مختصر تحریریں

جھگڑا کون اور کیوں کرتا ہے؟

اگر یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ یہ جتنے لوگ بیٹھے ہیں، سب کو اللہ تعالیٰ جنت میں لے جائے، یہی ہم سفر ہیں، یہی ہمارے ساتھ وہاں بھی ہوں گے تو پھر جھگڑا نہیں ہو گا۔
جھگڑا اس وقت ہوتا ہے جب انسان اپنے آپ کے لئے جنت الاٹ کرتا ہے اور دوسرے کو دوزخی کہتا ہے، پھر جھگڑا ہوتا ہے۔۔۔
تو آپ دوسرے کو بھی جنت میں جانے دیں، جہاں آپ جا رہے ہیں …… پھر جھگڑا نہیں ہو گا۔ اس کے حق میں بھی دُعا کرو تو جھگڑا نہیں ہو گا۔
جھگڑا کرنے والا، جھگڑا کم ظرفی میں کرتا ہے، لاعلمی میں کرتا ہے، مطلب پرستی میں کرتا ہے ورنہ جھگڑا نہیں ہوتا۔
چھوٹا علم جھگڑا کرتا ہے اور بڑے علم والے نہیں جھگڑتے۔ جب کو بات سمجھ آ گئی تو جھگڑا نہیں ہو گا…… پھر جھگڑا ختم ہو جاتا ہے۔ جس نے، کچھ دیکھ لیا تو جھگڑا ختم ہو گیا۔ اور جس کو علم نہیں ہوتا وہ جھگڑا کرتا رہتا ہے کہ یہ ہے، وہ ہے، اِدھر ہے، اْدھر ہے۔ اس کے پاس بحثیں اور جھگڑا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بار بار کہا کہ تم فساد نہ کرنا۔ جب فرشتوں کے ساتھ ڈائیلاگ ہوا تھا تو فرشتوں نے کہا کہ آپ اس انسان کو پیدا فرما رہے ہیں یہ تو تو خون بہائے گا جھگڑا کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے کہا۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ ”میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے“۔
جو جھگڑا کرنے والا ہے اس کے اندر شر ہے۔ یہ فرشتوں کا اندازہ تھا کہ انسان جھگڑا کرے گا لیکن اللّہ تعالی ٰکا یقین تھا کہ یہ جھگڑا نہیں کرے گا۔
تو جو جھگڑا چھوڑ دے وہ اللہ تعالیٰ کے اعتماد پر پورا اترا۔ اور جو جھگڑا کر رہا ہے، اس نے فرشتوں کے اعتماد کو قائم کیا۔
اب یہ تمہارا کام ہے کہ خود ہی سوچ لو کہ وہ تو جھگڑا کر رہا ہے۔ لیکن تم جھگڑا نہ کرو۔
یہ حضورپاک ؐ کا معجزہ تھا کہ جھگڑا کرنے کے لئے ایک آدمی تلوار لے کے آپؐ کے پاس گیا اور آپؐ نے فرمایا کہ جھگڑا نہیں کرنا اور السلام علیکم کہہ دیا، کہ تم پر سلامتی ہو۔ پھر، تلواریں کدھر رہتی ہیں۔۔۔
کلمہ پڑھا گیا اور ختم ہو گئی بات۔
جھگڑا نہ کرنا ہی اخلاق ہے۔
تو آپ جھگڑا نہ کرو بلکہ اْس کو محبت کے ساتھ نوازو۔ انشاء اللہ تعالیٰ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
ماخذ: ”گفتگو 10“ از حضرت واصف علی واصف ؒ، انتخاب: حمود خان شیروانی

Leave a Reply

Back to top button