HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » سیاسیات » جام کمال اپنا رویہ درست رکھیں ورنہ حکومتیں بدلتے دیر نہیں لگتی

جام کمال اپنا رویہ درست رکھیں ورنہ حکومتیں بدلتے دیر نہیں لگتی

پڑھنے کا وقت: 4 منٹ

محمد کاظم …..
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کی قیادت میں جہاں مخلوط حکومت کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا لب و لہجہ تیز ہوتا جارہا ہے وہاں ان کی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے میر عبد القدوس بزنجو بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف کھل کر بولنے لگے ہیں۔ اسپیکر نے چند روز قبل پارٹی کی سالگرہ کے موقع پر وزیر اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا رویہ درست رکھیں ورنہ حکومتوں کو تبدیل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جام کمال بلوچستان کے روایات سے واقف نہیں۔

وزیر اعلیٰ کو چائیے کہ وہ پارٹی کے کارکنوں کی قدر کریں کیونکہ کارکنوں کی قدر نہ کرنے والی جماعتیں اپنی قدر کھو دیتی ہیں۔اسپیکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان کی موجودہ پی ایس ڈی پی انہوں نے بنائی ہے لیکن وزیر اعلیٰ اس کو ہر جگہ تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ایس ڈی پی میں کوئی کمی ہے تو حکومت کو چائیے کہ وہ اس کو ٹھیک کریں ۔ اگر حکومت اس کو ٹھیک نہیں کرے گی تو کیا فرشتے اس کو ٹھیک کرنے آئیں گے۔اسپیکر کے مطابق” نہ ہم سے پارٹی چل رہی ہے نہ حکومت “۔

کیا اسپیکر کی ناراضگی اور حزب اختلاف کا احتجاج وزیر اعلیٰ کے لیے کسی مشکل باعث بن سکتا ہے یا نہیں ؟ اس حوالے سے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے مقتدر قوتوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جب تک ان کی جام کمال کو حمایت حاصل رہے گی اس وقت تک حزب اختلاف کا احتجاج یا حکومت کی اندورنی ناراضگی وزیر اعلیٰ کے لیے کسی بڑی مشکل کا باعث نہیں بن سکے گی۔

اسپیکرمیر عبد القدوس بزنجو موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے وزیر اعلیٰ سے ناراض تھے۔ان ناراضگیوں کو دور کرنے کے لیے کوششیں بھی کی گئیں ۔ ان کوششوں کے بعد اسپیکر کی جانب سے خاموشی اختیار کرنے کے بعد یہ محسوس ہونے لگا کہ اسپیکر کے تحفظات دور ہوگئے ہیں ۔لیکن چند روز قبل پارٹی کی پہلی سالگرہ کے موقع پر اسپیکر وزیر اعلیٰ کے خلاف جس طرح کھل کر بولے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اسپیکر کی ناراضگی برقرار ہے۔قدوس بزنجونے جس تقریب میں ان خیالات کا اظہار کیا اس میں پارٹی کے بعض سینئر رہنماﺅں کے علاوہ کارکنوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ پارٹی کے سینئر رہنما وزیر اعلیٰ کی باتوں کو سنتے رہے اور ان پر کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا جس سے یہ بھی اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ ناراضگی صرف اسپیکر تک محدود نہیں بلکہ اس صف میں اور لوگ بھی شامل ہیں ۔

جہاں وزیر اعلیٰ کو اپنی پارٹی کی جانب سے اندورنی طور پر بعض رہنماﺅں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہاں گزشتہ ہفتے ختم ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جانب سے بھی ان کی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ بظاہر حزب اختلاف نے سالانہ ترقیاتی پروگرام یعنی پی ایس ڈی پی کو ایشو بناکر احتجاج کیا۔یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ اس کے باعث اسمبلی نے گزشتہ ہفتے ختم ہونے والے سیشن میں جس ایجنڈے کو نمٹانا تھا اس کا زیادہ تر حصہ نمٹایا نہیں جاسکا ۔

پہلی مرتبہ موجودہ حزب اختلاف نے احتجاج کی ایک نئی روایت بھی ڈالی۔ وہ یہ تھا کہ حزب اختلاف کے اراکین پلے کارڈز کے ساتھ اجلاس میں شرکت کرتے رہے ۔ حزب اختلاف کو پی ایس ڈی پی کے حوالے سے تحفظات ہیں ۔ حزب اختلاف کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ پی ایس ڈی پی کے حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے تاکہ وہ اس کا جائزہ لے اوراسے منصفانہ بنایا جائے۔تاہم حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کے اس مطالبے کو مسترد کیا گیا اور حکومت کا یہ موقف تھا کہ جب اسمبلی کی مجالس قائمہ کی تشکیل ہوئی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے کسی خصوصی کمیٹی کی ضرورت نہیں ۔

جہاں حکومت نے حزب اختلاف کی پی ایس ڈی پی سے متعلق خصوصی کمیٹی کے قیام کے مطالبے کو مسترد کیا وہاں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے دورہ قلات کے موقع پر پی ایس ڈی پی کے حوالے سے اپنے موقف کا بھی کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی کی شکل میں بلوچستان کی تقدیر کے فیصلے چند لوگ کم معلومات کی بنیاد پر کرتے رہے ہیں۔ ہم کسی دوسرے سے گلہ نہیں کرسکتے، بلوچستان کی پسماندگی اور غربت کے ذمہ دار یہاں کے حکمران ہی رہے ہیں، کبھی بھی سندھ، پنجاب اور کے پی سے آکر کوئی وزیراعلیٰ نہیں بنا، جو لوگ آج پی ایس ڈی پر شور کررہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ترقیاتی عمل جام ہے یہ وہ دوفیصد لوگ ہیںجن کی دکانداری بند ہوئی ہے اور جن کی میڈیا تک رسائی ہے۔

کیا اسپیکر کی ناراضگی اور حزب اختلاف کا احتجاج وزیر اعلیٰ کے لیے کسی مشکل باعث بن سکتا ہے یا نہیں ۔ اس حوالے سے بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ بلوچستان میں حکومت کے حوالے سے مقتدر قوتوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جب تک ان کی جام کمال کو حمایت حاصل رہے گی اس وقت تک حزب اختلاف کا احتجاج یا حکومت کی اندورنی ناراضگی وزیر اعلیٰ کے لیے کسی بڑی مشکل کا باعث نہیں بن سکے گی۔

مصنف کے بارے میں

محمد کاظم سینئر صحافی ہے اور میڈیا کے معروف اداروں سے ایک عرصہ سے منسلک چلے آ رہے ہیں

جواب دیجئے