مختصر تحریریں

جب قائداعظمؒ نے زیڈ اے سلہری کا شکریہ ادا کیا

”1944ء کے اوائل میں مجھے”ڈان“ اخبار چھوڑے ابھی چھ ما ہ بھی نہ ہوئے تھے جس اثنا میں میں نے اپنی پہلی انگریزی کتا ب ”مائی لیڈر“ لکھی۔ انہی دنوں مجھے ڈاک کے ذریعے ایک دبیز لفافہ موصول ہوا۔ لفافہ کھولا تو ایک کاغذ پر قائداعظم کے مہر والے رائٹنگ پیڈ پر ان کا خط پایا۔ فرط تحیراور جوش انبساط سے میں تھرتھرکانپ رہا تھا کہ اس کے ہر لفظ سے شفقت ٹپکتی تھی۔ میری حوصلہ افزائی کے لئے قائدکے دو لفظ ہی کافی ہوتے لیکن اس میں تو تحسین وقدردانی کا طویل سرٹیفکیٹ تھا۔ خط کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔

زیڈ اے سلہری اور ان کی کتاب مائی لیڈر
ڈئیر مسٹرسلہری! میں آپ کی کتاب ”مائی لیڈر“ پر آپ کا شکر گزار ہوں اور ساتھ ہی ان تعریفی کلمات کا جو آپ نے میری ایسی خدمات کا جو میں نے مسلم قوم کے لئے کی ہیں سپرد قلم کئے ہیں۔ امرواقعہ تو یہ ہے کہ لائن پبلی کیشنز نے مجھے چند کاپیاں اسی وقت ہی بھیج دی تھیں۔ میں کتاب کو پڑھ چکا ہوں اور آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ نے حقائق کو پرْزور طریقے سے پیش کیا ہے۔ میں پہلے ہی لائن پبلی کیشنرکو لکھ چکا ہوں اور اب آپ پر مصنف ہونے کی حیثیت سے زور دیتا ہوں کہ اس کتاب کی وسیع ترین اشاعت کا انتظام کیا جائے۔ میں نے معقول قیمت پر ایک سو کاپیاں منگوائی ہیں یعنی وہ مجھے وہی کٹوتی دیں جو وہ کسی کتب فروش ایجنسی کو دیتے ہیں۔ آخر میں میں اس کتاب کی پوری کامیابی کا متمنی ہوں، امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔ پُرخلوص جذبات کے ساتھ آپ کا مخلص: ایم اے جناح (ریڈی منی لاج، متھراں 16 مئی 1945ء)“
اس گرامی نامے کو وصول کر کے میں خوشی سے جتنا بھی پھولا سماتا کم تھا۔ جس دن مجھے یہ خط ملاوہ میری زندگی کی معراج تھی۔ میں نے اس لمحے سے زیادہ کبھی فخر محسوس نہیں کیا۔ اس عزت افزائی کے بعد میرے دماغ میں کسی اعزاز کی خواہش نہیں رہی۔ یہ ذاتی خط ہی نہیں اس سے قائد کے کردارکے مختلف پہلوؤں پربھی روشنی پڑتی ہے۔ ہندو پریس نے اس کتاب پر بڑے تبصرے کئے اور مجھے جناح کا ڈاکٹر گوئبلز (GOEBBELS) قرار دیا۔ گوئبلز ہٹلر کا وزیر نشرو اشاعت تھا اور یہ ان، جنگ کے، دنوں میں بڑی گالی سمجھی جاتی تھی لیکن میں اسے اپنے لئے فخر سمجھتا۔“
ماخذ از: ”قائداعظم پاکستان کے بارے میں یادداشتیں“، مطبوعہ ’ہلال اردو‘

Leave a Reply

Back to top button