سیلف ہیلپ

جیتنے کیلئے مہارت کیوں ضروری ہے؟…… نعیم سلہری

کوئی تین سال قبل کریئر کونسلنگ پر ایک سیمینار میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جب ٹرینر نے لیکچر شروع کیا تو جس بات نے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا، وہ تھی”آپ زندگی میں کچھ بھی کریں، کچھ بھی بن جائیں، ضروری یہ ہے کہ آپ جیسا کوئی دوسرا نہ ہو۔ چاہے آپ موچی بن جائیں، اس میں بھی کوئی حرج نہیں لیکن ایک شرط ہے…… ایسے موچی بنیں کہ شہر کے تمام لوگ جوتا مرمت کروانے آپ ہی کے پاس آئیں“۔
پروگرام کے بعد بار بار ذہن میں یہ خیال ابھرا کہ بھلا کریئر کونسلنگ کے پروگرام میں کوئی موچی بننے کا مشورہ کیسے دے سکتا ہے۔ کافی سوچ کے بعد راز کھلا کہ اس مثال کا مقصد تخصیص یعنی Specialization کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ میں جب بھی اس مثال کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق پرنسپل اور مایہ ناز استاد پروفیسر ڈاکٹر عبدالحمید اعوان کا فقرہ یاد آجاتا ہے جو ان کے انگریز استاد نے اس وقت بولا جب انہوں نے ان سے مستقبل میں شعبے کا انتخاب کرنے کے لئے مشورہ مانگا تھا۔ وہ فقرہ یوں ہےThere is scope in every field but at the top یعنی ”سکوپ تو ہر شعبہ میں ہوتا ہے مگر ان کے لئے جو سرفہرست ہوں“۔ سوچا جائے تو کسی بھی شعبہ میں سر فہرست وہی لوگ رہتے ہیں جو اپنے میدان کے ماہر ہوتے ہیں اور یہ مہارت یقیناً متعلقہ شعبہ میں تخصیص ہی سے حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں! اپنی ذات میں ڈوب کر…… نعیم سلہری
آج ہم تخصیص (Specialization) کے دور میں زندہ ہیں۔ چیزیں روزانہ کی بنیاد پر بدلتی ہیں، زندگی زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث ہمیں آئے روز مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے۔ اب وہ دن نہیں رہے جب ایک ہی انسان مختلف چیزیں سنبھال لیتا تھا، اب چیزوں کا تنوع اُسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لیے اب ماہر افرادی قوت کی ضرورت پیدا ہو چکی ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہر ایک انسان کو اپنے متعلقہ شعبے میں ماہرین کی خدمات حاصل کرنا پڑتی ہیں۔
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اپنے پسندیدہ شعبے کے لیے باقی تمام امور کو نظرانداز کر دیں۔ آپ کو ایک ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ اچھی خاصی فطری ذہانت اور متنوع دلچسپیوں کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ دُنیا وسیع اور زندگی تغیرات سے بھر پور ہے، ایسے میں اگر آپ خود کو اپنی چھوٹی سی دُنیا تک ہی محدود کر لیں گے تو آپ باہر کی کائنات سے کٹ کر محض کنوئیں کا مینڈک بن کے رہ جائیں گے۔
اس حوالے سے شہرہ آفاق کتاب Every Street is Paved with Gold کے مصنف اور کوریائی کمپنی، ڈائیوو کے چیئرمین کِم وُو یُنگ کا کہنا ہے”میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم کنواں گہرا کھودنے کی جلدی میں اس کی چوڑائی کو نظرانداز کر جاتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ جتنا گہرا کھودنا چاہتے ہیں آپ کے پاس زمین کا ٹکڑا چوڑائی میں بھی اسی نسبت سے ہونا چاہیے۔ اگر آپ صرف گہرائی کو ہی ذہن میں رکھیں گے تو ابتداء میں آپ کو ایسا لگے گا آپ کامیاب ہو جائیں گے لیکن کچھ گہرائی میں جا کر آپ کو احساس ہو گا کہ زیادہ گہرا کھودنے کے لئے چوڑائی کا خیال رکھا جانا انتہائی ناگزیر تھا۔ اس لیے کھودنے سے پہلے مناسب جگہ کا بندوبست کرنا ضروری ہوتا ہے“۔
اب بیک وقت طاقت اور عزت ومرتبہ کے حصول کا دور گزر چکا ہے۔ آپ کو طاقت ماہر ہونے سے ملتی ہے اور مقام ومرتبہ اپنے شعبے میں یکتا ہونے سے عطا ہوتا ہے۔ آپ کے سامنے ڈاکٹروں کی اتنی زیادہ عزت کیوں کی جاتی ہے، میرے خیال میں انہیں یہ احترام ان کی مہارت کے باعث ملتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی کے ماہرین کی عزت کا سبب بھی ان کی خاص شعبوں میں مہارت ہی ہے۔
کِم وو ینگ کہتے ہیں ”کافکا، دوستوفسکی اور کامیؤ جیسے شہرہ آفاق مصنفین کو آج تک اسی لیے یاد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے شعبے یعنی ادب کے ماہرین تھے۔ وہ ادب کی ان بلندیوں تک پہنچے جہاں تک دوسرے رسائی حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے وہ کیا جو دوسرے یا تو کر نہیں سکتے تھے یا پھر انہوں نے کیا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں! علم کی دیوانگی…… سید ثمر احمد
لہذا، آپ کا شعبہ کوئی بھی ہو، اس کے ماہر بنیئے، اس میں جادوئی مہارت کے حامل بن جائیے، اس میں یکتا یعنی ایسا بن جایئے کہ دوسرا کوئی ایسا نہ ہو۔ ایسا کرنے سے ہی آپ کو عزت اور مقام ومرتبہ مل سکتا ہے۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ایسا کیسے کیا جائے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ جو بھی آپ کر رہے ہیں اس میں ڈوب جائیں، اس کام کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیں۔ خیالات، عقل اور ادارک انہی لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں جو سر تا پا اپنے کام میں غرق ہو جاتے ہیں۔ کاوشوں کا تسلسل توڑ کر نئے خیالات کے حصول کے لیے سستانا سب سے بڑی حماقت ہے۔
کاغذ پر لفظ قلم کی نوک سے اُترتے ہیں، لہٰذا بہترین تحریر کے لیے لکھتے جائیں، لکھتے جائیں اور بس لکھتے جائیں، یہی فنِ تحریر میں مہارت کا واحد اور مؤثر طریقہ ہے۔ اسی طرح تمام شعبہ ہائے زندگی میں مہارت، کاملیت اور ادارک مکمل محویت سے ملتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے زمین سے پانی حاصل کرنے کے لئے ایک ہی جگہ پر خاص گہرائی تک کھدائی کرنا پڑتی ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ سو فٹ کی مطلوب کھدائی آپ دس مختلف جگہوں پر دس دس فٹ کر کے پانی حاصل کر لیں۔ یاد رکھیں! ننانوے فیصد ذہین افراد اپنی محنت سے غیرمعمولی بنتے ہیں، اس لیے آپ بھی اپنے شعبے کے غیر معمولی ذہین بننے کے لیے کام میں ڈوب جائیں اور کاملیت حاصل کریں۔ آپ کا شعبہ کوئی بھی ہو، اس کے ماہر بنیئے، اس میں جادوئی مہارت کے حامل بن جایئے، اس میں یکتا یعنی ایسا بن جایئے کہ دوسرا کوئی نہ ہو۔ ایسا کرنے سے ہی آپ کو عزت اور مقام ومرتبہ مل سکتا ہے اور دوسروں کے لئے قابل تقلید بن سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button