سیلف ہیلپ

جب تم آئینہ بنتے ہو…… سید ثمر احمد

زندگی سیکھنی پڑتی ہے۔ جانور بھی کچھ حیوانی اصول سیکھتے ہیں۔ جنگل کا بھی غیر اعلان شدہ قانون ہوتا ہے۔ کس سے بچنا ہے، کیسے رہنا ہے، اپنے قبیلہ کے دیگر جانوروں سے کیسا سلوک کرناہے۔ سردار کون ہو گا؟ کس وجہ سے مقرر ہو گا اور معزول کیوں ہو گا؟ مادہ کیا کام انجام دے گی اور نر کیا کردار نبھائے گا؟ بوڑھوں کا انتظام کیسے ہو گا اور جوان کیا ذمہ داریاں نبھائیں گے؟ کون کھائے گا اور کون انتظار کرے گا؟……حملہ آور سے کیونکر نبٹنا ہے اور دیگر نسلوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے۔ غرض کچھ اصول ہوتے ہیں جنہیں دوپائے، چوپائے، پرندے، چرندے، درندے سب سیکھتے، سمجھتے اور پابندی کرتے ہیں۔ چلیں ایک مثال سے سمجھتے ہیں:
بھیڑیوں کی زندگی
بھیڑیا منظم ترین جانور ہے جس کی زندگی میں ہمارے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ ویسے تو یہ ایک بدنام جانور ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ ایک انتہائی پابند، نیک خصلت اور عزتِ نفس سے مالا مال درندہ ہے۔ اس کی سب سے منفرد خصوصیت یہ کہی جاتی ہے کہ یہ واحد جانور ہے جو جنات کو قتل کر سکتا ہے۔ اس کی تیز آنکھوں میں جنات کو دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ دیکھتے ساتھ ہی یہ ان پر جھپٹ کے موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔ اس صلاحیت کے سبب بھیڑیوں کی موجودگی والے علاقوں میں جنات کو جان بچا کر رہنا پڑتا ہے……
٭ بھیڑیا مردار نہیں کھاتا۔ جانوروں کے شاہی خاندان سے تعلق ہونے کی نسبت بھیڑیا مرا ہوا کھانے کو عیب سمجھتا ہے۔
٭ یہ کبھی دوسری مادہ پہ گندی نظر نہیں ڈالتا۔
٭ ان کے ہاں ماں، بہن ایسی محرم ہستیوں کی سختی سے عزت کی جاتی ہے۔
٭ میاں بیوی کے درمیان محبت اور وفا میں بھی یہ بے مثال ہے۔ نر صرف ایک مادہ کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے اور تادمِِ مرگ نبھاتا ہے۔ دونوں میں سے ایک مر جائے تو دوسرا تاحیات ازدواجی تعلق قائم نہیں کرتا۔ زوجین میں سے ایک کی موت پر دوسرا تین ماہ سوگ مناتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے۔
٭ حتیٰ کہ شیر کو بھی غلام بنایا جا سکتا ہے پر بھیڑیا کو نہیں۔
٭ اس کو عربی میں ’ابن البار‘ یعنی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا بھی کہا جاتاہے۔ یہ جانوروں کا وہ قبیلہ ہے جہاں والدین کو کھلانا پلانا لازمی ہے۔ ضعیف ہو کر جب بھیڑیا غار کا ہو کر رہ جائے تو اس کے بچے شکار کر کے اسے کھلاتے ہیں۔ بھیڑیے جب ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں تو وہ گروپ میں یوں چلتے ہیں:
1: بوڑھے اور بیمار سب سے آگے ہوتے ہیں۔
2: پھر پانچ منتخب طاقت ور جو بوڑھوں، بیمار وں کے ساتھ تعاون (فرسٹ ایڈ) کرتے ہیں اور حملہ کے وقت جواب بھی دیتے ہیں۔
3: ان کے پیچھے دشمن کے حملے کا دفاع کرنے والے چاق وچوبند اور ہوشیار
4: درمیان میں عام بھیڑئیے ہوتے ہیں جو عام حملہ پہ لڑتے ہیں۔
5: پھر پانچ چُنے ہوئے چیر پھاڑ کے ماہر بطور ایلیٹ فورس ساتھ ہوتے ہیں۔
6: آخر میں بھیڑیوں کا مستعد قائد ہوتا ہے جو سب کی نگرانی کرتا ہے کہ کوئی اپنی ڈیوٹی سے غافل تو نہیں اور ہر طرف سے دشمن کا خیال رکھتا ہے اس کو عربی میں (الف) کہتے ہیں کہ اکیلا ہزار کے برابر ہے۔ اس ضابطہ کی پابندی ہر بھیڑیا کرتا ہے اور ان کا قائد بہترین ہوتا ہے۔ تو دیکھا کہ یہ درندے اپنے ڈھب پہ بہت مرتب اور سجی سنوری زندگی گزارتے ہیں۔ اور حضرتِ انسان جو عقل وشعور کے ساتھ متصف ہے اور اسی وجہ سے سب جان داروں میں اس زمین پہ ممتاز ہے کیوں ایک بے ہنگم زندگی گزارے؟…… ایک بات یہ کہ قدرت نے بھیڑیوں کو تو یہ زندگی جبر کے ساتھ سکھا دی پر انسان کو اصول بتا دیے لیکن اختیار والا بنایا، ا ور یوں ان اصولوں کو جاننا، سمجھنا اور کھوج کے عمل کرنا لازم کر دیا۔ اب چلتے ہیں:
غیر فطری انسانی زندگی کی طرف
ہمیں دوست کا فون آیا۔ وہ دوسرے دوست پہ بہت ناراض تھے۔ کہنے لگے کہ آپ نے انہیں سر چڑھا رکھا ہے ورنہ تو وہ دلوں میں بغض رکھنے والا آدمی ہے۔ اتنی گھٹیا سوچ کا انسان کیسا انسان ہے۔ میں حیران ہوں کہ کیسے اس نے میری عام سی بات کو یاد رکھا اور اسے جتایا۔ کل سے بے چین ہوں، اب آپ سے بات کی، بتائیں کیا، کیا جائے؟ میں خاموشی سے سنتا رہا……جب اچھی طرح بول چکے تو پوچھا کہ کیا اب آپ میری بات سنیں گے؟ کہنے لگے اسی لیے تو رابطہ کیا ہے……عرض کی، بعض دفعہ دو لوگ آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ درمیان میں لکھے عدد کو ایک 6 سمجھتا ہے تو دوسرا 9۔ وہ دونوں ہی صحیح ہوتے ہیں پر اپنے اپنے زاویہ سے دیکھنے کے باعث سمجھتے مختلف طرح ہیں۔ یوں کیجیے کہ انہیں فون کر لیں۔ ان کے ساتھ برسوں سے تعلق ہونے کے میں جانتا ہوں کہ ان کی نیت کھوٹی نہیں ہوتی۔ ان کا اندازِ بیاں ہے جس سے آپ کو عجیب لگ رہا ہے، اور انہوں نے آپ کی بات کے جواب میں وہ بات نہیں کہی تھی بلکہ کچھ اور دوستوں نے بھی اعتراض اٹھایا تھا جس کا ان کی طرف سے جواب آیا۔ میرا تجربہ ہے کہ جس سے شکایت ہو اس سے بات کر لی جائے تو 90 فیصد سے زاید مسائل پہلے مرحلہ میں ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ نیتوں کا کھوٹ نہیں ہوتا پر اکثر سمجھانے اور سمجھنے میں مسئلہ ہوتا ہے۔ اس لیے مخلصانہ مشور ہ ہے کہ رابطہ کیجیے اور مجھے بتانا ضرور……
کچھ دیر بعد ہمارے دوست کا حیرت اور خوشی سے بھرا فون آیا۔ بولے، شاہ صاحب جیسے آپ نے کہا تھا وہی ہوا۔ انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ انداز ِ گفتگو ہے میرا ورنہ کچھ نہیں،مجھے برداشت کر لیں کمزور سا آدمی ہوں۔ انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا کہ آپ نے ایک شکایت محسوس ہونے پہ مجھ سے رابطہ کیا۔ یوں یہ مسئلہ جو پہاڑ بن سکتا تھا اور ہمیشہ کی دوریاں پیدا ہو سکتی تھیں، وہیں نبٹ گیا……میں خدا کے حضور شکر گزار ہوا کہ اپنے فقیر کو درست اور حکیمانہ بات، خوبصورت انداز میں کہنے کی توفیق دی۔
انسانی تعلقات کے ڈائنامائیٹ
ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کے متعلق بات کرتے ہیں اور معاملات الجھ جاتے ہیں۔ جن سے کرتے ہیں وہ بھی اپنے غیر ذمہ دارانہ تبصروں سے چنگاری کو شعلہ بنا دیتے ہیں۔ اور یوں سرد مہری کا لاوا پکتا ہے جو آخر میں زندگی کے کمزور لمحوں کو پھاڑتا ہوا دوستی، اخلاص، ہمدردی سب کچھ نگل جاتا ہے۔ ہم یہاں اجتماعی زندگی کو بھسم کرنے والوں تین مہلک بموں کا آپ سے تعارف کرواتے ہیں:
٭گمان: ناکافی معلومات کی روشنی میں کسی کے متعلق کوئی رائے بنانا اور پھر اپنی سوچ پہ پختہ ہو جانا۔ یہ بد گمانی ہر خرابی کی ابتدا کرتی ہے۔ اسی لیے خالق نے فرمایا کہ ان میں سے بعض تو خدا کے غضب کو بھڑکانے والے ہوتی ہیں۔
٭غیبت: معاشرتی تعلق کی مستحکم ترین عمارت میں بھی دراڑیں ڈال دینے کی طاقت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی کو بدترین انداز میں پیٹھ پیچھے نشانہ بنانا۔ اور یہ تو ہماری محفلوں کی چٹنی ہے جس سے چسکے لیے جاتے ہیں۔ کتنا کریہہ ہے کہ خدائے رحمان نے بتایا کہ انسانی گوشت کھانے جیسا، وہ بھی اپنے بھائی کا، جو مر گیا ہو۔ ایسی خوفناکی اور گندگی اور تعفن یہاں سے اٹھتا ہے کہ معاشرہ ہی جینے کے قابل نہیں رہتا۔ ہر ایک دوسرے کے پیچھے ہوتا ہے اور اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
٭چغلی: بڑی منحوس ہے۔ برکتیں اٹھا دیتی ہے۔ باتیں لگانا گویا آگ لگانا۔ محفل کی امانت کو دوسری جگہ بیان کرنا۔ لوگوں کے درمیان تفریق۔ سینے باہم نفرتوں سے بھر دینے والے بیج۔ اسی لیے کہا کہ خدا کی ابدی جنتوں کی رکاوٹ ہے یہ نحوست……بظاہر جراثیم کی طرح نہایت معمولی لیکن نتائج کے اعتبار سے تباہ کن۔ ان کی ہولناکیوں کی وجہ سے مالکِ کُل نے ان کاتعارف خود کروایا اور بچنے کی شدید تلقین کی اور مبتلا ہونے پہ سخت وعید سنائی۔ اب آئیے ایک لائن کا حل جانیے۔ ہمارے حضورؐ نے فرمایا: ”مومن، مومن کا آئینہ ہے“۔
جب وہ مطمئن ہوگئے تو ہم نے مزید عرض کی کہ رسول اللہؐ نے ایک مختصر لیکن بلیغ ہدایت فرمائی ہے ”المومن مراۃ المومن“۔آپ جانتے ہیں اس کا مطلب کیا ہے؟ کہ مومنین آپس میں آئینے کی طرح ہیں۔ دیکھیے، آئینہ کیا کرتا ہے:
٭ مخلص کی طرح آپ کی خوبیوں اور خامیوں کے متعلق بتا دیتا ہے۔
٭ خاموشی سے یہ کام انجام دیتا ہے۔
٭ آپ ہٹ جائیں، کوئی اور آ جائے تو کسی سے آپ کی غیبت نہیں کرتا۔
٭ جب کمی دور کر کے پھر اس کے سامنے آتے ہیں تو پچھلی بات دہراکے عار نہیں دلاتا۔
٭ کبھی ماضی کی کمی کا طعنہ نہیں دیتا۔
٭ کسی دوسرے سے آپ کی کمزوری کی چغلی نہیں کھاتا۔
٭ لگی لپٹی رکھے بغیر سیدھی طرح نرمی سے کمیوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔
٭ غلط فہمی یا خوش فہمی میں مبتلا نہیں کرتا۔
٭ جیسے ہی سنورتے ہیں ساتھ ساتھ وہ بہتری دکھاتا ہے اور جیسے ہی بگڑتے ہیں ساتھ ساتھ بگاڑ نمایا ں کرتا ہے۔
٭ اندھیرے کو روشنی بنا کے مبالغہ نہیں کرتا۔
٭ سچی تعریف اور حوصلہ افزائی کرنے میں کنجوسی نہیں کرتا۔
بس آپ جیسے ہیں ویسا ہی دکھاتا ہے۔ کم زیادہ کرنا اس کی فطرت نہیں۔ اچھا دوست، اچھا انسان، اچھا مسلمان ایسا ہی ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کے لیے آئینہ بن جائیے، خود سے شروع کیجیے۔ یہ سماج سدھر جائے گا۔ پھول کھل اٹھیں گے، فضائیں مہک جائیں گی۔ اعتماد کی فضا سے ہر ایک سکھ کا سانس لے سکے گا۔ پر کرنا لازم ہے اور پھیلانا لازم ہے۔ جنابِ محمدؐ کا یہ تین لفظوں کا جملہ پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ اور جملوں سے زندگیاں بدلتی ہیں۔ مشہور فلسفی سپائنوزا نے کہا تھا ”اس سے بہتر کچھ نہیں کہ ایک انسان دوسرے کے لیے فائدہ مند ہوجائے“۔
اپنے انفرادی، نفسیاتی، روحانی، معاشرتی مسائل میں مشاورت کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر سوال لکھ کے بھیجیں یا ای میل کریں syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button