تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

جنگل جلیبی انسانی صحت کی محافظ اور قدرت کا ایک حسین شہکار

قدرت کی تخلیق کردہ کوئی بھی چیز بے فائدہ نہیں ہوتی۔جنگل جلیبی بیماریوں سے لڑنے کے لئے اپنے اندر مختلف خصوصیات رکھتی ہیں۔ اس کے بیجوں سے سبز رنگ کا تیل نکلتا ہے، جو فیٹی ایسڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں اولیک ایسڈ اور پالمیٹک ایسڈ بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

عام لوگوں کیلئے جنگل جلیبی ایک نیا نام ہے، تاہم حکمت سے تعلق رکھنے والے اس نام سے باخوبی واقف ہیں۔ یہ ایک پھل ہے جونظر آنے میں جلیبی کی طرح لگتا ہے۔ اسی لئے اسے جنگل جلیبی کہتے ہیں۔جنگل جلیبی کادوسرانام گنگا املی بھی ہے۔ اسے انگلش میں Manila tamarind کہتے ہیں، جبکہ نباتی نام Pithecellobium dulce ہے۔ اسے نہ صرف کچا کھایا جاتا ہے بلکہ اسے ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بیجوں سے تیل بھی نکالا جاتا ہے۔

مٹر کے کنبے سے تعلق رکھنے والایہ پھولدار پودا ایک خود رو پودا ہے جو وسطی امریکہ، بحر الکاہل کے ساحل اور میکسیکو کے ملحقہ پہاڑی علاقوں کے علاوہ فلپائن، منیلا میں بھی پایا جاتا ہے۔تاہم اب تھائی لینڈ اور جنوبی ایشیا کے ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔اس کا درخت 10 سے 15 میٹر کی اونچائی تک پہنچتا ہے۔اس کے پھول سرخ، سبز رنگ، سفید اور خوشبودار ہوتا ہے۔پھول کی لمبائی 12 سینٹی میٹر (4.7 انچ) تک ہوتی ہے۔ پھول سے ایک پھلی نکلتی ہے، جس کے اندر گودا ہوتا ہے۔ اسے کچا بھی کھایا جا سکتا ہے۔ جب یہ پک جاتی ہے تو اس کے اندر بیج بنتے ہیں۔جن سے تیل بھی نکالا جاتا ہے۔

جنگل جلیبی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
قدرت کی تخلیق کردہ کوئی بھی چیز بے فائدہ نہیں ہوتی۔جنگل جلیبی بیماریوں سے لڑنے کے لئے اپنے اندر مختلف خصوصیات رکھتی ہیں۔ اس کے بیجوں سے سبز رنگ کا تیل نکلتا ہے، جو فیٹی ایسڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں اولیک ایسڈ اور پالمیٹک ایسڈ بڑی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

جنگل جلیبی کے دیگر استعمال:
جنگل جلیبی کے اندر پایا جانے والا گودا کھٹا میٹھا ہوتا ہے۔ جسے میکسیکو، فلپائن، پاکستان اوربھارت میں کچا کھایا جاتا ہے۔ جبکہ اسے مختلف پکوانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ خصوصاً گوشت کے پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے گودے کو چینی یا شہد ڈال کر پانی کے ساتھ مشروب بھی بنایا جاتا ہے۔

بطور روایتی دوا:
بھارت میں اس درخت کی چھال کو ابال کر پیچش کے مرض میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور سری لنکا میں اسے بطور اینٹی پیریٹک بھی استعمال کیا جاتا ہے۔میکسیکو کے شمالی علاقوں میں اسے مسوڑوں کی بیماریوں، دانت میں درد اور کینسر کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

جنگل جلیبی کے فوائد:

قد لمباکرنے کے لئے:
اس میں پائے جانے اجزا قد کو لمبا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ حکمت میں اس کا نسخہ کچھ یوں ہے:2 عدد جنگل جلیبی کا گودا، دو عدد انجیر، پودینے کے چند پتے، شہد ایک چمچ،کلونجی ایک چٹکی، پانی میں بھگوئے ہوئے خشک آلوبخارے ایک سے دو عدد۔ ان سب کو ملا کر تھوڑا پانی ملاکربلینڈ کرکے پی لیں۔اس مشروب کو ہفتے میں تین سے چار بار استعمال کر سکتے ہیں۔

کالی کھانسی:
حکمت میں اسے کالی کھانسی کیلئے اکسیر قرار دیا جاتا ہے۔جس کا نسخہ یہ ہے کہ دیسی گھی دوچمچ لے کرجنگل جلیبی کے گودے کا سفید حصہ سات عدد کسی فرائی پان میں یا توے پر بھون کر جلا لیں اور پھر چھلنی سے چھان کررکھ لیں۔صبح شام اسے دوچمچ شہد میں ملاکراس آمیزے کاایک چمچ قہوے میں ملاکر پی لیں۔

گھبراہٹ اور بے چینی:
گھبراہٹ اوربے چینی کی صورت میں ایک گلاس پانی میں ایک چمچ جنگل جلیبی کے گودے کا پیسٹ ملاکر دوگھنٹے کے لئے رکھ دیں۔ اسکے بعد پی لیں۔

متلی اورقے:
متلی اورقے کی صورت میں ایک کپ پانی میں ایک چمچ جنگل جلیبی کا پسا ہوا گودا اورپودینے کی دس پتیاں ڈال کرایک سے دوابال آنے پر چھان کر پی لیں۔

بالوں میں آئل کا آنا:
بالوں میں چکنائی پیدا ہونے کی صورت میں دہی میں جنگل جلیبی کے گودے کو پیس کر ملا لیں اورچند قطرے لیموں کارس ملا کر ایک پیسٹ بنا لیں اور اس پیسٹ کو بالوں میں لگائیں ایک یا دو گھنٹے بعد بالوں کو دھو لیں۔

چہرے کا ماسک:
جلد کو چمکدار اور تروتازہ رکھنے کیلئے ایک جنگل جلیبی اورگڑ پیس کردونوں کوساتھ ملاکرچہرے پرماسک کے طورپرلگائیں۔

پین کلر آئل:
جنگل جلیبی کا گودا، سرسوں کاتیل دوسوملی لیٹر،رتن جوت ایک ٹکڑا، ہلدی بیس گرام،جائفل تین دانے،لونگ آدھاچمچ تمام اجزاء کو پکا کر ٹھنڈا ہونے پرچھان کراستعمال کریں۔

مہروں کا درد:
جنگل جلیبی کا گودا دس سے بارہ عدد، زیتون کے تیل میں کڑکڑالیں۔پھر اسمیں اسگند ناگوری، سرنجان شیریں، اجوائن خراسانی ملالیں۔تمام اجزاء کوپیس کر صبح وشام آدھا آدھا چمچ پانی سے لیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button