تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

جگر کی حفاظت آپ کریں یہ آپ کی کرے گا

آپ اپنے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان صحت مند غذاؤں کو اپنائیں، جبکہ نقصان دہ کھانوں سے گریز کریں۔درج ذیل غذاؤں کو اپنی خوراک کا ضرور حصہ بنائیں۔

جگر (liver) جس کو علم طب و حکمت میں کبد بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا عضو کے کہ جو رنگت میں گہرا سرخ اور نرم گوشت کی مانند ہوتا ہے۔ جگر کو انسانی جسم کا سب سے بڑا اندرونی عضو تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ اپنے مقام کے اعتبار سے بطن کے بالائی اور دائیں جانب کے حصے میں نچلی پسلیوں کے پیچھے اور سینے کو بطن سے جدا کرنے والے diaphragm کے بالکل نیچے واقع ہوتا ہے۔ جگر جاندار کے جسم میں حیات (بالفاظ دیگر عملِ استقلاب (metabolism)) کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے اور طبی شواہد کے مطابق اس کے افعال کی غیر موجودگی میں انسان لگ بھگ عرصہ چوبیس گھنٹے سے زائد جی نہیں سکتا۔
یہ استحالہ کاخاص مرکز ہے یعنی غذا، دوا الغرضیکہ جو کچھ بھی انسان کھاتا پیتا ہے، جگر اپنی طبعی حرارت سے اسے پکاتا اور منظم کرتا ہے۔ غذا کو ہضم ہونے، توانائی کے ذخیرے اور زہریلے مواد کو نکالنے کا کام کرتا ہے۔جس طرح شریان دل سے اُگتی ہیں، اسی طرح وریدیں جگر سے اُگتی ہیں۔ یہیں سے خون دل کے دائیں اذن میں پہنچتا ہے۔

تاہم مختلف عادات یا وقت گزرنے کے ساتھ جگر کو مختلف امراض کا سامنا ہوسکتا ہے اور وائرسز جیسے ہیپاٹائٹس اے، بی اور سی سمیت دیگر جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آپ اپنے جگر کو مختلف بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان صحت مند غذاؤں کو اپنائیں، جبکہ نقصان دہ کھانوں سے گریز کریں۔درج ذیل غذاؤں کو اپنی خوراک کا ضرور حصہ بنائیں۔

لہسن:
زہریلے مواد کا اخراج جگر کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے اور لہسن اس حوالے سے بہترین غذاؤں میں سے ایک ہے، لہسن میں ایک اینٹی آکسائیڈنٹ الیسین جسم کو تکسیدی تناؤ سے ہوین والے نقصان سے بچاتا ہے۔ الیسین وہ اہم بائیو ایکٹیو کمپانڈ ہے جو جگر کے انزائمے کو حرکت میں لاکر نقصان دہ مواد کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سبز پتوں والی سبزیاں:
اپنی پلیٹ کو سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک یا ساگ وغیرہ سے جتنا بھریں گے، اتنا ہی جگر کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ یہ سبزیاں قدرتی طور پر جگر کی صفائی میں مدد دیتی ہیں۔

چقندر:
چقندر میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چقندر کا جوس پینے کی عادت ڈی این اے کے نقصان کو کم کرکے جگر کو نقصان پہنچانے والی انجری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

1 2 3 4اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button