جرم کہانیخبریںدنیا سے

جمال خاشقجی کے قتل کے حکمنامے پر کس نے دستخط کیئے؟

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے کچھ قاتل انصاف سے بھاگ رہے ہیں۔
خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ترکی گزشتہ برس استنبول میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے پیچھے چھپا سچ سامنے لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی اب تک جاننا چاہتا ہے کہ جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے اور یہ آپریشن کس نے کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ قتل سعودی عرب میں پس پردہ طاقتوں کے ایجنٹس نے کیا۔
واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک کالم میں طیب اردوان نے بتایا کہ سعودی ایجنٹس کی جانب سے صحافی کا قتل 21ویں صدی کا سب سے زیادہ بااثر اور متنازع حادثہ ہے۔
خیال رہے کہ ترک صدر نے بیان ایک ایسے وقت میں دیا جب 2 اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کو ایک برس ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی پوچھتا رہے گا کہ ’جمال خاشقجی کی باقیات کہاں ہیں؟ سعودی صحافی کی موت کے حکم نامے پر کس نے دستخط کیے تھے؟ کس نے 2 طیاروں میں سوار 15 قاتلوں کو استنبول پہنچایا؟ ‘۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ انہوں نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم ہرگز نہیں دیا تاہم ملک کے رہنما ہونے کی حیثیت سے انہوں نے صحافی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ ’ جب سعودی حکومت کے لیے کام کرنے والے عہدیداران کی جانب سے سعودی شہری کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا جائے تو بطور رہنما میں لازمی اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، یہ ایک غلطی تھی‘۔
جمال خاشقجی کا قتل: کب کیا ہوا؟
سعودی شاہی خاندان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے اقدامات کے سخت ناقد سمجھے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی 2017 سے امریکا میں مقیم تھے۔
تاہم 2 اکتوبر 2018 کو اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا ہے۔
صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا۔
تاہم ترک حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ سعودی صحافی اور سعودی ریاست پر تنقید کرنے والے جمال خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کیا گیا۔
سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔
تاہم 12 اکتوبر کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر آواز اٹھانے والے 5 شاہی خاندان کے افراد گزشتہ ہفتے سے غائب ہیں۔
اس کے بعد جمال خاشقجی کے ایک دوست نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی صحافی شاہی خاندان کی کرپشن اور ان کے دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے معاملے پر امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے براہِ راست ملاقات بھی کی تھی۔
17 اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر زندہ ہی ٹکڑوں میں کاٹ دیا گیا۔
دریں اثنا 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندر جھگڑے کے دوران قتل کردیا گیا۔
علاوہ ازیں امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کا قتل طاقتور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حکم پر ہوا۔
مزید برآں دسمبر میں امریکی سینیٹ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا ذمہ دار قرار دینے سے متعلق قرارداد منظور کی جس میں سعودی حکومت سے جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ داران کا احتساب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
رواں برس جنوری میں ریاض کی عدالت میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 11 میں سے 5 مبینہ قاتلوں کی سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم اقوام متحدہ نے ٹرائل کو ‘ناکافی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح ٹرائل کی شفافیت کا جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔
بعدازاں اپریل میں ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ جمال خاشقجی کے قتل کیس میں جن 11 افراد کے خلاف ٹرائل چل رہا ہے ان میں سعودی ولی عہد کے شاہی مشیر سعود القحطانی شامل نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ نے جمال خاشقجی کے قتل کی تفتیش کے لیے 3 رکنی ٹیم تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہ نے جمال خاشقجی کے قتل کے الزام میں گرفتار مشتبہ ملزمان کی خفیہ سماعت کو عالمی معیار کے خلاف قرار دیتے ہوئے اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا۔
بعدازاں جون میں اقوام متحدہ نے تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔
اس دوران سعودی عرب کی جانب سے مقتول صحافی جمال خاشقجی کے 4 بچوں کو ‘خون بہا’ میں لاکھوں ڈالر مالیت کے گھر اور ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر رقم دینے کا انکشاف بھی سامنے آیا تاہم جمال خاشقجی کے خاندان نے سعودی انتظامیہ سے عدالت کے باہر مذاکرات کے ذریعے تصفیہ کی تردید کردی تھی۔

Leave a Reply

Back to top button