تجزیہسیاسیات

حافظ سعید کے انتخابات میں حصہ لینے پر امریکا پریشان

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی جانب سے آئندہ انتخابات میں سیاسی مہم چلانے کے ارادے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھرنیورٹ نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ حافظ سعید ‘ممبئی دھماکوں کے ماسٹر مائنڈ’ ہیں اور امریکا کو ان کی سیاسی مہم چلانے پر تحفظات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) تنظیم جماعت الدعوۃ کی سیاسی جماعت ہے جسے حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ عدالت نے حافظ سعید کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیا تھا اور انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ بھارت اور امریکا الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ 2008 میں ممبئی بم دھماکوں میں حافظ سعید کا ہاتھ تھا۔

امریکا نے 2012 میں چھ امریکیوں کی ہلاکت کی مبینہ ذمہ داری حافظ سعید پر عائد کی تھی اور ان کے سر کی قمیت 1 کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔

اس سے قبل حافظ سعید اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

ہیتھرنیورٹ نے کہا کہ ‘انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے 1 کروڑ ڈالر مختص ہیں اور جو شخص حافظ سعید کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گا، اس کے لیے 1 کروڑ ڈالر ہے’۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہمارے پاس حافظ سیعد کے خلاف خفیہ اطلاع ملی تو پاکستان میں متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کی جائے گی تاکہ وہ ضروری اقدام اٹھائیں’۔

خیال رہے کہ یکم جنوری 2017 کو پنجاب حکومت نے حافظ سعید کو نظر بند کرنے کے احکامات جاری کیے تھے اور تقریباً 3 سو دن نظر بندی کے بعد گزشتہ مہینے 23 نومبر کو عدالتی حکم کے بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔

Leave a Reply

Back to top button