شخصیات

جولاہے سے لوہے کے سوداگر تک…… رانا اشتیاق احمد

اینڈریو کارنیگی کا شمار انیسویں صدی کے ان امریکیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ملک کی تعمیر وترقی میں تنہا ہوتے ہوئے بھی اداروں جیسا کام کیا۔ اینڈریوکارنیگی اعلیٰ پائے کا بزنس مین، کاروباری منتظم اور انسان دوست شخص تھا۔
وہ 25 نومبر 1835ء کو ڈنفرم لائن سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ ایک جولاہا تھا اور اس کے بارے میں بھی یہی گمان تھا کہ وہ اپنے باپ کا پیشہ ہی اختیار کرے گا لیکن 1840ء کی دہائی میں لینن انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ صنعتی انقلاب کی وجہ سے جب 1847ء میں بھاپ سے چلنے والی لومِیں سکاٹ لینڈ میں متعارف کروائی گئیں تو اس سے ہزاروں جولاہے بے روزگاری کا شکار ہو گئے۔
اینڈریو کارنیگی کا باپ بھی ان ہی بدقسمت لوگوں میں سے ایک تھا جن کی جگہ اب مشینیں کام کر رہی تھیں۔ جب خاندان کی معاشی حالت ابتر ہوئی تو اینڈریو کارنیگی کی ماں بھی کام کرنے لگی۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک چھوٹی سی کریانے کی دُکان ڈالی اور ساتھ جوتے مرمت کرنے کا کام بھی شروع کر دیا۔ اس دور کے اپنے حالات کے بارے میں بعد میں اینڈریو کارنیگی نے لکھا ”مجھے پتہ چلنا شروع ہو گیا کہ آخر غربت کیا ہوتی ہے، جب میرے باپ کو کام کے لیے دوسروں کی منتیں کرنا پڑتیں تو میرا دل جل کر رہ جاتا، اس وقت میں نے یہ عہد کر لیا کہ جب میں بڑا ہوں گا تو ان حالات کو ضرور سدھاروں گا“۔
خاندان کے معاشی حالات کی وجہ سے اینڈریو کی ماں نے سکاٹ لینڈ چھوڑ کر امریکہ میں بسنے کا ارادہ کیا جہاں اس کی بہن گزشتہ دس سال سے رہ رہی تھی۔ اینڈریو کی خالہ نے اس کی ماں کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امریکہ ایک ایسا ملک ہے جہاں کام کرنے والوں کی بہت زیادہ قدر کی جاتی ہے۔
امریکہ جانے کے لیے کارنیگی خاندان نے اپنی تمام جائیداد فروخت کر دی لیکن پھر بھی اتنی رقم کا بندوبست نہ ہو سکا کہ سفری اخراجات برداشت کئے جا سکتے۔ اس غرض سے انہوں نے 20 پاؤنڈ قرض لیا اور ایک چھوٹے سے بحری جہاز میں سفر کے لئے جگہ حاصل کی، اس جہاز پر انہوں نے 50 دن پر محیط ایسا سفر کرنا تھا جو کھانے پینے اور آرام کرنے کے حوالے سے جوکھم بھرا تھا۔ مشکلات سے بھرپور اس کے بعد اینڈریو خاندان نیویارک پہنچا۔ یہاں سے مزید تین ہفتوں کی مسافت کے بعد یہ لوگ پیٹزبرگ پہنچے، یہی وہ جگہ تھی جہاں ان کے بے حال اور غربت کے مارے بیٹے اینڈریو کارنیگی نے اپنی قسمت آزمانی تھی۔
اینڈریو کارنیگی اور اس کے والدین 1848ء میں جب پیٹزبرگ پہنچے تو مہاجرین کی کثرت کے باعث اس جگہ پر بھی کام تلاش کرنا کوئی آسان امر نہیں تھا۔ خیر جوں توں کر کے اینڈریو کارنیگی کے باپ ولیم کارنیگی کو ایک کاٹن فیکٹری میں کام مل گیا۔ اینڈریو کو بھی اسی عمارت میں چرخی پر دھاگہ چڑھانے کی نوکری ملی جہاں اس کی اْجرت 1.20 ڈالر فی ہفتہ تھی۔ اس کے بعد اینڈریو کارنیگی نے ٹیلی گراف آفس میں پیغام رساں کے طور پر بھی نوکری کی۔ کارنیگی نے اس عمر میں بھی جو کام کیا، اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کیا۔ وہ ہمیشہ نئے نئے مواقع کی تلاش میں رہتا تھا۔ ٹیلی گراف آفس میں کام کرتے ہوئے اس نے نہ صرف شہر کے تمام راستوں سے آگاہی حاصل کی بلکہ امیر اور بااثر شخصیات کے گھروں کے ایڈریس بھی یاد کر لیے۔
اینڈریو کو بعض ترسیلات کے لیے تھیٹر بھی بھیجا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لئے وہ کوئی ایسا انتظام کر لیتا کہ تھیٹر میں ترسیلات کی ڈلیوری رات کے وقت ہو، اس وجہ سے اسے وہاں شیکسپیئر اور دیگر بڑے ڈرامہ نگاروں کے ڈرامے دیکھنے کا موقع ملتا جس کی وجہ سے اس کے اندر حصول علم کی وہ پیاس جاگی جو زندگی بھر اس کے ساتھ رہی۔ ٹیلی گراف آفس میں ہی انیڈریوکارنیگی کی ملاقات ٹامس اے سکاٹ سے ہوئی جو اس وقت پنسلوینیا ریل روڈ میں کیریئر کا آغاز کرنے والا تھا۔ ٹامس کو اینڈریور کارنیگی کے کام کا انداز اور اس کی لگن اس قدر پسند آئی کہ اس نے اسے 1853ء میں اپنا پرائیویٹ سیکرٹری رکھ لیا۔ یہیں سے اینڈریو کارنیگی کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ شروع ہوا۔ پیسے پیسے کو ترسنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والا اینڈریو کارنیگی اپنے ان ایام کے بارے میں بعد میں لکھتا ہے ”میں سوچا کرتا تھا کہ میں اتنے زیادہ پیسوں کا آخر کروں گا کیا۔“ پنسلوینیا ریل روڈ میں کارنیگی ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے پیٹزبرگ ڈویژن کا سپرنٹنڈنٹ بن گیا۔ خانہ جنگی کا آغاز ہونے پر ٹامس کو فوجی ترسیلات کی نگرانی کے لیے ہائر کر لیا گیا، وہاں بھی اینڈریو کارنیگی اس کے دستِ راست کے طور پر کام کرتا رہا۔
خانہ جنگی کے باعث لوہے کی صنعت نے بہت زیادہ ترقی کی۔ کارنیگی نے صورت حال بھانپ لی کہ آنے والا دور لوہے کی مصنوعات کے حوالے سے انتہائی اہم دور ہو گا اس لیے اس نے 1865ء میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنے کاروبار پر توجہ مرکوز کر لی۔
اگلے دس سال تک کارنیگی کا زیادہ تر وقت سٹیل انڈسٹری میں گزرا۔ اس کی کمپنی ”کارنیگی سٹیل کمپنی“ نے امریکہ میں لوہے کی صنعت میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس نے ایسی ٹیکنالوجی اور طریقے استعمال کیے جن کی وجہ سے لوہے کی پیداوار آسان اور تیز ہو گئی۔ خام مال، بحری جہاز، اشیاء کی ترسیل کے لیے ریل روڈز، یہاں تک کہ کوئلے کے ذخائر سمیت ہر وہ چیز جو اس کے کام میں ضروری تھی، کارنیگی اس کا مالک تھا۔
’آغاز سے انجام تک‘کی یہ حکمت عملی اس قدر مؤثر ثابت ہوئی کہ اینڈریو کارنیگی کا شمار بہترین کاروباری حضرات اور امیر ترین لوگوں میں ہونے لگا۔ اس وجہ سے کارنیگی کو”امریکہ کا معمار“بھی کہا جانے لگا کیونکہ اس کی کاوشوں سے امریکی معیشت اس نہج پر پہنچ گئی جہاں یہ اب ہے۔ 1889ء تک”کارنیگی سٹیل کارپوریشن“ اپنی نوعیت کی دْنیا کی سب سے بڑی کمپنی تھی۔
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کارنیگی کی کمپنی نے اتنی زیادہ ترقی ورکرز کی قربانی دے کر حاصل کی۔ 1892ء میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مزدوروں کی تنخواہ کم کرنے کے فیصلے کے باعث مزدور یونین نے کام سے ہڑتال کر دی۔ یہ واقعہ کارنیگی کے پیٹزبرگ پلانٹ پر پیش آیا، اس لیے اسے ”ہوم سٹیڈ سٹرائیک 1892“ بھی کہا جاتا ہے۔ منیجرز اور ورکرز کے درمیان اس تصادم کے وقت گو کہ کارنیگی وہاں موجود نہیں تھا لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے منیجرز نے سب کچھ اس کی مرضی سے ہی کیا تھا، بعض لوگ آج بھی انیڈریوکارنیگی کو اس امر کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
1901ء میں کارنیگی نے زندگی میں ڈرامائی تبدیلی لاتے ہوئے اپنے بزنس”یونائیٹڈ سٹیٹس سٹیل کارپوریشن“کو فروخت کر دیا۔ اس وقت یہ ڈیل 2 سو ملین ڈالر میں ہوئی تھی۔ 65 سال کی عمر میں کارنیگی نے اپنی زندگی کے باقی دن دوسروں کی مدد کرنے میں گزارنے کا عہد کیا۔ حالانکہ انسان دوست کاموں کا آغاز وہ پہلے ہی کر چکا تھا، جس کے تحت کئی لائبریریاں بنائی جا چکی تھیں۔
کارنیگی جو مطالعہ اور کتاب بینی میں انتہائی حریص ثابت ہوا تھا، نے 1901ء میں نیویارک پبلک لائبریری کو 50 لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا تا کہ لائبریری مختلف علاقوں میں اپنی شاخیں کھول سکے۔ اس نے پیٹزبرگ میں ”کارنیگی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی“ قائم کیا، جو 1904ء تک ملین یونیورسٹی کے نام سے معروف ہو گیا۔ 1905ء میں اس نے ”کارنیگی فاؤنڈیشن“ کی بنیاد رکھی۔ 1910ء میں اینڈریو کارنیگی نے ”کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس“ کی بنیاد رکھی۔ اس کے علاوہ اور کئی مقاصد کے لیے بھی اس نے بے شمار عطیات دیئے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کارنیگی کی مدد سے مختلف علاقوں میں 2 ہزار 800 مزید لائبریریاں کھولی گئی تھیں۔
کاروبار اور فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ کارنیگی کو سیروسیاحت کا بھی بہت زیادہ شوق تھا، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات سے ملنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ کارنیگی کی میتھیوآرنلڈ، مارک ٹوین، ولیم گلیڈسٹون اور تھیوڈر روزویلٹ جیسی شخصیات سے دوستی تھی۔
اس کے علاوہ کارنیگی نے کئی کتابیں اورآرٹیکل بھی لکھے۔ 1889ء میں اس نے ایک آرٹیکل ”دولت“ لکھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ جن کے پاس بے شمار دولت ہے اس سے دوسروں کی مدد کرنا ان کی سماجی ذمہ داری ہے، جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1900ء میں یہی آرٹیکل کتاب کی صورت میں سامنے آیا جس کا نام ”گاسپل آف ویلتھ“ تھا۔
1919ء میں اپنی موت تک اینڈریو کارنیگی 350 ملین ڈالر عطیہ کے طور پر خرچ کر چکا تھا جبکہ 2010ء تک اس کی بنائی فاؤنڈیشن کی طرف سے عطیہ کردہ رقم 4.4 بلین امریکی ڈالر تھی۔ آج اینڈریو کارنیگی کو اس کے فلاحی کاموں، کاروبای رازوں، تعلیمی عطیات اور لائبریریوں کے حوالے سے سب سے زیادہ یاد کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button