ادب

حبیب جالب: شاعرِجمہور، مزاحمت کی آواز…… راشد آفاض

جب حبیب جالبؔ نے یہ نعرہ مستانہ بلند کیا:
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
تو کون کہہ سکتا تھا کہ یہ نعرہ اس قدر مقبولیت حاصل کرلے گا کہ لیفٹ اور رائٹ بلاامتیاز اس نعرے کو قبول کرلیں گے۔
جالبؔ کے لہجے کی بے باکی …… جو کہ مزاحمتی شاعری اور مزاحمتی ادب کا خاصا سمجھی جاتی ہے، لوگوں کو ایک مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچ لے گی۔ پاکستان میں اگر کسی شاعر کو عوامی شاعر کا اعزاز حاصل ہے تو بلاشبہ وہ حبیب جالبؔ کی ذات ہے۔
میری رہائش کرشن نگر اسلام پورہ میں ہے۔ میری گلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حبیب جالبؔ صاحب اسی گلی میں رہائش پذیر رہے۔ یہ 1980ء کی بات ہے، ان کی رہائش کے سامنے والا گھر فلمسٹار یوسف خان کا تھا۔ اسی گلی میں کالم نگار منوبھائی، گلوکار شوکت علی، عالم لوہار اور احمد رُشدی بھی رہائش پذیر تھے اور یہ سب لوگوں کے گھر آمنے سامنے تھے۔ بچپن میں ان لوگوں کو دیکھتا تھا لیکن ان کے قدوقامت کا اندازہ نہیں تھا۔ حبیب جالبؔ اور فلمسٹار یوسف خان آمنے سامنے رہتے تھے۔ گلی میں کرکٹ کھیلتے ہوئے ہماری گیند ان کے گھر میں جاگری، میں نے پہلی بار حبیب جالبؔ کو دیکھا تو وہ اپنے گھر کے صحن میں چارپائی پر بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ سفیدشلوار قمیض، بال بکھرے ہوئے اور قریب ہی ایک نہایت سادہ سی خاتون تپائی پر بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھیں۔ وہ حبیب جالبؔ کی اہلیہ تھیں۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا (ساڈی گیند چھت تے اے)۔ ہماری گیند چھت پر ہے۔ جواب میں حبیب جالبؔ نے سر کی جنبش سے اشارہ کیا کہ لے لو۔ پھر اس کے بعد معمول سا ہو گیا۔ وہ مجھے کہیں ملتے تو میں خواہ مخواہ انہیں سلام کر دیتا لیکن وہ تو اپنے ہی خیالوں میں مگن رہتے تھے۔ جی چاہتا تو جواب دے دیتے، نہ چاہتا تو نہیں دیتے تھے۔
ایک روز ایسے ہی ہم کرکٹ کھیل رہے تھے کہ پولیس کی دو گاڑیاں حبیب جالبؔ کے گھر کے باہر آگئیں۔ پولیس والے چھلانگیں مارتے اُترتے اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم کرکٹ چھوڑ کر ان کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ پولیس والے کے استفسار پر ان کی اہلیہ نے بتایا کہ وہ رات سے گھر نہیں آئے لیکن پولیس والے بضد تھے کہ وہ تلاشی لیں گے لیکن ان کی اہلیہ انہیں روک رہی تھیں۔ پولیس والے زور زبردستی کرتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس آگئے۔ اس عمر میں مجھے شاعری کی سمجھ بُوجھ تو تھی نہیں (وہ تو ابھی بھی نہیں) کہ میں سمجھ سکتا کہ اس گھر میں پولیس کا چھاپہ کسی ڈاکو یا چور کو پکڑنے کے لیے نہیں مارا گیا بلکہ حاکم وقت کو سرعام للکارنے کے جرم میں پولیس حرکت میں آئی ہے۔
تھوڑا آگے چل کر کالج میں مجھے ایسے دوستوں کی صحبت میسر آگئی جن کی بدولت میری حبیب جالبؔ سے شاعری کی حد تک شناسائی ہو گئی اور مجھے ان کی قدروقیمت کا اندازہ ہونا شروع ہوا۔ فیضؔ صاحب کی نظم ”ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے“ اور ”ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا“ ہم تمام دوست کورس کی شکل میں کالج کی کینٹین کے باہر گایا کرتے تھے۔ خوش نصیبی سے عطاء الحق قاسمی، امجداسلام امجد اور تحسین فراقی ہمارے اساتذہ میں شامل تھے۔ ان کے توسط سے شاعری کو سمجھنا قدرے آسان ہو گیا تھا۔ فیضؔ، جالبؔ، فراز ؔ اور ساحرؔ کو پڑھنا، ان پر گھنٹوں بحث ومباحثہ کرنا روزانہ کے معمولات میں شامل تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ مجھے جالبؔ اس لیے بھی پسند تھے کہ وہ میرے ہمسائے میں رہتے تھے اور جب یہ بات میں اپنے دوستوں کو بتاتا تو وہ بہت حیران ہوتے اور میرا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔
دراصل ہمارے ملک کی فضا قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ایک عجیب سے ماحول میں پروان چڑھی ہے۔ بہتر سالوں میں تقریباً چھتیس سال اس ملک پر آمریت مسلط رہی ہے۔ عوامی بالادستی کا خواب ہر پانچ سال بعد چکنا چُور ہوا۔ حقیقی عوامی قیادت کے انتخاب کو ہمیشہ پس پشت ڈال دیا گیا۔ چور دروازے سے اقتدار کی مسند تک پہنچنے کی ہر کوشش کی گئی۔ حقیقی عوامی مسائل، صحت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور بنیادی ضرورتوں سے پہلوتہی کی گئی۔
اس کے نتیجے میں عوامی ردعمل پر اور عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کو فیضؔ، جالبؔ اور فرازؔ جیسے شاعر میدان میں آتے ہیں اور پھر وہ اس زبان میں گفتگو کرتے ہیں جو عوام سننا چاہتی ہے۔ وہ اسی انداز میں حکمران ٹولے کو للکارتے ہیں جس طرح لوگ للکارنا چاہتے ہیں لیکن کر نہیں سکتے۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
کہتے ہیں کہ بڑا آدمی اپنے اصولوں کی پاسداری کرتا ہے۔ حبیب جالبؔ کی اپنے اصولوں کے ساتھ وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس شخص نے انہیں جھوٹے مقدمے میں جیل بھجوایا، جب تک وہ برسراقتدار رہا حبیب جالبؔ اپنے شعروں میں اس پر بھرپور تنقید کرتے رہے اور بہت بے باک لہجے میں کرتے رہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کے اقتدار کا سورج تمام ہوا اور جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تو حبیب جالبؔ ایک مشاعرے میں چیخے۔ پنڈال میں ”لاڑکانے چلو، لاڑکانے چلو“ کا شور برپا ہو گیا۔ لوگ یہ نظم سننا چاہتے تھے۔
حبیب جالبؔ کو یہ مناسب نہیں لگا کہ اس وقت یہ نظم سنائی جائے۔ حبیب جالبؔ نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو! میں حکمرانوں کے خلاف اپنے جذبات کا اس وقت اظہار کرتا ہوں جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں۔ ”بھٹو صاحب اس وقت جیل میں ہیں، ان پر بہت مشکل وقت ہے“۔
اعلیٰ ظرفی کی یہ مثال جس کا مظاہرہ حبیب جالبؔ نے کیا، ایمانداری سے بتایئے کہ کیا یہ وصف آج کے سیاستدانوں میں موجود ہے؟ ضیاء الحق کی آمریت معاشرے میں اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ بھٹو صاحب جیل جاچکے تھے۔ ان پر قتل کا مقدمہ چلایا جارہا تھا۔ حبیب جالبؔ نے ضیاء الحق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔:
ظلم کو ضیا مرمر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اور پھر یہ شعر بھی دیکھئے:
کہاں قاتل بدلتے ہیں فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں
کہاں تک دوستوں کی بے رُخی کا ہم کریں ماتم
چلو اس بار بھی ہم ہی سر مقتل نکلتے ہیں
پھر اسی دور میں سیاسی قائدین کے علاوہ ادیب، دانشور، صحافی، شاعروں پر بھی بہت مشکل وقت تھا۔ حبیب جالبؔ کوٹ لکھپت جیل میں بھیج دیئے گئے۔ انہوں نے معافی نہیں مانگی۔
وہیں انہوں نے یہ نظم لکھی اور یہ نظم کسی طریقے سے جیل سے باہر پہنچ گئی اور بے حد مقبول ہو گئی۔ جیل حکام اور حکامِ بالا کے علم میں یہ بات آئی تو سزا کے طور پر حبیب جالبؔ کو میانوالی جیل منتقل کر دیاگیا۔
جالبؔ صاحب کا کہنا تھا کہ میانوالی جیل میں ہم اس کمرے میں رہے جہاں جواہر لعل نہرو، مجیب الرحمان اور ذوالفقار علی بھٹو کو رکھا گیا تھا۔ جالب اس کی اس مشہورِ زمانہ نظم کے کچھ اشعار:
دوستو جگ ہنسائی نہ مانگو
موت مانگو رہائی نہ مانگو
عمر بھر سر جھکائے پھرو گے
سب سے نظریں بچائے پھرو گے
اپنے حق میں بُرائی نہ مانگو
موت مانگو رہائی نہ مانگو
عوام کے حقوق اور حکمرانوں کو سرعام للکارنا حبیب جالبؔ کی سرشت میں شامل تھا۔ بینظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومت کے ادوار میں بھی انہوں نے اپنا لہجہ ترک نہیں کیا، حتیٰ کہ بینظیر نے اپنے پہلے دورِحکومت میں حبیب جالبؔ کی کتاب ”حرف سردار“ کو پذیرائی کی غرض سے انعام سے نوازا لیکن جالبؔ نے اس انعام کو ٹھکرا دیا اور بینظیر بھٹو کے دور میں ہی ان کی ایک نظم کو جو عوامی مقبولیت حاصل ہوئی، وہ بھی قابلِ رشک ہے۔
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بینظیروں کے
عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا شاید حبیب جالبؔ کا مقصدِ حیات تھا۔ نوازشریف دور میں بھی وہ اپنی شاعری سے حکمرانوں کو جھنجھوڑتے رہے۔
نہ جان دے دو نہ دل دے دو
بس اپنی ایک مِل دے دو
زیاں جو کر چکے ہو قوم کا
تم اس کا بِل دے دو
جالبؔ کو دُکھوں اور پریشانیوں نے گھیرا تو وہ بیمار رہنے لگے۔ ان کی صحت کو بہت نقصان ہو گیا۔ صحت دن بدن گرتی جارہی تھی۔ وہ بے حد نڈر، بے باک، جرأت اظہار سے لبریز شاعر، حقیقی معنوں میں عوام کا ہمدرد شاعر، 1993ء میں ہم سب کو چھوڑ کر منوں مٹی تلے جابیٹھا۔
اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے
سو گئے خواب سے لوگوں کو جگانے والے
مزاحمت کی ایک توانا آواز، شاعرِ جمہور کو ہم سب کا سلام۔

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button