سیلف ہیلپ

جسم اور روح کے طبیب…… سید ثمر احمد

پہلی بارش نے فضا میں خنکی بڑھا دی تھی۔ سرد احساس کی دستک نے سرما کی نوید سنا دی تھی۔ وہ، جو میرا پسندیدہ موسم ہے جس میں رضائیاں اور ان میں دُبکے ہوئے شغل، لہو جما دینے والی سردی اور آئس کریم، دُھند کا رومانوی ہجوم اور جانے کیا کچھ۔ سردی ہمیشہ ہی سے میرے لیے پرکشش رہی۔ طویل راتوں میں کسی خاموش گوشے میں خالقِ کُل سے نشستیں جواب نہیں رکھتیں۔ میں اس تنہا گوشے سے کائناتوں کے سفر پہ نکل جاتا ہوں اور زمین، اس کے غم کہیں نیچے، بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کِن مِن بارش میں بھیگتا ہوا میں ناصر اعوان کے دفتر پہنچ گیا۔ بھیگے کپڑوں کے اندر ٹھنڈے جسم میں چائے کی محبوبہ نے طویل انگڑائی لی تو پور پور کھلنا شروع ہوا۔ باتیں چلیں تو گھومتی پھرتی خدا مستوں تک آ گئیں۔
وہ کہنے لگے……
میں تو ان ’بزرگوں اور بابوں‘ سے بڑا الرجک تھا۔ پھر یوں ہوا کہ میرے قانون کے امتحان آگئے۔ ہماری تیاری آخری مہینے میں ایک دوست کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ وہ مجھے سناتا، میں اسے اور یوں جا پرچہ دے آتے۔ ہم اس آخری مہینے میں ہر طرح کی سرگرمیوں سے کٹ کے تیاری میں جُت جاتے۔ بھوک لگتی تو پنجاب یونیورسٹی کے ہاسٹل نمبر 7 کے کیفے میں چلے جاتے…… وہاں ایک خستہ حال بابا جی اکثر ہی نظر آتے۔ ایک دن یونہی میں نے پوچھ لیا ’باباجی چائے پیو گے؟‘۔ کہا پی لیں گے۔ ہم نے کھا پی لیا تو بِل ادا کر کے چلتے ہوئے ایسے ہی انہیں کہہ دیا کہ ہم نے بل ادا کر دیا ہے۔ خستہ حال بزرگ نے چہرہ اٹھایا اور بولے تمہارا چائے پلانے کا شکریہ، اور جو تم نے پیسے ادا کر دیے اس کا بھی شکریہ۔ پھر اشارہ کرتے ہوئے پاس بیٹھنے کو کہا۔ کچھ باتیں پوچھنے لگے تو میں نے دل میں سوچا کہ چلو گھیرا ڈلنا شروع۔ سوال ہوا کہ تمہاری ٹانگ میں درد ہے کیا؟ ’نہیں، اور نہ ہی کبھی ہوا تھا‘۔ بولے نہیں ہے؟ حیرت ہے……خیر میں رہائش پہ آگیا اور بھول گیا۔ شام کے وقت میری ٹانگ میں اچانک شدید درد اٹھا۔ اتنا تیز کہ گویا معذور ہو گیا ہوں۔ تب مجھے یاد آیا کہ بابا نے کہا تھا ٹانگ درد سے متعلق۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور کشش بھی محسوس ہوئی۔ اگلے دن باوجود امتحانات میں وقت کم رہ جانے کے ہم دوبارہ ان کے پاس موجود تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کل بہت شدید درد ٹانگ میں ہوا، لیکن آپ کو کیسے پتا چل گیا تھا؟ کہنے لگے میں آرتھو پیڈک ڈاکٹر ہوں۔ لہجے میں کراچی کی اردو کا مخصوص رنگ موجود تھا، یعنی وہ عروس البلاد سے تھے۔ پوچھا، کہاں رہتے ہیں؟ بولے، دربارِ گنج بخش۔ پوچھا نام کیا ہے؟ کہا، نام سے کیا لینا دینا ہے۔ چلو کبھی دربارِ سیدِ ہجویر چلتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ذرا امتحان ہو لیں پھر دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان سے رغبت بھی بڑھتی گئی اور ملاقاتیں بھی، گو ہمارے امتحان قریب آن لگے تھے۔ پھر ان سے کئی ملاقاتیں رہیں، بہت کچھ سیکھا، کئی دفعہ داتا صاحب بھی گئے اور وہاں کی اصل نورانیت سے مستفید بھی ہوئے۔ جہاں بڑے بڑے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ عجیب تر بات یہ ہوئی کہ ان پرچوں میں جن کے تیاری کے اوقات میں ہم ان کے پاس بھی بیٹھتے رہے، نمبر اتنے شان دار آئے کہ شاید یونیورسٹی میں کسی پوزیشن کے تھے۔ پھر وہ غائب ہو گئے، نہیں ملے۔ نہ ہی ان کا نام کبھی معلوم ہو سکا……
ناصر اعوان نے ماضی کو پھرولا تو میرے ذہن کے دریچے بھی وا ہو گئے۔ یہ بھی خیال آیا کہ ہم سوشل سائنسز کے لوگوں کو تو خدا کے نظام میں کچھ سِرے ملا کے غور کرنا پڑتا ہے تب حکمتِ ملکوتی سمجھ میں آتی ہے۔ پر یہ پیور سائنسز والے تو دن رات کھلی آنکھوں سے مصور کی تصویر کا تجربہ کرتے ہیں۔ ان کو تو بڑے باخدا ہونے میں ذرا دیر نہیں لگنی چاہیے۔ پر المیہ ہے اس نظامِ کا جس نے تعلیم کا رشتہ خالق سے کاٹ رکھا ہے۔ جیسے احمد جاوید صاحب نے میری موجودگی میں کہا تھا کہ جس علم کا حتمی معلوم خدا نہ ہو وہ جہل ہے۔ ان طبیبوں کو تو گھاؤ بھرنے والا ہونا چاہیے۔ جسم اور روح کے گھاؤ۔ انہیں انسانیت پر حد درجہ شفیق اور ملائم ہونا ضروری ہے۔ یہ تو خالص مادہ پرست طبیب کے لیے بھی اپنی پریکٹس اچھی بنانے اور بڑھانے کو کرنا ضروری ہے، کجا کہ رحمتِ عالم ؐ کا پیروکار طبیب۔ پھر مجھے یاد آئے۔۔۔۔
ڈاکٹر پارل ارنسٹ اڈلف……
کہتے ہیں کہ زخموں کے مندمل ہونے میں ان تبدیلیوں پر میرا بہت اعتماد تھا جو اس ضمن میں جسم میں وقوع پذیر ہوتی تھیں۔ مجھے اس فن پہ مکمل بھروسہ تھا۔ لیکن یہ ٹوٹ گیا جب ایک ستر سال کی بڑھیا مر گئی حالاں کہ وہ روبصحت تھی۔ یہ اس وقت ہوا جب اس کے کولہے کا زخم تو مندمل ہو گیا تھا لیکن دل بیٹھ گیا۔ اور یہ اس وقت ہوا جب اس کے گھر والوں کو بلایا گیا کہ یہ تندرست ہو گئی ہیں اب آپ انہیں واپس لے جائیں لیکن انہوں نے اسے اولڈ ایج ہوم بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس کی صحت یہ سنتے ساتھ ہی بگڑ گئی اور وہ چوبیس گھنٹو ں ہی میں رخصت ہو گئی۔
اس واقعہ سے میرے دل کی دنیا زیر و زبر ہو گئی۔ میں انسانی جسم میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں ان میں خدا کا عمل دخل کچھ خاص تسلیم نہیں کرتا تھا۔ وہ جو صحت مند ہو چکی تھی لیکن اس کی روح موت کے سامنے سَپَر ڈال چکی تھی۔ جیسے حضرتِ مسیح ؑ نے فرمایا ”انسان کے لیے وہ نفع کس کام کا اگر وہ ساری دنیا حاصل کر کے روح کھو دے“…… مجھے احساس ہوا کہ علاج کے دوران اب مجھے جسم و روح دونوں کی فکر کرنی چاہیے، اور شافیءِ مطلق پر اعتماد کرنا چاہیے۔ اسباب اور مسبب الاسباب دونوں پر یقین ضروری ہے……نفسیات، علمِ طب میں جس تیزی سے داخل ہو رہی ہے، اس سے میرے اس خیال کو مزید تقویت ملی۔ امریکا میں حال ہی میں جو تجربات کیے گئے ان میں 70 سے 80 فیصد مریضوں کی بیماری کا سبب نفسیاتی اور ذہنی ہے۔ ان میں نصف وہ ہیں جن میں علالت کی بظاہر کوئی نشانی نظر نہیں آتی۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ عوارض محض اوہام و تصورات نہیں بلکہ یہ بیماریاں دنیا میں موجود ہیں۔ ان کے اسباب بھی تخیلاتی نہیں بلکہ ایک طبیب اگر تھوڑی سی عقل مندی سے کام لے تو انہیں فوراََ بھانپ سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان اعصابی بیماریوں کے اسباب کیا ہیں۔ ماہرینِ نفسیات نے جو تحقیقات کی ہیں تو بے شمار وجوہات میں سے چند اہم تر قوتِ ارادی کا فقدان، نفرت، خوف، مایوسی، شک، حسد، خود غرضی، منفی سوچ وغیرہ ہیں۔ نفسیاتی معالجین نے ان بیماریوں کا کھوج لگانے میں تو کمال مہارت کا ثبوت دیا ہے پر وہ اس کا صحیح علاج دریافت کرنے میں سخت ناکام ہوئے ہیں۔ خدا ہی ہے جو ان نفسیاتی عوارض سے پوری طرح واقف ہے لہذا اس نے اپنی کتابِ ہدایت میں خود ہی ان کا شافی علاج مہیا کیا ہے…… ایک طبیب کی حیثیت سے میں ا س نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ جب تک میں اپنے آپ کو روحانی طور پہ بھی مسلح نہیں کرتا، اس وقت تک درست معنوں میں کامیاب معالج نہیں بن سکتا۔ جب تک انسان اپنے عزائم اور ارادوں کو تعلیماتِ الٰہیہ سے ہم آہنگ نہیں کرتا اس وقت تک ذہنی اختلال دور نہیں ہو سکتا۔ تجربہ اس بات پہ شاہد ہے کہ شکستہ ہڈیاں اور دل اسی کی رحمت سے جڑا کرتے ہیں ……مجھے پھر وہ مردِ خدا یاد آگیا
میں جس کے قدموں میں بیٹھا کرتا……
ڈاکٹر عبدالقیوم سعادت دیکھنے سے ہی اِس جہان کے آدمی نہیں لگتے تھے۔ سعودیہ کے شاہی خاندان کے بھی معالج رہے۔ ان کے گھر میں سب میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ میں نے برکت کا مفہوم ان سے سمجھا۔ وہ دھیمے دھیمے رسان لہجے میں بڑی بڑی باتیں سمجھا جایا کرتے۔ ان کی ہاتھوں کی کی ملائمت، گداز اور تپش آج بھی مجھے محسوس ہوتی ہے۔ میں ان کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کی مسجد میں معتکف تھا۔ معدے کے مسائل ایک عرصہ تک میرے ساتھ چلتے رہے۔ وہاں بھی سخت درد اٹھا۔ انہیں بلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال چلے جائیں۔ میں نے عرض کی کوئی ٹیسٹ تجویز کیجئے۔ کہنے لگے ٹیسٹ میں آپ کے پیسے لگیں گے اور مجھ سے اس کی پوچھ گچھ ہو گی۔ ا س لیے بعد میں آپ میرے ہسپتال تشریف لائیے گا وہاں مکمل چیک کر کے پھر ٹیسٹ کے بارے میں بتاؤں گا، اللہ اللہ کیسے کیسے لوگ اس دنیا نے دیکھے ہیں …… یہاں تو بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ بغیر رکے مہنگے ترین ٹیسٹ فوراََ سے پہلے لکھ دیے جاتے ہیں جو کئی دفعہ غیر ضروری ہوتے ہیں۔ مریض کی کمزور جیب کے ساتھ دل بھی اجڑ جاتا ہے۔ فارما کمپنیز کے فوائد سمیٹنے کے لیے کتنوں ہی کے ایمان بکنے کا مشاہدہ خود مجھے حاصل ہے۔ اور اب تو مہارت کو ٹیسٹس ہی سے جوڑ دیا گیا، نباض نظر نہیں آتے، لیکن تشخیص پھر بھی اکثر مختلف مختلف بتائی جاتی ہے۔ نیز ایلو پیتھی سے مختلف چیز کو متکبرانہ انداز میں رد کر دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ طریقِ علاج تو کئی ہو سکتے ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب ایک مشہورسرکاری ہسپتال کے یورالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کلینک کرتے ہیں۔ لیکن اپنی پرائیویٹ پریکٹس وہ ہومیوپیتھی کے ساتھ چلاتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ آئرن جسم کو پہنچانے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔ کہنے لگے کسی موچی سے لوہے کی کیل لے آئیں۔ دھو کے رکھ دیں۔ اور پھر جب دو تین دنوں میں زنگ آجائے تو اسے پانی میں ڈال کر خوب پکائیں۔ پک پک کے پانی جب آدھا رہ جائے تو وہ پانی نوش کر لیں اور کیل پھر کسی ہوادار جگہ پہ دوبارہ زنگ آلود ہونے کے لئے رکھ دیں۔
ہم انسان بنیں ……
ایک کانفرنس میں لاہور کے ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال کی ایم۔ ایس کہہ رہی تھیں کہ پالیسی کی وجہ سے ہم غریب لوگوں کو داخلہ نہیں دے سکتے۔ اس لیے میں کچھ پریکٹس سرکاری ہسپتال میں کرتی ہوں …… مجھے سنتا ہوئے شدید جھٹکا لگا۔ کیا ہم واقعی انسان ہیں؟ انسان ایڑیاں رگڑ مرجائے لیکن اسے داخلہ نہ دو کہ کاغذ کے نوٹ تم جتنے نہیں رکھتا، اس کے جسم سے تمہارے جیسے مہنگے پرفیومز کی خوشبو نہیں آتی، اس کا گھر تمہاری طرح محل نہیں ہے۔ کتنے ہی ایسے حیوانی واقعات ہمارے علم میں ہیں۔ ہم کیوں اوقات بھول جاتے ہیں۔ ذرا معاشی اور معاشرتی خوشحالی یا اہمیت حاصل ہوئی تو کیوں انسان کی صفوں سے نکل کر خود کو خدا سمجھنا لگتے ہیں۔ یقیناََ اس لیے کہ خدا کا علم، حقیقت سے تعلق اس نظام نے سکھایا نہیں۔ گھر بے رونق ہیں، تعلیم گاہیں دھندے کی جگہیں ہیں۔ اخلاق و تربیت، تعلیم کا نتیجہ نکلے تو کیسے؟…… لیکن بہرحال یہیں امید کی شمعیں بھی ہیں۔ کہیں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی صورت، کہیں ڈاکٹر انتظار بٹ کی صورت…… موجود ہیں وہ جو اندھیرے سے لڑ رہے ہیں اور چراغ پہ چراغ جلا رہے ہیں۔ میں اپنے دوست ڈاکٹر نبیل ڈوگر کو کہا کرتا یار آدھے مریض تو تمہارے پاس ہنس ہنس کے ٹھیک ہوجاتے ہوں گے۔ اس سے مزاح پھوٹتا ہے۔ اس نے زندگی کی تلخیاں دیکھی ہیں اور انہیں مسکراہٹوں میں گزارا ہے۔
اس لیے اے معالجین……
٭ خدا کے اولیا بنو کہ تم براہِ راست اس کی تخلیق کو دیکھتے ہو۔
٭ عاجزی اور انکسار اختیار کرو کہ انسان کا پتا ہی تب چلتا ہے جب وہ اپنے سے کم وسائل والے کو تکریم دیتا ہے۔
٭ معاشرے نے گر تمہیں عزت دینی چاہی ہے تو اسے گنوانے کی ہرگز کوشش نہ کرو۔
٭ اپنی آمدن سے 10 فیصد کم از کم نکال دیا کرو، جس سے کم وسائل والوں کی خاموش مدد یا علاج کرکے شکرِ خداوند بجا لاؤ۔
٭ کسی غریب بستی میں کچھ وقت خدمتِ خلق کے لیے نکالو، کلینک کھول لو۔
٭ اپنے معیارِ زندگی اور چند فوائد کی خاطر ہمیشہ کی بدنامی اور رسوائی مول نہ لو۔
٭ تحقیق میں اترو اور خدا سے جوڑنے والے بنو۔
٭ خدمات سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہمیں احترام کا درجہ ملتا ہے۔ اس لیے اعلیٰ ترین اخلاق اور مسکراہٹ اختیار کرو۔ رش کو سفاکی کی وجہ نہ بناؤ۔
٭ حکومتی اقدامات سے ناراضی ہمیں لوگوں کی خدمت کرنے سے روک نہ دے۔
٭ مخلوق پر نرمی اختیار کرو، عرش والا تم پر نرم رہے گا۔
مصنف کے بارے میں:
سید ثمر احمد موٹیویشنل اسپیکر ہیں، ان سے اس ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button