ادبافسانہسعادت حسن منٹو

جانکی

جانکی ایک زندہ اور متحرک کردار ہے جو پونہ سے ممبئی فلم میں کام کرنے آتی ہے۔ اس کے اندر مامتا اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے۔ عزیز، سعید اور نرائن، جس شخص کے بھی قریب ہوتی ہے تو اس کے ساتھ جسمانی خلوص برتنے میں بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتی۔ اس کی نفسیاتی پیچیدگیاں کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس وقت وہ ایک شخص سے جسمانی رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت اسے دوسرے کی بیماری کا بھی خیال ستاتا رہتا ہے۔ جنسی میلانات کا تجزیہ کرتی ہوئی یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔

سعادت حسن منٹو

پونامیں ریسوں کا موسم شروع ہونے والا تھا کہ پشاور سے عزیز نے لکھا کہ میں اپنی ایک جان پہچان کی عورت جانکی کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں، اس کو یا تو پونہ میں یا بمبے کی کسی فلم کمپنی میں ملازمت کرادو۔ تمہاری واقفیت کافی ہے، امید ہے تمہیں زیادہ دقت نہیں ہوگی۔

دقت کا تو اتنا زیادہ سوال نہیں تھا لیکن مصیبت یہ تھی کہ میں نے ایسا کام کبھی کیا ہی نہیں تھا۔ فلم کمپنیوں میں اکثر وہی آدمی عورتیں لے کر آتے ہیں جنہیں ان کی کمائی کھانی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ میں بہت گھبرایا لیکن پھر میں نے سوچا عزیز اتنا پرانا دوست ہے، جانے کس یقین کے ساتھ بھیجا ہے، اس کومایوس نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سوچ کر بھی ایک گونہ تسکین ہوئی کہ عورت کے لیے اگر وہ جوان ہو، ہر فلم کمپنی کے دروازے کھلے ہیں۔ اتنی تردد کی بات ہی کیا ہے، میری مدد کے بغیر ہی اسے کسی نہ کسی فلم کمپنی میں جگہ مل جائے گی۔

خط ملنے کے چوتھے روز وہ پونا پہنچ گئی۔ کتنا لمبا سفر طے کرکے آئی تھی، پشاور سے بمبئی اور بمبئی سے پونہ۔۔۔ پلیٹ فارم پر چونکہ اس کو مجھے پہچاننا تھا، اس لیے گاڑی آنے پر میں نے ایک سرے سے ڈبوں کے پاس سے گزرنا شروع کیا۔ مجھے زیادہ دور نہ چلنا پڑا کیونکہ سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے ایک متوسط قدکی عورت جس کے ہاتھ میں میری تصویر تھی،اتری۔ میری طرف وہ پیٹھ کرکے کھڑی ہوگئی اور ایڑیاں اونچی کرکے مجھے ہجوم میں تلاش کرنے لگی۔ میں نے قریب جا کر کہا، ’’جسے آپ ڈھونڈ رہی ہیں وہ غالباً میں ہی ہوں۔‘‘

وہ پلٹی، ’’اوہ، آپ!‘‘ ایک نظر میری تصویر کی طرف دیکھا اور بڑے بے تکلف انداز میں کہا، ’’سعادت صاحب،سفر بہت ہی لمبا تھا۔ بمبے میں فرنٹیر میل سے اتر کر اس گاڑی کے انتظار میں جو وقت کاٹناپڑااس نے طبیعت صاف کردی۔‘‘

میں نے کہا، ’’اسباب کہاں ہے آپ کا؟‘‘

’’لاتی ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ ڈبے کے اندر داخل ہوئی۔ دو سوٹ کیس اور ایک بستر نکالا۔ میں نے قلی بلوایا۔ اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے اس نے مجھ سے کہا، ’’میں ہوٹل میں ٹھہروں گی۔‘‘ میں نے اسٹیشن کے سامنے ہی اس کے لیے ایک کمرے کا بندوبست کردیا۔ اسے غسل وسل کرکے کپڑے تبدیل کرنے تھے اور آرام کرنا تھا، اس لیے میں نے اسے اپنا ایڈریس دیا اور یہ کہہ کر کہ صبح دس بجے مجھ سے ملے، ہوٹل سے چل دیا۔

صبح ساڑھے دس بجے وہ پربھات نگر، جہاں میں ایک دوست کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا، آئی۔ جگہ تلاش کرتے ہوئے اسے دیر ہوگئی تھی۔ میرا دوست اس چھوٹے سے فلیٹ میں، جو نیا نیا تھا موجود نہیں تھا۔ میں رات دیر تک لکھنے کا کام کرنے کے باعث صبح دیر سے جاگا تھا، اس لیے ساڑھے دس بجے نہا دھو کر چائے پی رہا تھا کہ وہ اچانک اندر داخل ہوئی۔

پلیٹ فارم پر اور ہوٹل میں تھکاوٹ کے باوجود وہ جاندار عورت تھی مگر جوں ہی وہ اس کمرے میں جہاں میں، صرف بنیان اور پاجامہ پہنے چائے پی رہا تھا داخل ہوئی تو اس کی طرف دیکھ کر مجھے ایسا لگا جیسے کوئی بہت ہی پریشان اور خستہ حال عورت مجھ سے ملنے آئی ہے۔جب میں نے اسے پلیٹ فارم پر دیکھا تھا تو وہ زندگی سے بھرپور تھی لیکن جب پربھات نگر کے نمبر گیارہ فلیٹ میں آئی تو مجھے محسوس ہوا کہ یا تو اس نے خیرات میں اپنا دس پندرہ اونس خون دے دیا ہے یا اس کا اسقاط ہوگیا ہے۔

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button