خبریںپاکستان سے

تیزگام ایکسپریس سانحہ: جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 73 ہوگئی

ویب ڈیسک: پنجاب کے شہر لیاقت پور کے قریب گیس سیلنڈر پھٹنے سے تیز گام ایکسپریس کی بوگیوں میں آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 73 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے جب کہ حادثے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کی علی الصبح کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے علاقے لیاقت پور کے قریب حادثہ پیش آیا اور ٹرین میں گیس سیلنڈر پھٹنے سے اس کی تین بوگیوں میں آگ لگ گئی۔
ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور خان اور ریسکیو ہیڈ بہاولپور باقر حسین نے حادثے میں 73 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ڈی پی او نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں کو ٹی ایچ کیو لیاقت پور اور بہاول پور کے ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے جب کہ آگ پر بھی قابو پالیا گیا ہے۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ تین بوگیوں میں تقریباً 200 سے زائد افراد سوار تھے جن میں سے ایک بوگی میں 78، دوسری میں 77 اور بزنس کلاس کی بوگی میں 54 افراد کی بکنگ تھی، حادثے کے بعد بوگیوں سے کئی افراد کی جلی ہوئی لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے کئی لاشوں کے ٹکڑے ملے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے سانحے کے مقام پر پہنچ کر سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جب کہ آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بھی سانحے کی جگہ پہنچ گیا ہے جس کے ذریعے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاک فوج کیڈاکٹرز اورپیرا میڈیکس بھی امدادی کارروائیوں مصروف ہیں۔
سی ای او ریلوے اعجاز احمد کے مطابق مسافر ٹرین میں سیلنڈر دھماکے سے تین بوگیوں کو آگ لگی جس میں دو اکنامی اور ایک بزنس کلاس بوگی شامل ہے جب کہ حادثے سے کوئی ٹریک متاثر نہیں ہوا اور ٹرینیں شیڈول کے مطابق چل رہی ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق آگ ٹرین کی بوگی نمبر 3،4،5 میں لگی، تینوں متاثرہ بوگیوں کے زیادہ تر ٹکٹس ایک ہی مسافر کے نام پر بک کرائے گئے تھے جس وجہ سے انفرادی نام نکالنے میں مشکل ہورہی ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ 3 متاثرہ بوگیوں کی بکنگ حیدرآباد اسٹیشن سے کروائی گئی تھی جس میں بوگی نمبر 12 میں 77، بوگی نمبر 13 میں 78 افراد کی بکنگ کروائی گئی تھی جب کہ بوگی نمبر11 میں 54 افراد کی بکنگ بھی حیدرآباد سے ہی کروائی گئی تھی۔
ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ متاثرہ تین بوگیوں میں کْل 209 افراد کی بکنگ تھی۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹرین سیجلی ہوئی بوگیاں الگ کرکے ٹرین روانہ کر دی گئی ہے۔
ادھر نجی چینل سے گفتگو کے دوران وزیر ریلوے شیخ رشید نے حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ٹرین کی تین بوگیاں متاثر ہوئیں، لوگ اجتماع پر جا رہے تھے، مسافروں کے دو سیلنڈر پھٹنے کے باعث بوگیوں میں آگ لگی اور زیادہ تر ہلاکتیں مسافروں کے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ کھاریاں اور ملتان میں برن یونٹس ہیں لہٰذا شدید زخمیوں کو رحیم یار خان منتقل کردیا گیا ہے۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ریلوے کی غلطی نہیں بلکہ مسافروں کی غلطی ہے، مسافروں نے ناشتہ بنانے کے لیے سیلنڈر جلایا جس کے بعد چلتی ٹرین میں آگ لگ گئی۔
شیخ رشید نے کہا کہ مسافر ٹرین میں سیلنڈر کیسے لے کر پہنچے اس کی تحقیقات کی جائے گی، مسافر چولہے اپنے تھیلے میں رکھ دیتے ہیں اور قانون سے نہیں ڈرتے، کراچی سے مسافر سیلنڈر لے کر چڑھے تو نوٹس لیں گے، چھوٹے اسٹیشنوں پر اسکینر کا نظام موجود نہیں لہٰذا تحقیقات کریں گے کہ مسافر سیلنڈر لیکر کون سی اسٹیشن سے چڑھے۔
چیئرمین ریلوے سکندر سلطان راجہ نے بتایا کہ انسپکٹر آف ریلوے کی سربراہی میں تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور وہ اس بات کا تعین کریں گے کہ سیلنڈر کس طرح ٹرین میں لے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔
تیز گام ایکسپریس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں سے 18 افراد کا تعلق میرپور خاص سے ہی جبکہ ٹنڈوجام اور ٹندولہیار کے شہری بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔
میرپورخاص مدینہ مسجدسٹیلائٹ ٹاون کے امام قاری مقبول بھی حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے حادثے پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے بھی حادثے پر دلی دکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کی دعا ہے۔ علاوہ ازیں دیگر رہنماؤں نے بھی اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button