HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » خبریں » اقتصادیات » حاثیوں کے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر 7 ڈرون حملے

حاثیوں کے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر 7 ڈرون حملے

پڑھنے کا وقت: 2 منٹ

یمن میں سعودی اتحاد سے برسرپیکار حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر 7 ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’العربیہ‘ کے مطابق یمن میں حکومتی-سعودی اتحاد کے خلاف جنگ میں مصروف حوثی باغیوں کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں سعودی عرب کے بندرگاہ ينبع البحر میں تیل کے دو پمپنگ اسٹیشن پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

حوثی باغیوں کے ترجمان نے مزید کہا کہ تیل کے پمپنگ اسٹیشن پر سات ڈرون حملے کیے جس سے تیل کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایسے حملے مستقبل بھی جاری رہیں گے۔ یمن میں شروع کی گئی جنگ اب یمن سے نکل کر سعودی عرب تک پہنچ جائے گی۔

سعودی حکام نے حوثی باغیوں کے دعویٰ پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم سعودی عرب کی جانب سے اس عمل کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے حالیہ حملوں کو خطے میں تیل کی فراہمی کو روکنے کی مذموم کوشش کہا ہے۔ سعودی عرب نے پمپنگ اسٹیشن حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی وزیر توانائی خالد الفالح نے گزشتہ روز بندرگاہ ينبع البحر میں تیل کے پمپنگ اسٹیشن کی پائپ لائن نمبر 8 اور 9 پر دہشت گردوں کی جانب سے دو ڈرون حملوں سے آگاہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا تھا کہ حملوں میں کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔

المیسرہ نیوز نے خبر دی ہے کہ یمنی سرکاری فوج نے الضالع اور الحدیدہ پر کی جانے جارحیت کے جواب میں اتحادی افواج کے تربیتی مرکز کو زلزال 1 نامی میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

یمنی ذرائع کے مطابق میزائل حملے میں متعدد سعودی اہلکار ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ چند روز پہلے یمنی فورسز نے جیزان اور کوہ قیس کے علاقوں میں ایک بڑے حملے کو پسپا کیا تھا جس میں بھی متعدد کرایے کے فوجی مارے گئے تھے۔

دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کے حمایت یافتہ سعودی کرایے کے فوجیوں نے الضالع اور الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر حملے کئے جس کے نتیجے میں متعدد نہتے شہری زخمی ہوگئے۔

الحدیدہ میں سعودی کرایے کے فوجیوں کے حملوں میں ایک خاتون اور شیرخوار بچہ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

جواب دیجئے