تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

جھائو میں ہے جریان اور لیکوریا کا مکمل علاج

اس کے پتوں سے تیل کشید کیا جاتا ہے جو گہرا بھورے رنگ کا چپچپا ہوتا ہے، جس کی مہک میٹھی پھولوں جیسی ہوتی ہے۔جس میں کیپری لیک ایسڈ، فینولز، ایلی فیٹکس، تارپینین،ایسٹرز، سکوپارین اور سپارٹین کے علاوہ گوند، آئرن اور کوبالٹ پائی جاتی ہے۔

جھاڑی نما جھاؤ کا پودا تقریباً دو سے تین میٹر اونچا ہوتا ہے۔اس کی شاخیں اوپر کو پھوٹتی ہیں۔جبکہ تنا لچک دار ہوتا ہے۔ پتے سرو کے پتوں جیسے ہوتے ہیں۔اس کے پھول مٹروں جیسے زرد اور خوشبودار ہوتے ہیں۔ اس میں چھوٹے چھوٹے کسی قدر گول بے ڈھنگے سے پھل لگتے ہیں،جو کڑوے ہوتے ہیں اور کھانے کے کام نہیں آتے۔یہ بڑی مائیں کے نام سے دواؤں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کا قرآن میں سورہ سبا ء میں ایک مقام پر آیا ہے۔
جھاؤ ایک خودرو پودا ہے جو اب دنیا بھر میں ان مقامات پر ہوتا ہے جو آبپاشی یا زراعت کے قابل نہیں ہوتیں،بنجر صحرائی زمین میں عام طور پر دریا کنارے اگتا ہے۔جھاؤ کا اصل وطن جنوبی یورپ بالخصوص سپین اور جنوبی فرانس ہے۔پاکستان میں جھاؤ کے پودے خاص طور پر دریائے سندھ کے علاقے میں بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔جبکہ ایران اور افغانستان میں بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔
اسے اردو میں جھاؤ، فارسی میں گز، بنگالی میں جھاؤ، سنسکرت میں جھاؤک، سندھی میں لئی جوون، پنجابی میں پجھی،ہندی میں تمرس،عربی میں اثل یا طرفا اورانگریزی، جرمنی، فرانسیسی میں Tamarix کہتے ہیں، جبکہ اسے Broom Spanishبھی کہا جاتا ہے۔

جھاؤ کی تین اقسام ہیں۔
1۔سفید جھاؤ
2۔سرخ جھاؤ
3۔اور کانٹے دار قسم صرف راجستھان میں پائی جاتی ہے۔

جھاؤ کے تیل میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اس کے پتوں سے تیل کشید کیا جاتا ہے جو گہرا بھورے رنگ کا چپچپا ہوتا ہے، جس کی مہک میٹھی پھولوں جیسی ہوتی ہے۔جس میں کیپری لیک ایسڈ، فینولز، ایلی فیٹکس، تارپینین،ایسٹرز، سکوپارین اور سپارٹین کے علاوہ گوند، آئرن اور کوبالٹ پائی جاتی ہے۔

جھاؤ کے فوائد و استعمال:
جھاؤ کی ٹہنیاں اور چھال قدیم زمانے سے مضبوط ریشہ بنانے کیلئے استعمال کی جا رہی ہیں اور اس ریشے سے رسیاں اور کھردرا کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔ شاخوں سے ٹوکریاں، چھپر،باڑیں اور جھاڑوبنائے جاتے ہیں۔

اس کے تیل کو صابنوں، کاسمیٹکس، اور ہائی کلاس پرفیومز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ الکوحل کے مشروبات اور سافٹ ڈرنکس میں ذائقہ بہتر کرنے کیلئے بھی شامل کیا جاتا ہے۔

جھاؤ کے طبی فوائد:

تِلّی کے مسائل:
جَھاؤ کے پتے اور اسکی لکڑی بڑھی ہوئی تِلّی کو اصلی حالت میں لاتے ہیں۔اس کا لیپ لگاتے ہیں، جوشاندہ پلاتے ہیں، جَھاؤ کی لکڑی کے پیالے میں پانی پینا بھی تِلّی کے مریضوں کے لیے مفید ہے۔

زخموں کا علاج:
جَھاؤ کے پتّوں کی دُھونی دینے سے زخم خشک ہو جاتے ہیں۔ بواسیری مسّے بھی کچھ دِنوں تک برابر جَھاؤ کے پتّوں کی دھونی دینے سے مرجھا کر گر جاتے ہیں۔

جریان، لیکوریا:
جھاؤ کے پھل قابض اور خون کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ جریان، سُرعت اور سیلان الرحم (لیکوریا) میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

مسوڑوں کا علاج:
مسوڑھے اگر ڈھیلے پڑ گئے ہوں، دانت ہلتے ہوں تو جھاؤ کے پتوں کا جوشاندہ سے کُلیّاں کرنے سے آرام ہو جاتا ہے۔ گلے کے ورم میں اس کے جوشاندے سے غرارے کرنا بھی مفید ہے۔

خون بہنا:
اگر کسی زخم سے خون بہہ رہا ہو تو اس کے پتوں اور چھال کی راکھ سے خون کا بہنا بند ہو جاتا ہے۔ استحاضہ (کثرتِ حیض) کی حالت میں اور مرض سیلان الرحم میں اس کا سفوف تیار کر کے کھلانے سے فائدہ ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button