انٹرویوز

تمام علوم فلسفے ہی سے پیدا ہوتے ہیں…… ڈاکٹر عطیہ سید

ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار، فلسفی اور ماہر اقبالیات کا راجا نیئر سے مکالمہ
قارئین! اردو زبان ادب سے وابستہ سبھی اہل قلم اور پڑھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عطیہ سیّد بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں۔ ماہر اقبالیات اور ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صاحبہ ناول نگار بھی ہیں اور فلسفی بھی۔ اُن کی کہانیوں میں صرف برصغیر ہی نہیں پوری دنیا کے انسان کی زندگی کی مکمل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ اپنی کہانیوں کے کرداروں کے ساتھ گہرے شعوری و باطنی ربط کے ساتھ ہر منظر میں موجود دکھائی دیتی ہیں، یوں لگتا ہے کہ وہ ان کہانیوں میں ظاہر ہونے والے کرداروں کے دکھ، درد، تکالیف و دیگر مسائل تحریر کرنے سے قبل، پہلے خود اُن کو بھوگتی ہیں۔ اپنے وطن اور اہل وطن کے لیے سراپا ہمدرد رہنے والی ڈاکٹر عطیہ سیّد کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ آئیے! آج ان سے کی گئی مختصر گفتگو پڑھیں …… شاید ان کے سچے جذبوں کی روشنی سے ہمارے اذہان و قلوب بھی منور ہو سکیں!
سوال: فلسفہ کیا ہے؟ اور زندگی کے لیے کیوں ضروری ہے؟
جواب: آپ، میں، ہم سبھی پیدائشی طور پر فلسفی ہیں۔ اس لیے کہ ہم سب کا تعلق چاہے کسی بھی پیشے سے ہو، چاہے ہم تعلیم یافتہ ہوں یا غیر تعلیم یافتہ ہوں، چاہے رکشہ چلا رہے ہوں یا پھر کسی ادارے کے CEO ہوں، زندگی کے بارے میں، انسان کے بارے میں، موت کے بارے میں، کائنات کے بارے میں، خدا کے بارے میں، کوئی نہ کوئی تصور ہمارے اندر ضرور موجود ہوتا ہے، صرف یہ تصور مربوط نہیں ہوتا لیکن اسے مربوط اور باقاعدہ بنانا لازمی ہے۔ فرد کے لیے بھی اور معاشرے کے لیے بھی…… فرد اگر اپنی سوچ کو باقاعدہ ترتیب نہیں دیتا تو اس کی زندگی خلفشا رکا شکار ہو جاتی ہے اور اگر معاشرہ اپنی سوچ کو باقاعدہ نہیں بناتا تو اس میں افراتفری، انتشار اور امن عامہ میں لاء اینڈ آرڈر جیسے بڑے بڑے بحران جنم لیتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ فلسفہ پڑھیں کیوں کہ فلسفہ ہمیں سوچنے کا فن اور زندہ رہنے کا قرینہ سکھاتا ہے۔ فلسفے کی بہت سی شاخیں ہیں۔ عملی زندگی میں فلسفے کا بے حد فائدہ ہے۔ اس میں قوم کا بھی فائدہ ہے اور فرد کا بھی……کیوں کہ ہم نے فیصلے کرنا ہوتے ہیں اپنی انفرادی و قومی زندگی میں بھی …… فیصلہ لینے کے لیے سوچ کی وضاحت پختگی یا خیال کی شفافیت ضروری ہے۔ اور یہ سب ہمیں فلسفہ پڑھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ ہے فلسفہ پڑھنے کا عملی فائدہ۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسفہ تمام علوم کی ماں ہے تمام علوم فلسفے ہی سے پیدا ہوتے ہیں ……
سوال: آپ اپنے لڑکپن اور اس وقت کے سماج کو کیسے دیکھتی ہیں؟
جواب: بہت سادہ لوگ، نہایت پُرتپاک اور مہذب، ہمارے اردگرد تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ صوفی غلام مصطفےٰ تبسم میرے والد ڈاکٹر سیّد عبداللہ کے دوستوں میں سے تھے، ان کے گھرانے سے ہمارا بہت نزدیکی تعلق تھا۔ میری نانی جان صوفی صاحب کی بیوی کی مونہہ بولی بہن تھیں اور ان کی بیٹی میری والدہ کی سہیلی۔ ڈاکٹر تاثیر کے گھرانے سے بھی بہت قریبی تعلقات تھے۔ سلمان تاثیر کی بہن مجھے کافی دن پڑھاتی رہیں، وہ کالج میں پڑھاتی تھیں بعد میں، میں اُن کی کلیگ ہو گئی۔ قیام پاکستان کے بہت بعد تک سبھی سادگی سے زندگی گزارتے رہے۔ شادی بیاہ بھی نہایت سادگی سے کیا کرتے تھے۔ سر عبدالقادر کی بیٹی کی شادی مجھے اچھی طرح یاد ہے بہت سادہ طریقے سے ہوئی۔ بعد میں لوگ جوں جوں پاور میں آئے انہوں نے غیروں کی نقالی کو شعار بنانا شروع کر دیا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نواب تھے۔ انہوں نے پاکستان میں آ کر کوئی پلاٹ لیا، نہ کوئی حویلی یا کوٹھی الاٹ کروائی۔ ان کے خاندان کے لوگ بہت سادہ تھے۔ کسی نے کبھی خودنمائی نہ کی اور عام سطح کی زندگی گزارتے رہے۔ میرے بچپن میں کچھ عورتیں اپنی ذاتی صلاحیتوں کی بنا پر آگے بڑھیں جن میں بیگم سروری، سلمیٰ تصدق اور پھر رعنا لیاقت علی خاں سبھی تعلیم یافتہ اور اعلیٰ گھرانوں کے افراد، بڑے بڑے لوگ مسلم لیگ میں تھے اور پاکستان کے لیے سرگرم عمل رہے۔
سوال: آج کل کے تعلیمی چلن کو کیسے دیکھتی ہیں۔ انگلش میڈیم ہر طرف چھایا ہوا ہے؟
جواب: ہمارے گھرانے نے اور میں نے جن چند اہم شخصیات کا پہلے ذکر کیا ہے اردو زبان کے لیے ہمیشہ تگ و دو کی۔ کیوں کہ ہمیں علم تھا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے…… شائستہ اور مہذب میرے والد کا اردو زبان کے فروغ میں اہم کردار ہے۔ مغربی پاکستان اردو اکیڈمی اُنہی کے دم قدم سے قائم ہوئی۔ اردو زبان و ادب کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کیے رکھی۔ انگلش میڈیم کو رائج کرنے والے نہیں جانتے کہ انگریزوں نے کبھی کسی غیر انگریز کو نہیں مانا۔ وہ مشرقی لکھاریوں کی تحریریں اپنے لڑیچر کا حصہ نہیں بننے دیتے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ انگلش زبان اور ہمارے کلچر کا کوئی تال میل نہیں ہے۔ ہمیں انگلش ضرور پڑھنی چاہیے لیکن بنیادی تعلیم کی حیثیت سے ہرگز نہیں۔
سوال: کیا اقبال کا ”تصورِ پاکستان“ یہی تھا جسے ہم دیکھ رہے ہیں؟
جواب: نہیں میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے…… ہمیں قائد اور اقبال کی ناپسندیدہ اشیاء یہاں بہت زیادہ دکھائی دے رہی ہیں۔ خود انحصاری اُن کا اوّلین شعار تھا۔ وہ سادگی پسند تھے۔ پاکستان میں مولویوں کا غلبہ بھی حیران کن ہے۔ اقبال اور قائد دونوں ان کے خلاف تھے۔ ان کے نزدیک جو اسلام تھا اُسے آج کے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ جو لوگ پاکستان کو اسلامی ملک بنانے کے دعویدار ہیں وہ اصل اسلام کی روح سے غافل ہیں۔ مذہبی جماعتیں پاکستان بنانے کے خلاف تھیں بعد میں انہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا اور پھر اپنے اپنے مفادات کے لیے جماعتیں بنا کر سیاست میں آ گئے۔ اقبال نے تصور پاکستان اس لیے پیش کیا کہ وہ جانتے تھے کہ آگے چل کر ہندو مسلمانوں کا بُرا حشر کریں گے۔ انہوں نے بُدھ مت کو بھی ختم کر دیا۔ اب بھی چھوٹی قوموں کو ختم کر رہے ہیں۔ انڈیا کی سیاست اور حکومت میں کریمینلز آ چکے ہیں۔ ہمارے ہاں کا بڑے سے بڑا سیاستدان جتنا مرضی کریمینل ہو وہ انڈیا کے کریمینلز کے سامنے ”بونا“ ہے۔ اس وقت کا مذہبی ٹولہ یہ کہتا تھا کہ ہندوستان کے اندر مسلمان ریاست نہیں بن سکتی، Extremest ہندو پاکستان کے سخت خلاف تھے۔ نہرو نے بھی کسی قسم کے فارمولے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ تقسیم ہند کے اعلان کے کئی ماہ بعد تک بمبئی میں اور دوسرے بڑے شہروں میں ہندو مسلم فسادات جاری رہے۔ تاحال ہندوستان میں فسادات ہوتے رہتے ہیں۔
سوال: آپ نے ”سدھارتھ“ کو ترجمہ کیا۔ ہرمن ہیسے کا یہ ناول کئی برس سے پسندیدگی کے ساتھ پڑھا جا رہا ہے۔ آپ کو کس باعث اس ناول نے متاثر کیا؟
جواب: راجا صاحب! یہ ناول فلسفیانہ نقطہ نظر کے باعث مجھے از حد پسند ہے۔ میرے گھر میں میرے والد اور دوسرے اشخاص کافی حد تک فلسفیانہ شعور رکھتے تھے۔ میرے خیال میں ہر شخص پیدائشی طور پر فلسفی ضرور ہوتا ہے، ہم نے فلسفے کو ترک کر دیا۔ اُسے معتوب کیا تو خود معتوب ہو گئے۔ مجھے دوران تعلیم ہی ”سدھارتھ“ نے بے حد متاثر کیا تھا، عملی زندگی میں آنے کے بعد میں نے اسے ترجمہ کیا۔ برصغیر میں اقبال اور رادھا کرشنا کے بعد کوئی فلسفی پیدا نہیں ہوا…… لیکن افسوس کہ آجکل ہمارے ہاں ہر شخص دانشور اور فلسفی ہونے کا دعویدار ہے۔ تو اس پر کیا کہیں!
سوال: آپ نے افسانے ہی کو ذریعہ اظہار کیوں بنایا؟
جواب: اس پر مجھے خود بھی حیرت ہے کیوں کہ میں نے ناول زیادہ پڑھے اور افسانے بہت کم…… اس کے باوجود جب تخلیقی دور کا آغاز ہوا تو اندر کی آواز مجھے افسانے کے دَر تک لے گئی۔
سوال: کیا آپ کسی موضوع پر باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے لکھتی ہیں؟
جواب: جی نہیں میں کسی مجبوری کے تحت نہیں لکھتی اس لیے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی کبھی نہیں کی۔ عموماً کوئی نقطہ، جملہ، یا چھوٹا سا واقعہ ذہن کو متحرک کرتا ہے اور احساساتی کیفیت کو جنم دیتا ہے جو بالآخر کئی دن میرے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے اور کہانی کی ابتدا کرتا ہے، مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ کہانی کیا ہو گی…… آپ یوں جان لیں کہ مجھ پر کوئی بھی کہانی آہستہ آہستہ کھلتی ہے اور میں لکھتی چلی جاتی ہوں۔
سوال: افسانے میں زبان کا کیا کردار ہے؟
جواب: افسانے میں زبان کا بہت اہم کردار ہے۔ کیوں کہ زبان ہی وہ ذریعہ ہے جس سے ادیب اپنے احساسات، جذبات یا دوسرے لفظوں میں وہ جو کہنا چاہتا ہے، دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ اس سلسلے میں اچھے ادیب کو وجدانی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی موجودہ کہانی کس قسم کے الفاظ اور زبان کی متقاضی ہے۔
سوال: منٹو نے اپنی زندگی میں جو ”انکل سام“ کے نام خطوط لکھ کر سامراجی قوتوں کو بے نقاب کیا…… آپ نے اس حوالے سے چند مضامین بھی لکھے…… کیا حقیقی طور پر منٹو کا سیاسی وجدان بہت بلند تھا؟
جواب: مجھے ما بعد 9/11 منٹو کا موضوع اکادمی ادبیات پاکستان نے دیا اور میں نے وہ مضمون اپنی کتاب ”ادراکات“ میں شامل کیا جو آپ نے پڑھا۔ میں نے از سرِنو تحقیق کی تو ان کے لکھے خطوط کی روشنی میں منٹو کا سیاسی نقطہ نظر کھل کر سامنے آیا، کہ وہ خطوط منٹو کو حقیقی معنوں میں ”صاحب ِ بصیرت“ اور بلند پایہ دانشور ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ منٹو بہت روشن دماغ انسان تھا باوجود ان حالات کے جو اُسے پیش آئے وہ بحرحال ایک حیرت ناک لکھاری اور صاحب ِ بصیرت انسان تھا، دانشور تھا۔ منٹو کے تخلیقی شعور ”تیسری آنکھ“ نے اسے روشن دماغ ثابت کر دیا کہ یہ سب ڈگریوں کا مرہونِ منت نہیں ہوتا۔
سوال: اردو ادب میں سب سے بڑا افسانہ نگار کسے سمجھتی ہیں۔
جواب: اوّل و آخر منٹو ہی بڑا افسانہ نگار ہے۔
سوال: آپ نے اپنے ناول ”غبار“ میں کیا سوال اٹھایا ہے؟
جواب: میرا سٹائل ہی یہی ہے۔ یہ فلسفیانہ انداز میں لکھا گیا ناول ہے متوسط کلاس کے جذباتی، سماجی، ذاتی اور نفسیاتی مسائل جن سے نمٹنے کا انہیں سلیقہ نہیں۔ یہ داستان اس عہد کے نوجوان کا مسئلہ ہے۔ 80ء کی دہائی میں بین الاقوامی سطح پر جو انڈر ورلڈ پیدا ہوا ان کی اولادیں بہت زیادہ کرچی کرچی ہوئیں۔ اس حوالے سے کچھ تھیوریز ہیں جن میں نفسیاتی وجوہات کو ہم زیادہ غور و فکر کر کے اصل صورت حال کو جان سکتے ہیں۔ نابالغ نوجوان اکثر نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انسان صرف جسم نہیں ہے اس میں نفس بھی ہے اور وہ نفسیاتی مسائل کا شکار جلد ہو جاتا ہے۔ آپ کی اطلاع کے لیے جنسی موضوعات پر لکھنا نفسیاتی موضوع پر لکھنے سے بہت آسان ہے اور میں نے ہمیشہ مشکل راہ اپنائی۔ میں نے اس ناول میں نوجوانوں کے نفسیاتی جذبوں کے تحت پیدا ہونے والے مسائل پر لکھا ہے۔
سوال: ادب عالیہ اور کمرشل ادب کا فرق واضح کریں گی؟
جواب: کمرشل ادب ہمیشہ فرمائشیں پر لکھا جاتا ہے جبکہ ادبِ عالیہ لکھاری کے باطن سے تخلیقی سطح پر اُبھر کر سامنے آنے والی کیفیت کی تحریر ہوتی ہے۔ ادب عالیہ کبھی بھی دنیاوی آسائش یا پیسے کے لیے نہیں لکھا جاتا۔ ”سنجیدہ ادیب درویش ہوتا ہے“ وہ دنیاوی اغراض سے بہت ہٹ کر سوچتا ہے۔
سوال: آج کے تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم کے حوالے سے آپ کیا کہیں گی؟
جواب: آج کے لوگوں کے ذہنوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہاں ”امپورٹڈ سلیبس“پڑھا کر طالب علموں کے ذہنوں کو ”ماؤف“ کیا جا رہا ہے۔ علامہ اقبال ؒ کہتے تھے کہ آپ ایسا نظام تعلیم مرتب کریں جس سے انسانوں کی شخصیت Develop ہو سکے نہ کہ انہیں پیسہ کمانے کی مشین بنایا جائے۔
سوال: موجودہ ”تحقیقی و تنقیدی“ ڈگریاں کیا صحیح معنوں میں تحقیق کے معیارات پر پوری اُترتی ہیں؟
جواب: راجا صاحب اس حوالے سے تو میں یہی کہتی ہوں کہ ان ڈگریوں کے ساتھ جو وظائف مقرر کر دیئے گئے ہیں بس انہیں کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مارے جاتے ہیں۔ جس طرح مجموعی طور پر روپیہ نیچے گر رہا ہے اُسی طرح آ ج کا انسان ذہنی طور پر اقدار کے حوالے سے نیچے گرتا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button