کالم

جلوس

تحریک پاکستان کا زمانہ۔۔۔ حصول پاکستان کیلئے اور انگریزی استعمار کے خلاف جلوس‘ لاٹھی چارج‘ ہنگامے‘ پاکستان کا قیام اور طویل عرصے تک ایک کے بعد ایک بدلتی حکومت کا تماشا‘ پہلی آمریت کی آمد‘ اس کے خلاف ہنگامے اور جلوس‘ آمریت کی رخصتی اور نئی جمہوریت کے قیام کے لئے جلسے اور جلوس‘ سانحہ مشرقی پاکستان‘ جمہوری حکومت کا قیام اور پھر جمہوری حکومت کے خاتمے اور نظام مصطفی کے لئے ہنگامے اور جلوس‘ پھر طویل آمریت کی تاریک رات اور پھر اس سے نجات کے لئے جدوجہد‘ پھر بے نظیر کے آنے اور بے نظیر کے جانے کے لئے جلوس‘ نوازشریف کے آنے اور جانے کیلئے جلوس‘ باری باری کی بدلتی حکومتوں کا ڈرامہ‘ چہرے بدلتے سیاستدانوں کی مکاریوں کا ہنگامہ‘ کبھی جئے سندھ کی تحریک‘ کبھی پختونستان کے لئے ہنگامے اور جلوس‘ کبھی بلوچستان کی علیحدگی کی باتیں‘ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کے لئے جلوس‘ ایک جلوس ختم ہوا تو سیاستدانوں نے دوسرا جلوس شروع کردیا۔
عالمی صورتحال نئے خطرات کی نشاندہی کررہی ہے۔ اب جلوس عدلیہ کے سامنے پہنچ چکا ہے‘ سیاستدان اسی بہانے نئی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بے چارے عوام سوالیہ نشان بنے کھڑے سوچ رہے ہیں جو جلوس ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا چاہئے تھا‘ جو ہنگامہ قومی خوشیوں کے لئے ہونا چاہئے تھا‘ وہ تنزلی اور تباہی کا سامان کیوں پیدا کررہا ہے؟ اس طویل جلوس کی لمبائی میلوں اور میٹروں کے روایتی پیمانے سے نہیں ناپی جاسکتی۔ یہ لمبائی ساٹھ سالوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔ اگر یہ لمبائی بڑھتی گئی تو نہ جانے انجام کیا ہو؟

Leave a Reply

Back to top button