تجزیہسیاسیات

تین تجاویز

جاوید چوہدری۔۔۔

مجھ سے حل پوچھا گیا۔

وہ ٹھیک کہہ رہے تھے‘ دنیا میں اعتراض کرنا‘ چیزوں کو برا بھلا کہنا‘ کیڑے نکالنا اور خامیاں تلاش کرنا بہت آسان لیکن ان خامیوں‘ ان کیڑوں اور ان اعتراضات کا ٹھوس حل تجویز کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ ہم لکھنے والے‘ ہم بولنے والے دن رات اعتراض کرتے ہیں‘ ہم کیڑے بھی نکالتے ہیں مگر ہم ان مسائل کا کوئی ٹھوس حل نہیں بتاتے چنانچہ ہم پر یہ اعتراض بجا ہے۔

وہ بولے ’’آپ میں اور عام تھڑے باز میں کیا فرق ہے‘ وہ بھی چیختا ہے اور آپ بھی چیخ رہے ہوتے ہیں‘ وہ بھی احتجاج کرتا ہے‘ عمران خان بھی احتجاج کر تے ہیں اور آپ لوگ بھی احتجاج کر رہے ہوتے ہیں‘ ہمیں چیزوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ کوئی نہیں بتاتا.” میں نے ان سے اتفاق کیا‘ ہم واقعی حکومت کو ٹھوس اور پریکٹیکل تجاویز نہیں دیتے‘ میں نے ان سے عرض کیا ’’ آپ کے لیے میری تین تجاویز ہیں اور یہ تینوں پریکٹیکل ہیں‘‘ انھوں نے پوچھا ’’ کیا کیا؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’ پہلی تجویز‘ ہمارے ملک میں ہر شخص موجودہ نظام کو برا کہتا ہے‘ یہ دعویٰ‘ یہ بات سو فیصد غلط ہے‘ہمارا نظام ٹھیک ہے‘ یہ نظام اس وقت 70 ممالک میں چل رہا ہے اور یہ وہاں ڈیلیور بھی کر رہا ہے۔ہم نے آج تک دراصل اس نظام سے پورا کام نہیں لیا‘ ہمارے مسائل کا حل نیا نظام نہیں کیونکہ ہم نے اگر نئے نظام سے بھی کام نہ لیا تو اسے بھی پرانے نظام کی جگہ آتے دیر نہیں لگے گی‘ ہمیں نیا نظام بنانے کے بجائے پرانے کو ایکٹو کرنا چاہیے‘‘ وہ بولے ’’کیوں؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’ یہ نظام بڑی مشکل سے بنا تھا‘ انگریز نے بڑی عرق ریزی اور ریسرچ کے بعد یہ نظام بنایا تھا‘ ہم لارڈ میکالے کو برا کہتے ہیں‘ میں بھی برا کہتا تھا لیکن سوال یہ ہے اگر لارڈ میکالے ہندوستان کے لیے تدریسی نظام نہ بناتا تو کیا آج برصغیر میں اسکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں ہوتیں؟ حقیقت تو یہ ہے مسلمان ہندوستان میں 8 سو سال حکمران رہے مگر انھوں نے ملک کے لیے کوئی تدریسی نظام نہیں بنایا ‘ آپ لارڈ میکالے سے قبل ہندوستان میں کوئی اسکول‘ کالج اور یونیورسٹی دکھا دیں‘ ہندوستان کے امراء اپنے بچوں کے لیے ایران‘ ترکی‘ سمرقند اور عراق سے اتالیق امپورٹ کیا کرتے تھے۔

یہ استادصرف امراء کے بچوں کو پڑھایا کرتے تھے‘ آپ ہندوستان کے قدیم شعراء‘ ادباء اور دانشوروں کے پروفائل نکال کر دیکھ لیجیے‘ آپ کو یہ تمام لوگ سینٹرل ایشیا سے آتے اور ہندوستان کے دربار سے وابستہ ہوتے نظر آئیں گے‘ ہندوستان میں طبیب اور ڈاکٹر بھی باہر سے آتے تھے‘ ہماری حالت یہ تھی جہانگیر کی صاحبزادی بیمار ہو گئی‘ برطانیہ سے ولیم ہاکنز آیا‘ اس نے شہزادی کوکونین کی گولیاں کھلائیں‘ شہزادی تندرست ہو گئی ‘ بادشاہ نے ولیم ہاکنز کو سورت میں تجارتی کوٹھی بنانے کی اجازت دے دی‘ یہ تجارتی کوٹھی بنی‘ انگریز آئے‘کپاس اور افیون کی تجارت شروع کی اور یوں انگریز کونین کی دو گولیوں کے ذریعے پورے ہندوستان پر قابض ہو گئے‘ آپ یقین کریں‘ انگریز نہ آتے تو ہندوستان میں آج بھی عام شہری پر تعلیم کے دروازے بند ہوتے‘ ہمارے علاقے میں کوئی انجینئرنگ یونیورسٹی ہوتی‘ کوئی میڈیکل کالج ہوتا اور نہ ہی کوئی جنرل یونیورسٹی ہوتی۔

ہم لارڈ میکالے کے بارے میں کہتے ہیں ’’ میکالے نے یہ نظام کلرک پیدا کرنے کے لیے وضع کیا تھا‘‘ یہ بات درست ہو گی لیکن کیا میکالے سے قبل کوئی ایسا نظام تعلیم موجود تھا جو ملک میں بادشاہ پیدا کرتا تھا‘ ہندوستان ایک ہزاری‘ دو ہزاری اورپنج ہزاری میں تقسیم تھا‘ بادشاہ غلاموں کی غلامی سے متاثر ہو کر ان میں زمین تقسیم کر تے تھے اور یہ لوگ کسانوں کی چمڑی اور ہڈیوں سے لگان وصول کرتے تھے‘ ظلم کے اس سمندر میں سو دو سو سال بعد شیر شاہ سوری جیسے جزیرے ابھرتے تھے اور جلد ہی ختم ہو جاتے تھے‘ مغلوں کے دربار میں سینٹرل ایشیا سے آئے عالموں‘ دانشوروں اور مورخین کے لیے صرف تین عہدے ہوتے تھے‘ یہ بادشاہ کے وثیقہ نویس یا منشی بن جائیں‘ یہ شاہی مورخ کا عہدہ قبول کرکے بادشاہ کی فرضی فتوحات اور تخیلاتی شجاعت کی عظیم داستانیں تخلیق کریں یا پھر غالب کی طرح بادشاہ کے قصیدے لکھیں اور منہ موتیوں سے بھر لیں اور بس۔ انگریزوں نے اس خطے میں حقیقتاً کام کیا ۔

انھوں نے ہندوستان کو نظام بھی دیا اور انفراسٹرکچر بھی۔ ہم آج تک ہندوستان میں انگریزوں کے بنائے پل بدل سکے اور نہ ہی ریلوے‘ سڑکیں‘ آئین‘ قانون‘ انتظامی بندوبست‘پولیس سروس اور فوجی کلچر‘ ہم بدل بھی نہیں سکیں گے کیونکہ یہ ہندوستان میں تحقیق کے ذریعے بننے والا پہلا نظام تھا لہٰذا ہمیں اسے بدلنے پر توانائی ضایع نہیں کرنی چاہیے‘ ہمیں اسے ایکٹو کرنا چاہیے‘ ‘ وہ غور سے سنتے رہے‘ میں نے عرض کیا ’’ میں آگے بڑھنے سے قبل ایک کامنٹ پاس کرنا چاہتا ہوں‘‘ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے‘ میں نے عرض کیا ’’انگریز کو ہندوستان آنا نہیں چاہیے تھا اور اگریہ آ گیا تھا تو اسے دو سو سال تک جانا نہیں چاہیے تھا‘‘ انھوں نے قہقہہ لگایا‘ میں نے عرض کیا ’’ انگریز نہ آتا تو ہمیں زیادہ شعور نہ ملتا اور ہم افریقہ کے چھوٹے ملکوں کی طرح کچے گھروں میں چپ چاپ زندگی گزار رہے ہوتے اور انگریز اگر آ گیا تھا تو پھر اسے نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا‘ امریکا اور ساؤتھ افریقہ کی طرح تین چار سو سال یہاں رہنا چاہیے تھا‘ یہ یہاں صرف نوے سال (1947ء 1857-ء) رہا اور ہمیں کچا پکا چھوڑ کر چلا گیا‘ ہم ماضی کے رہے اور نہ مستقبل کے۔

انگریز ساؤتھ افریقہ میں ساڑھے تین سو سال رہا ‘ یہ ان ساڑھے تین سو سالوں کا کمال تھا کہ نیلسن مینڈیلا نے جب مئی 1994ء میں عنان اقتدار سنبھالی تو ساؤتھ افریقہ دس برسوں میں جدید دنیا کی صف میں شامل ہو گیا‘ ہم بھی اگر اس عمل سے گزرے ہوتے تو آج ہمارے حالات بھی مختلف ہوتے‘ میں بہرحال واپس آتا ہوں‘ سرہم سے نیا نظام نہیں بن سکے گا‘ ہم نیا آئین بھی نہیں بنا سکیں گے کیونکہ نئے آئین کے لیے چاروں صوبوں کا متفق ہونا ضروری ہے اور یہ آج ممکن نہیں چنانچہ آپ آئین کو چھیڑیں اور نہ ہی نظام کو‘ آپ بس اسے ایکٹو کر لیں‘ آپ اس سے کام لینا شروع کر دیں‘ ہمارے مسئلے حل ہو جائیں گے‘‘۔
وہ مسکرائے اور بولے ’’اور دوسری تجویز‘‘ میں نے عرض کیا ’’سرہم میں اور جدید دنیا میں پانچ سو سال کا فاصلہ ہے‘ یہ دنیا پانچ سو کلو میٹر کی رفتار سے آگے بھی دوڑ رہی ہے‘ ہم اب چل کر یا دوڑ کر اس دنیا کو پکڑ نہیں سکیں گے‘ ہمیں اب اس تک پہنچنے کے لیے ترقی کے جمپ لگانا ہوں گے‘ دنیا آج جہاں ہے آپ اپنے چند ہزار لوگوں کو اچھال کر وہاں پہنچا دیں‘ یہ چند ہزار لوگ چند لاکھ لوگوں کو کھینچ لیں گے اور یوں ہم ایک‘ ایک‘ دو دوگروپوں میں آگے بڑھتے جائیں گے‘‘ وہ بولے ’’مثلاً‘‘ میں نے عرض کیا ’’ مثلاً آج کی دنیا میں ملک کی ترقی کے لیے ایک آدھ شعبہ کافی ہوتا ہے‘ فرانس فیشن اور پرفیوم بیچ کر ترقی کر گیا‘تائیوان صرف مائیکرو چپ سے ترقی یافتہ ملک بن گیا‘ جرمنی انڈسٹریل مشینیں بیچ کر اوپر چلا گیا۔

برطانیہ صرف تعلیم کی انڈسٹری سے اپنا بجٹ پورا کر لیتا ہے‘ امریکا سرمایہ کاری سے امریکا بن گیا‘ جاپان نے ٹیکنالوجی کو اپنا کعبہ بنا لیا‘ چین نے سستی سکلڈ لیبر کا فارمولہ ایجاد کر لیا‘ ہالینڈ نے پھول اور سڑکوں کی ٹیکنالوجی میں کمال حاصل کر لیا‘ ساؤتھ افریقہ نے میڈیکل سائنس کو ترقی کا راستہ بنا لیا اور سوئٹزرلینڈ نے بینکاری اورسیاحت کو انڈسٹری بنا لیا‘ ہم بھی اگر کسی ایک انڈسٹری پر فوکس کر لیں اور اپنی ساری توانائیاں صرف اس شعبے پر فوکس کر دیں تو ہم بھی ترقی کا جمپ لے لیں گے مثلاً ہم آج فیصلہ کر لیں‘ 2020ء تک دنیا کے تمام بڑے ملکوں میں پاکستانی شیف اور پاکستانی ویٹر ہوں گے یا ہم دنیا کو پیرا میڈیکل اسٹاف فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بن جائیں گے یا ہمارے خیبر پختونخواہ کے لوگ شاندار سیکیورٹی گارڈز ثابت ہو سکتے ہیں۔

ہم وہاں پچاس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ بنائیں گے‘محسود‘ آفریدی اور مہمند قبائل کے نوجوانوں کو ٹریننگ دیں گے اور دنیا بھر کو پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈز فراہم کریں گے یا ہم ایگری کلچر کو اپنی اولین انڈسٹری بنائیں گے‘ ہم اپنے سارے ذرایع زراعت کی ریسرچ پر لگا دیں گے‘ اپنی ضرورت بھی پوری کریں گے اور دنیا کی رہنمائی بھی کریں گے یا ہم دنیا کو ہر سال تیس چالیس ہزار انجینئرز فراہم کر یں گے‘ ہم ملٹری ٹریننگ کا ملک بن جائیں گے‘ ہم دنیا کے چھوٹے چھوٹے ملکوں کو ملٹری ٹریننگ بھی دے سکتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو ہم دنیا بھر کے لیے اچھے ڈرائیور تو بن سکتے ہیں‘ ہم پورے ملک کو ڈرائیونگ اسکول بنا دیں اور دنیا کو ڈرائیور سپلائی کرنا شروع کر دیں‘ ہمیں بہرحال کوئی ایک شعبہ‘ کوئی ایک پیشہ تلاش کرنا ہو گا اور اپنے سارے وسائل اس میں جھونکنے ہوں گے‘‘۔

انھوں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا ’’تیسری تجویز‘‘ میں نے عرض کیا ’’ آپ لاکھوں کی تعداد میں کامیابی کے سفیر بھرتی کریں‘ ہمارے ملک میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ترقی کا زیرو سے ہیرو تک سفر کیا‘ آپ ان لوگوں کو اپنا سفیر بنائیں‘ یہ ملک کے مختلف حصوںمیں کام‘ ترقی اور مالیاتی استحکام پر کلاسوں کا اہتمام کریں‘ یہ غریب‘ پسماندہ اور پسے ہوئے لوگوں کو گائیڈ کریں‘ یہ زندگی کے بارے میں لوگوں کا نظریہ بدلیں‘ ملک میں تبدیلی آ جائے گی‘‘ ہمارے لوگوں کو مدد کی نہیں صرف رہنمائی کی ضرورت ہے‘ انسان کو صرف رہنمائی درکار ہوتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اسی لیے تمام انبیاء کو رہنما بنا کر بھیجا تھا‘ آپ بھی لوگوں کے لیے رہنمائی کا بندوبست کر دیں باقی کام یہ خود بخود کر لیں گے‘‘۔

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس

Leave a Reply

Back to top button