Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
کالم

جو مٹا وہ چمکا…… نعیم سلہری

ققنس ایک اساطیری پرندہ ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک خاص عمر کو پہنچ کر یہ خوشبودار درخت کی خشک ٹہنیاں اکٹھی کرتا ہے جو آگ پکڑ لیتی ہیں اور ققنس اس آگ میں جل کر جان دے دیتا ہے۔ پھر اس راکھ سے ایک نیا ققنس جنم لیتا ہے۔ بقول شاعر:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہیے
کہ دانا خاک میں مل کر گل وگلزار ہوتا ہے
جو theme ان دونوں مثالوں میں بیان کیا گیا ہے، مولانا جلال الدین رومی ؒ اسے گندم کے دانے کے ذریعے بڑے آسان اور عام فہم انداز میں بیاں کرتے ہیں۔ ان کی ایک حکایت کا مفہوم کچھ یوں ہےِ، آپ ؒ فرماتے ہیں کہ روحانیت کے میدان میں آگے بڑھنے کے لئے سختیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں، خود کو مٹانا پڑتا ہے، بالکل ایسے جیسے گندم کا دانہ اُگنے اور ثمر آور ہونے کے لئے زمین میں منوں مٹی کے نیچے دب جاتا ہے۔ چونکہ اس میں اُگنے کی خواہش ہوتی ہے اس لئے وہ زمین کا سینہ پھاڑ کر باہر نکل آتا ہے، اُگ جاتا ہے۔ اُگنے کے بعد وہ موسم کی سختیاں، دھوپ چھاؤں،گرمی سردی سہتا اور ہواؤں کے تھپیڑے برداشت کرتا ہے۔ اس کے بعد اس پر مزید دانے لگتے اور پکتے ہیں۔ انسان اسے کاٹ کر، سُکھا کر چکی میں پیستا، گوندھ کر آٹا بناتا، آگ پر پکاتا اور دانتوں سے چبا کر نگل جاتا ہے۔ دانے کا مقصد چونکہ انسانی جسم کا حصہ بن کر اسے تقویت دینا اور زندہ رکھنا ہے اس لئے وہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے سختیاں برداشت کرتا اور اپنی ذات کو مٹا دیتا ہے۔
”اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی“ میں بھی شاعر مشرقؒ کا پیغام اسی سے ملتا جلتا ہے۔ زندگی کا سراغ، اس کی کھوج کہیں باہر نہیں بلکہ انسان کے اندر، اس کی اپنی ذات میں پنہاں ہے۔ اگر خدا کو بھی پانا ہے تو تلاش اپنی ذات سے شروع ہوتی ہے۔ اگر دُنیوی کامیابی حاصل کرنی ہے تو بھی سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں کو جاننا لازمی ہے۔ جب انسان اپنی صلاحیتوں سے واقف ہو جاتا ہے تو خود پر اُس کا بھروسہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بھروسہ ہی اُسے کامیابی کی شاہراہ کا مسافر بناتا ہے۔ اس بات پر اس لئے زور دیا جاتا ہے کیونکہ ہر انسان کے اندرکوئی نہ کوئی خاص صلاحیت ہوتی ہے جو اس کو دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔ جب تک آپ اس پوشیدہ صلاحیت کو نہیں پہچانیں گے، آپ اندھیروں میں بھٹکتے رہیں گے اور ہر قدم پر دوسروں کی طرف دیکھیں گے کہ اب کیا کیا جائے۔ اس مخمصے سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو ڈھونڈیں، خودکو پہچانیں اور اپنی راہیں خود تلاش کریں کیوں کہ انسان اپنی پوشیدہ توانائیوں کو پہچاننے کے بعد ہی اپنے لئے، معاشرے اور خاندان کے لئے صحیح معنوں میں مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
جب آپ خود کو پہچان لیں، اپنی منزل نگاہوں میں بھر لیں، تب ققنس بن جائیں، گندم کا دانہ بن جائیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے آخری حد تک جائیں۔ وہی لوگ دوسروں کے لئے مشعل راہ بننے میں کامیاب ہوتے ہیں جو طارق بن زیاد کی طرح کشتیاں جلا کر میدان میں اترتے ہیں، وہی لوگ کٹھن حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں جو”کر جاؤ یا مر جاؤ“ کی پالیسی پر عمل پیرا رہتے ہیں، وہی لوگ ہیرو بنتے ہیں جو اس وقت آگے بڑھتے ہیں جب دوسرے پسپائی اختیار کرنے کا سوچ رہے ہوتے ہیں، وہی لوگ ”کچھ“ نہیں سے ”سب کچھ“ بنتے ہیں جنہیں ان کے خواب سونے نہیں دیتے۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ نے آگے بڑھنے والوں کے ساتھ ملنا ہے یا پسپائی اختیار کرنے والوں کا ہمرکاب بننا ہے، خود کو رسوا کر کے دنیا چھوڑنی ہے یا گل و گلزار بننے کے لئے اپنی ہستی کو مٹانا ہے…… جو بھی کرنا ہے…… فیصلہ صرف اور صرف آپ کا ہے کیونکہ اگر آپ خودگرنا چاہیں گے تو کوئی اٹھا نہ سکے گا اور خود اٹھنے کا عہد باندھ لیں گے تو کوئی آپ کو گرا نہ سکے گا۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!