تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

جسمانی خوبصورتی اور مارولا کا ساتھ صدیوں سے جاری

مارولا کے تیل میں موجود فیٹی ایسڈ کا مواد جلد میں نمی برقرار رکھنے کی صلاحیت کو تقویت دیتا ہے۔ یہ جلد میں جلدی جذب ہوجاتا ہے اور جلد کی سورج کی ناپسندیدہ شعاؤں سے بھی حفاظت کرتا ہے۔

مارولا کا درخت جس کا بناتاتی نام سکیلوروکیہ برییا (Scelerocarya birrea)ہے کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ آثار قدیمہ کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ درخت تقریبا10000 قبل مسیح سے غذائیت کا ذریعہ رہا ہے۔ مارولا کا پھل اورمغز (نٹ) وٹامنز اور منرلز کا خزانہ ہیں۔

قدیم زمانے کے اس پھل کا وطن جنوبی افریقہ، بوٹسوانا، نامبیا اور شمال میں ایتھوپیا تک پھیلا ہواعلاقہ ہے۔ براعظم افریقہ کے نباتاتی خزانوں میں شمار ہونے والے اس درخت، اس کے پھل اور مغز کی مانگ قبل مسیح سے ہی رہی ہے۔ افریقی روایت کے مطابق قدیم دیومالائی داستانوں میں زمبابوے کی پومونگوی غار (Pomongwe Cave)کے باسیوں نے اپنی توانائی کو برقرا رکھنے کیلئے24 ملین سے زائدمارولا کے پھل کھائے۔

مارولا درخت کی شاخیں، پتے، تنا، چھال، پھل، دانا، گری، میوہ اور جڑیں ہمیشہ سے جنگلی جانوروں اور انسانوں کی خوراک کا حصہ رہے ہیں۔ یہ درخت 18 میٹر کی اونچائی تک پہنچ جاتا ہے،چنانچہ اس کے پتے اور باریک شاخیں ہاتھی اور زرافے شوق سے کھاتے ہیں۔

مارولا کا درخت پر ستمبر میں نئی کونپلیں نکلتا شروع ہو جاتی ہیں اور اکتوبر اور نومبر تک خوب پھولتا ہے۔جبکہ جنوری میں ان پر پھل آنا شروع ہو جاتے ہیں جو مارچ اور اپریل تک پک جاتے ہیں۔ اس وقت ان پھلوں وٹامن سے بہت زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔

وٹامنز اور منرلز سے بھرپورہلکے پیلے رنگ کا مارولا پھل رسیلا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ پکا ہوا پھل لوکاٹ سے مشاہبہ اور چھوٹے آلو بخارا کے سائز کا ہوتا ہے۔ اس کے پھل تازہ بھی کھایا جاتا ہے جب کہ پھلوں کے رس اور گودا کو ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔ جس سے جوس، جام اور دیگر انوع قسام کے مشروبات بنائے جاتے ہیں۔ جبکہ کچا پھل بھی پکا کر کھایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ پھلوں، گری، میوے، بیج اورچھال وغیرہ سے تیل بھی نکالا جاتا ہے جو پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے جو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر کاسمیٹک میں اس تیل کا زیادہ استعمال ہے۔

قدیم زمانے سے ہی افریقی خواتین اپنی جلد کو ملائم اور خوبصورت بنانے کیلئے مارولا کے تیل کا مساج کرتی رہیں ہیں۔ آج بھی مارولا کا تیل افریقہ میں تقریباً ہر گھر میں موجود ہوتا ہے۔

یہ تیل جلد کو نہ صرف خوبصورت بناتا ہے بلکہ جلد پر پڑنے والی جھریوں کو روکتا ہے، جلد پر داغ دھبے اور دانے وغیرہ نہیں پڑنے دیتا۔اصل میں یہ تیل گرم اور خشک علاقے میں رہنے والی خواتین (جیسے پاکستان، ہندوستان کا علاقہ)کی جلد کی حفاظت کیلئے نہایت موزوں اور آزمودہ ہے۔

1 2اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button