا ہوا نفس سہمے سہمے پھول جاتا۔ کبھی عاجزانہ طور پہ وہ انکار کر دیتا، کبھی مسکرا دیتا لیکن پھر وہ وقت بھی آیا کہ:
ہونٹ سِل گئے، رکاوٹیں ……
تمام شان دار پریزنٹیشن اور کامیاب تقریروں کے بعد اور ان کے خوش گوار اثرات سمیٹنے کے بعد بھی اس کا دل سکون محسوس نہیں کرتا تھا۔ وہ اکتانے لگا۔ زبان بند ہونے لگی۔ بولتے بولتے اٹک جاتا، بھول جاتا۔ اب وہ کترانے لگا۔ کوئی بلاتا تو کوشش ہوتی کہ ٹل جائے۔ ایسا کیوں ہوا تھا، یہ جملہءِ معترضہ ہے، پر سُن لیجیے۔ وہ ذمہ داری محسوس کرنے لگا تھا……اسے پتا چلا کہ ہر بولے گئے لفظ کے اپنے یقینی اثرات ہوتے ہیں، مثبت یا منفی، جو جلد یا بدیر برآمد ہوتے ہیں۔
٭ وہ بولتے بولتے سوچنے لگتا کہ کوئی نقصان دہ لفظ نہ نکل جائے اور اٹک جاتا، بھول جاتا۔
٭ ڈر لگتا کہ دل ریا کا شکار نہ بن جائے اور یہ بول اس کے خلاف نہ پڑ جائیں۔
٭ بیان کی فصاحت برقرار رہے، لفظ دھرائے نہ جائیں تاکہ مؤثر ہو سکیں۔ اور فصاحت ٹوٹ جاتی۔
٭ تسلسل بنا رہے تاکہ سامعین کی توجہ نہ بٹے اور تسلسل ٹوٹ جاتا۔
٭ تقریر یا پریزنٹیشن کا Flow باقی رہے اور نہ رہتا۔
٭ سوچتا کہ بڑے لوگوں کی موجودگی میں میری بات کی کیا اہمیت ہو سکتی ہے اور روانی کھو بیٹھتا۔
٭ رک یا بول نہ سکنے کی وجہ سے لوگوں کے مسکرانے سے ڈر جاتا پر لوگ کہاں رکتے ہیں ……وہ حساس دل کا مالک بنایا گیا تھا۔ جو دوجوں کے لیے اہم نہ ہوتا اِس کے دل پہ لگتا۔ اس نے ان مختلف مسائل کی وجہ سے دیکھیں لوگوں کی:
عجیب عجیب حرکتیں ……
لوگ اس اعتماد کے ختم ہو جانے کی وجہ سے اپنی پریزنٹیشن میں فضول ہنسنے لگتے۔ ایئر کنڈیشنر کے باوجود پسینے میں بھیگ جاتے۔ بھول جاتے۔ کپڑوں سے کھیلنے لگتے۔ ہاتھوں کو بے وقوفوں کی طرح ہلاتے۔ ٹانگیں کانپتیں۔ الفاظ نہ نکلتے، ہکلاتے اور بھی بہت کچھ کرتے یعنی اعتماد کا دھڑن تختہ ہو جاتا…… اب حل نہیں مل رہا تھا کہ کیا کرے جس میں شرحِ صدر ہو اور ضروری و مجبوری میں کی گئی تقریر یا پیش کاری بھی نتائج دے سکے۔ اسی راستے میں اسے واصف کا ایک جملہ بھی ملا کہ ”دنیا میں تم جیسا دوسرا کوئی نہیں“۔ تم منفرد ہو، اکلوتے ہو۔ خدا کی ’ایک ہی‘ تخلیق ہو۔ دنیا میں کوئی دوسری مثال تمہاری نہیں۔ اور یہ خدا کی حیران کن تخلیقی عبقریت ہے۔ اسے بہت اعتماد اس ایک جملہ نے بخشا۔ دوسروں تک پہنچایا تو انہوں نے بھی بڑا فائدہ اٹھایا…… آخر کار اسے وہ راز مل گیا جو سیلف ہیلپ کی کتابوں اور دنیا کے کامیابی کے لٹریچر میں نہیں ملا تھا:
راز آشکار ہوتا ہے……
اب وہ ہر دو انتہائیں دیکھ چکا تھا۔ ساری روانی اور ساری جھجھک کے بعد بھی کوئی کلیہ تھا جو اس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا۔ وہ اپنی پُرتجسس طبیعت کی وجہ سے اُس نکتہ کو کھوجنے لگا ہوا تھا۔ کہتے ہیں ناں کہ Chances favor those who are prepared…… تو خیال کا کوندا ہی بس لپکتا ہے اور اسے وہیں پکڑنا ہوتا ہے۔ ورنہ وہ ریت کی طرح ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ تو وہ کوندا لپکا۔ خوش قسمتی سے اس نے پکڑ لیا۔ وہ راز جو اپنی ہائیر ایجوکیشن کے باوجود، لاکھوں لینے کے باوجود یونیورسٹیز بھی نہ بتا سکی تھیں، اسے مل گیا۔ اور وہ تھا کہ تقریر کرتے ہوئے تقریر نہ کرو، پریزنٹیشن دیتے ہوئے پریزنٹیشن نہ دو…… ہیں ں ں یہ کیا عجیب بات ہے۔ پھر کیا کریں؟ چپ چاپ خاموشی جھاڑ کے چل دیں؟ نہیں ……تقریر نہ کرو، پریزنٹیشن نہ دو بلکہ……باتیں کرو، گفتگو کرو۔ جیسے ایک دوسرے سے کرتے ہو…… تقریر اور پریزنٹیشن کا ایکسپریشن مصنوعی ہوتا ہے۔ اس نے اِسے حقیقی سے بدلنے کی کامیاب کوشش کی:
٭ جس میں بات دل سے نکل کے دل کو پگھلانے کی تاثیر رکھتی۔
٭ حقیقی موڈ میں ہونے کے باعث اعتماد بحال رہتا۔
٭ سوچنے کا وقت مل جاتا۔
٭ دیکھنے والوں کو بھی مصنوعی پن غائب دِکھتا۔
٭ توجہ سٹائل سے ہٹ کے گفتگو پہ مرکوز رہتی۔
٭ جب روانی حاصل ہو جاتی تو تقریر یا پریزنٹیشن کا سٹائل بھی آجاتا جو فطری ہوتا۔
تو قارئین آپ کو بھی یہ ملین ڈالر ٹِپ سیکھنے کے لیے ہزاروں، لاکھوں خرچنے کی ضرورت نہیں۔ اس کہانی میں ہم نے آپ سے وہ راز بانٹنے کی کوشش کی ہے۔ کوئی الجھن ہو تو لکھ بھیجیے۔ ……اس کہانی کا مرکزی کردار میں ہوں۔ یہ کہانی میری ہے۔
اپنے نفسیاتی، معاشرتی، روحانی، انفرادی، اجتماعی مسایل میں مشاورت کے لیے نئی بات کو لکھیے یا ای میل کیجیے۔ syyed.wrtier@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button