تازہ ترینخبریںپاکستانپاکستان سے

توہین عدالت کیس: لاہور ہائی کورٹ نے اے سی اور ڈی سی کی سزا معطل کردی

چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں وکیل کا مؤقف بے وزن ہے کیوں کہ فیصلہ ضلعی جج کی جانب سے سزا سنانے کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار کے حوالے سے خاموش ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کے کیس میں ڈپٹی کمشنر منڈی بہاؤالدین طارق بسرا اور اسسٹنٹ کمشنر امتیاز علی بیگ کو صارف کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا معطل کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 26 نومبر کو ضلعی اور سیشن جج راؤ عبدالجبار خان نے دونوں بیوروکریٹس کو 3 ماہ قید کی سزا سناتے ہوئے ضلعی پولیس کو حکم دیا تھا کہ انہیں جیل میں منتقل کردیا جائے۔

تاہم ڈی پی او نے عدالتی حکم کے مطابق سزا یافتہ افسران کو جیل بھیجنے کے بجائے ڈی سی آفس میں ہی نظر بند کردیا تھا۔

بیوروکریٹس کی جانب سے سزا کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے اپیل کو بطور ’اعتراضی کیس‘ سنا کیونکہ آفس نے اپیلوں کو برقرار رکھنے پر اعتراض کیا تھا۔

آفس کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل دائر کی گئی ہے تاہم افسران کو اب تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

سزا یافتہ افسران کےبجائے ان کے وکلا لاہور ہائی کورٹ ایسوسی ایشن کے صدر مقصود بٹر اور ایڈوکیٹ مبشر رحمان عدالت میں پیش ہوئے تاہم عدالت نے آفس کا اعتراض مسترد کردیا۔

وکلا نے استدلال کیا کہ درخواست گزاروں کو سزا دینے کا فیصلہ سی آر پی سی کی دفعات 480 اور 482 کے تحت کیاگیا ہے جو آفس کے دائرہ کار سے باہر ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں وکیل کا مؤقف بے وزن ہے کیوں کہ فیصلہ ضلعی جج کی جانب سے سزا سنانے کے لیے اپنائے گئے طریقہ کار کے حوالے سے خاموش ہے۔

جج نے مزید تبصرہ کیاکہ آئین کے آرٹیکل 10 اے نے فرد کو قانون پر عمل درآمد کرتے ہوئے منصفانہ ٹرائل کا حق دیا ہے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر درخواست گزاروں کو پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے 20 ہزار روپے کےمچلکوں کے عوض ان کی ضمانت منظور کرلی۔

یاد رہے کہ ایک شہری نے ڈی اینڈ ایس جے راؤ عبدالجبار خان کے خلاف صارف عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انہیں واپڈا کالونی سرکاری طور پر رہائش دی گئی ہے لیکن مقامی انتظامیہ نے اس ہی مکان کو اسکول ٹیچر کے لیے الاٹ کیا ہے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا تھا انتظامی عملے کے رکن رانا محبوب علی سے غیر قانونی طور پر راؤعبدالجبار کے لیے ذبردستی گھر الاٹ کروایا گیا تھا۔

تاہم صارف عدالت کےجج نے ڈی سی اور اے سی کو نوٹس جاری کیا گیا تھا اور انہوں نے انتظامی عملے کے رکن کو عدالت میں بھیجا جس نےجج کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ڈی سی سے زاتی طور پر جج کو فون کیا اور ان سے کہا کہ کلرک کو چھوڑ دیا جائے جبکہ اے سی بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور انہوں نے بھی جج سے بد تمیزی کی، جس کے رد عمل میں جج نے توہین عدالت کے الزامات میں دونوں افسران کو سزا سنائی تھی۔

Leave a Reply

Back to top button