تازہ ترینخبریںپاکستان سے

حالیہ ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ادارہ شماریات

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.50 فیصد کی معمولی کمی جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح ابھی بھی 20.05 فیصد پر برقرار ہے۔ کم آمدنی والا طبقہ مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر رہا۔ نچلے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 21.92 فیصد رہی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار مہنگائی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے سردی کے موسم میں آگ جلانے والی لکڑی، چینی، مٹن، انڈے، ویجیٹیبل گھی اور چکن سمیت مجموعی طور پر 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

آلو، ٹماٹر، پیاز، سرخ مرچ، ایل پی جی، دال ماش اور آٹے سمیت سات اشیاء سستی ہوئی ہیں، 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔
ہفتہ وار بنیادوں پر گذشتہ ہفتے کے دوران چکن 2.16 فیصد، انڈے 1.45 فیصد، دال مسور 1.10 فیصد، چائے 2.05 فیصد مہنگے ہوئے جبکہ پیاز 2.39 فیصد اور ٹماٹر 30.92 فیصد، سرخ مرچ پاوڈر 5.78 فیصد، دال ماش 0.22 فیصد، آٹا 0.42 فیصد سستا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 21.92 فیصد، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 19.77 فیصد، 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 18.49 فیصد، 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں18.05 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 20.10 فیصد رہی ہے۔

اعداد و شمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران جن 22 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں چینی، مٹن، انڈے، ویجیٹیبل گھی، دال مسور، دال چنا، چائے، چاول، لہسن، کپڑے دھونے والا صابن، خشک دودھ، دہی، دال مونگ، سرسوں کا تیل، مٹن، بیف، آگ جلانے والی لکڑی، گڑ اور چکن سمیت سمیت دیگر اشیائے ضروریہ شامل ہیں۔

اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے دوران جن 7 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے ان میں آلو، ٹماٹر، پیاز، سرخ مرچ، ایل پی جی، دال ماش اور آٹا شامل ہیں البتہ 22 اشیائے ضرویہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button