HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » تیل سمندر سے نکالیں، غریبوں سے نہیں

تیل سمندر سے نکالیں، غریبوں سے نہیں

پڑھنے کا وقت: 5 منٹ

یورپ و امریکہ اور دیگر ممالک میں جب بھی عیسائیوں کے تہوار آتے ہیں وہاں پر خصوصی طور پر مارکیٹوں ، دکانوں غرض کہ ہر جگہ قیمتوں میں خصوصی کمی کردی جاتی ہے اور رعایتی سیل کا مقابلہ شروع ہوجاتا ہے رعایت بھی اور کوالٹی بھی دونوں ملتی ہیں۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ماہ رمضان المبارک ، عید الفطر اور عید الاضحی کے خاص تہواروں کا ذکر کریں تو ان کی خیروبرکتیں اور انعام و اکرام ، فضیلت میں نہ تو دو آراء ہیں نہ ہی کسی بھی قسم کا شک و شبہ، یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ باوجود اس سب حقیقت کے ان دنوں میں ہمارے تاجر و دکانداروں اور کاروباری حضرات جن خصوصیت کے ساتھ اپنی اپنی چھریاں تیز کرکے عوام (لوگوں) کو اپنی خاص مہنگائی والی چھری سے کاٹتے بلکہ کھرچ دیتے ہیں۔ اور حکومت کی بے حسی دیکھیں کہ قانون اور اختیار ہوتے ہوئے بھی بے بس بنی بیٹھی رہتی ہے۔

روز مرہ کی استعمال کی عام اشیاءہو یا پھل فروٹ یا برف جیسی شے ان سب کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتی ہیں۔ حکومتی ادارے و محکمے جن کو ان پر نظر رکھنی ہوتی ہے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور عوام کو لوٹنے و نوچنے سے بچانا ان کے فرائض میں شامل ہے وہ کسی طور پر اپنی ذمہ داریوں یا فرائض کی درست ادائیگی سے یکسر محروم دکھائی دیتے ہیں۔ مرکزی حکومت ہویا صوبائی حکومت یا اس سے متعلقہ محکمے ان سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف ان مواقعوں پر ہی نہیں بلکہ سارا سال معصوم عوام کو اس مہنگائی کے جن اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزی کے ظلم سے بچائیں ان کی حفاظت کریں۔ جبکہ عمران خان حکومت کی تو اور زیادہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

منصور مہدی سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب دیجئے