تجزیہسیاسیات

حترمہ بینظیر بھٹو شہید۔۔۔بے مثال جدوجہد اور قربانی نے انہیں جمہوریت کی علامت بنادیا

مقصودگوہر۔۔۔
27دسمبر 2007ء ۔۔۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس دن کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ لیاقت باغ کا جلسۂ عام جس سے محترمہ بینظیر بھٹو خطاب کررہی تھیں، وہ عوام اور کارکنوں کو جمہوریت کو درپیش خطرات سے آگاہ کررہی تھیں۔ ان کی آواز میں ایک للکار تھی۔ وہ کہہ رہی تھیں پاکستان میں جمہوریت اور آپ کے حقوق کون بچائے گا ۔۔۔ میں بچاؤں گی ۔۔۔ آپ بچائیں گے ۔۔۔ ہم سب مل کر بچائیں گے ۔۔۔ اور پھر جلسے کے اختتام پر ان کا سٹیج سے اُترنے کا انداز ۔۔۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا ۔۔۔ وہ صرف چند لمحوں کی مہمان ہیں۔ ایک ایسی سازش تیار ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں انہیں شہید کردیا جائے ۔۔۔ وہ اپنے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ گاڑی پر سوار ہوئیں۔ راستے میں گاڑی کا روٹ تبدیل کردیا گیا ۔۔۔ اور پھر ایک جگہ ہجوم نے ان کی گاڑی کو دیکھ کر نعرے لگانے شروع کردیئے۔ بینظیر نے سمجھا کہ وہ اس کے کارکن ہیں، وہ گاڑی سے باہر نکلیں، ہاتھ ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں ۔۔۔ کہ دائیں طرف سے ایک شخص نے پستول سے فائر کیا، دھماکہ ہوا ۔۔۔ اور پھر اندھیرا چھا گیا ۔۔۔ زخمیوں کی چیخوں کے سوا کچھ سُنائی نہیں دے رہا تھا۔ بینظیر بھٹو دُشمن کارسازش کا نشانہ بن چکی تھیں۔ انہیں قریبی ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں۔ رُتبۂ شہادت سے سرفراز ہوچکی تھیں۔ ان کی شہادت کی خبر پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس المناک حادثے پر ہر دل سوگوار تھا، ہر آنکھ اشکبار تھی۔
بینظیر بھٹو جسے جمہوریت کی علامت قرار دیا گیا، جسے چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دیا گیا، جو جمہوریت کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح شہادت سے ہمکنار ہوئیں اور پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئیں۔ وہ دو مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئیں اور دونوں مرتبہ ان کی حکومت کو مختلف الزامات کے تحت ختم کردیا گیا۔ بینظیر بھٹو کو پاکستان اور عالمِ اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو 21جون 1953ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے دادا شاہنواز بھٹو سندھ کے معروف سیاستدان تھے۔ وہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور نصرت بھٹو کی سب سے بڑی اولاد تھیں۔ ان سے چھوٹے بہن بھائی شاہنواز بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور صنم بھٹو تھیں۔ سیاست اور سیاسی جدوجہد بینظیر بھٹو کو ورثے میں ملی۔ جس طرح بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم تھیں، اسی طرح ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو بھی پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم تھے، جنہوں نے عملی سیاست کا آغاز ایوب خان کے دور میں کیا اور پھر حالات نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ بھٹو نے ایوبی آمریت کو للکارا اور سیاسی جماعت ’’پاکستان پیپلزپارٹی‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ان دنوں چونکہ سوشلزم کا بڑا چرچا تھا، پاکستانی سیاست دائیں اور بائیں بازو میں تقسیم تھی، اس لیے بھٹو صاحب نے بھی بائیں بازو کی سیاست کا آغاز کیا۔ عام آدمی کی بات کی، مزدور اور کسان کو ان کے حقوق کا شعور دیا۔ ایوب آمریت کے خلاف بھرپور تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس دوران قیدوبند کی آزمائشوں سے گذرنا پڑا۔ آخرکار وہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور ایوب خان کو مستعفی ہونا پڑا۔ نتیجے میں یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا۔ نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔ انتخابی مہم کے دوران پیپلزپارٹی نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا، جس میں عام آدمی کے لیے کشش تھی۔ بھٹو کی بات عوامی اور سیاست بھی عوامی تھی۔ شعلہ بیان مقرر تھے۔ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھتے تھے۔ اس لیے مغربی پاکستان میں انہیں مقبولیت حاصل ہوئی جبکہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی قیادت شیخ مجیب الرحمن کررہے تھے۔ ان کی انتخابی مہم ان چھ نکات کے گرد گھومتی تھی جو صوبائی خودمختاری کے حوالے سے تھے۔ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں اکثریت حاصل کی اور پیپلزپارٹی نے مغربی پاکستان میں انتخابی ریس جیت لی۔ عوامی لیگ اکثریتی جماعت تھی، اقتدار اسے ملنا چاہیے تھا مگر حالات نے پلٹا کھایا۔ یحییٰ خان، مجیب الرحمن اور ذوالفقار علی بھٹو کسی ایک نکتے پر متفق نہ ہوسکے اور سانحہ مشرقی پاکستان رُونما ہوگیا۔ پاکستان کا ایک بازو کٹ گیا۔ مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش کی شکل میں ایک نیا ملک بن گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے پہلے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اقتدار سنبھال لیا اور پھر کچھ عرصے بعد منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھالیا۔ یوں پاکستان میں جمہوریت تو آگئی مگر قوم کو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بچے کھچے پاکستان کو مشکلات سے نکالا۔ قوم کو نیاجذبہ دیا۔ شملہ معاہدے کے نتیجے میں جنگی قیدیوں کی واپسی، اسلامی سربراہ کانفرنس، نیشنلائزیشن یا ایٹمی پاور بننے کے لیے جدوجہد، اس دور کے اہم نکات ہیں۔ یہی وہ دور تھا جب تعلیم کے ساتھ ساتھ بینظیر بھٹو کو اپنے والد کے قریب ہوتے ہوئے ان کی سیاست کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ شملہ معاہدہ اور دوسرے اہم مواقعوں پر ذوالفقارعلی بھٹو، بینظیر بھٹو کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی اولاد میں سے بینظیر بھٹو ہی ان کے سیاسی سفر کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ بینظیر بھٹو کو باپ کی طرف سے سیاست اور جدوجہد وراثت میں ملی مگر اقتدار نہیں ملا۔ اس نے سیاست کی گود میں جنم تو لیا مگر اقتدار کے لیے اسے الگ سے جدوجہد کرنا پڑی اور طوفان بن کر آمریت کے پہاڑوں سے ٹکرانا پڑا۔
1977ء میں انتخابی دھاندلی کے حوالے سے بھٹو حکومت کے خلاف تحریک چلی جو کہ تحریک نظام مصطفی میں تبدیل ہوگئی۔ حالات کی درستی کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کے مذاکرات کامیاب ہونے کے باوجود 5جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت ختم کر کے مارشل لاء کا نفاذ کردیا۔ 90دن میں نئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیا گیا مگر بات وعدے تک ہی محدود رہی۔ بھٹو کے خلاف اپنے سیاسی مخالف کو قتل کرانے کا مقدمہ چلا اور پھر بھٹو کو سزائے موت دے دی گئی۔ بھٹو سیاست کا یہ تلخ دور تھا جب بینظیر بھٹو کی عملی سیاست کا آغاز ہوا۔ بینظیر بھٹو کی سیاست کا جنم صدمے اور دُکھ کی کوکھ سے ہوا۔ بینظیر بھٹو ایوانِ اقتدار سے لے کر جیل کی کال کوٹھڑی تک اپنے والد کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔
ذرا تصور کیجئے اس بیٹی کی حالت، جس کا باپ لمحہ بہ لمحہ موت کی طرف بڑھ رہا ہو۔ وہ بچی جس کا جنم ایک شہزادی کی طرح ہوا اور پھر ہوش سنبھالتے ہی اُسے قدم قدم پر موت کے ہولناک اندھیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ سچی بات ہے محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی جانشین ہونے کا حق ادا کردیا ۔ اس نے جمہوریت کا پرچم وہیں سے اُٹھایا جہاں اس کے والد کو پھانسی ہونے کے نتیجے میں گرا تھا۔ ذرا تصور کریں وہ وقت جب بڑے بڑے سیاسی لیڈر خاموش تھے، بینظیر بھٹو اپنی والدہ کے ساتھ اِدھر سے اُدھر بھاگ رہی تھیں۔ حالات ہوا میں تنکے کی طرح اُسے اُڑا کر اِدھر سے اُدھر لے جارہے تھے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اُسے باپ کے ساتھ آخری ملاقات کرنا تھی۔ آخری ملاقات کے بعد ماں، بیٹی کو نظربند کردیا گیا۔ پورے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ ہوا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہو گئی۔ بیٹی کو باپ کی میت کا آخری دیدار کرنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ یہ وہ صدمہ تھا ۔۔۔ جس کے نتیجے میں اس نے تنکے کی طرح اِدھر اُدھر بھٹکنے کے بجائے آمریت سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا۔ والدہ کے ساتھ پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ اس لیے کہ پیپلزپارٹی کے جیالے کارکن بینظیر بھٹو کے ساتھ کھڑے تھے۔ یہ ایک پُرآشوب دور تھا، جب ایوانِ سیاست کو تالے لگے ہوئے تھے۔ ہر طرف خاموشی تھی، آواز سُنائی دیتی تھی تو ہتھکڑیوں اور زنجیروں کی جھنکار کی اور کوڑوں کی سرسراہٹ کی۔ بینظیر بھٹو کو طویل عرصے کے لیے نظربند کردیا گیا اور پھر یہ نظربندی جلاوطنی میں بدل گئی۔ جلاوطنی میں بھی بینظیر بھٹو کی طرف سے کسی نہ کسی حوالے سے سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کارکن اپنی قائد کا انتظار کررہے تھے۔ ضیاء الحق کی آمریت کے دور میں پیپلزپارٹی اور بھٹو فیکٹر کو ختم کرنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کیے گئے مگر نتیجہ زیرو رہا۔ اپنے گیارہ سالہ دورِاقتدار میں جنرل ضیاء الحق مرحوم عوام کی اتنی بھی تائید حاصل نہ کرسکے کہ ایک جلسۂ عام کرسکیں۔ ان کے دورِاقتدار میں افغان جنگ، روس کی شکست اور طالبان کو عروج حاصل ہوا۔ فرقہ پرستی اور دہشت گردی کو فروغ ملا، جس کا سامنا آج تک پاکستان کو ہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے غیرجماعتی بلدیاتی انتخابات کرائے۔ مجلس شوریٰ کا قیام عمل میں لایا۔ پاکستان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے اپنی مرضی کے انتخابات کرا کے محمدخان جونیجو کو وزیراعظم بنا کر لولی لنگڑی جمہوریت کو بحال کرنے کا عندیہ دیا۔ پھر اپنے ہی نامزدکردہ وزیراعظم کو برطرف بھی کردیا۔ ضیاء الحق مرحوم نے ہراس ایلیمنٹ کو سپورٹ کیا جو پیپلزپارٹی مُردہ باد کا نعرہ لگاتا تھا۔ چاہے وہ ملک دُشمن ہی کیوں نہ ہو، جس کے نتیجے میں فرقہ پرستی کے ساتھ ساتھ لسانی تعصب کی لہر کو بھی فروغ حاصل ہوا۔ شاہراہوں، سینماؤں میں جگہ جگہ بم دھماکوں کی صورت میں دہشت گردی کی وارداتیں ہونے لگیں۔ 86ء میں بین الاقوامی دباؤ کے تحت محترمہ بینظیر بھٹو کو پاکستان آنے کی اجازت ملی اور پھر بینظیر بھٹو کی آمد پر جیسا ان کا استقبال ہوا، اسے آج بھی مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ پھر 88ء میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا مگر انتخابات سے قبل ہی ضیاء الحق کا طیارہ دہشت گردی کا شکار ہوگیا۔ ان کے ساتھ بہت قومی افسر بھی شہید ہوگئے۔ یہ بھی قومی المیہ اور سانحہ تھا۔
1988ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی تمام تر سازشوں کے باوجود اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے سامنے آئی۔ گو کہ بہت بڑی اکثریت نہ پیپلزپارٹی کو پارلیمانی اتحاد کے ذریعے حکومت بنانا پڑی۔ اس وقت بھی بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار منتقل کیا گیا جس میں سب سے بڑی شرط خارجہ پالیسی کو پُرانے تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کی تھی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے مختلف شرائط کے ساتھ اقتدار قبول کرلیا اور یوں وہ پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم کے طور پر سامنے آئیں۔ سیاسی ناقدین کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کو مشروط طور پر اقتدار قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر وہ حزب اختلاف میں بیٹھ جائیں تو تھوڑے عرصے بعد ہی واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آتیں۔ اس حوالے سے بینظیر بھٹو کا مؤقف تھا کہ پیپلزپارٹی کے کارکن قربانیاں دے دے کر اور ماریں کھا کھا کر تھک چکے تھے۔ میں انہیں ریلیف دینا چاہتی تھی۔ اب نقشہ کچھ اس طرح کا تھا کہ مرکز میں بینظیر کی حکومت تھی اور پنجاب میں ضیاء الحق مرحوم کے نظریاتی جانشین نوازشریف کی حکومت تھی۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔کھینچاتانی کی سیاست کا دور کم وبیش 2سال تک چلا اور مختلف الزامات کے تحت بینظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کردیا۔ دوبارہ انتخابات کے نتیجے میں میاں نوازشریف برسراقتدار آگئے۔ ان کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا کھیل دُہرایا گیا۔ ان کا دور کھینچاتانی کی سیاست کا دور بنا۔ سیاسی گھوڑوں کی خریدوفروخت بھی ہوتی رہی۔ آخرکار اسی نوعیت کے الزامات کے تحت میاں صاحب کی حکومت کو بھی برطرف کردیا گیا۔ پھر انتخابات ہوئے اور پیپلزپارٹی کی حکومت بن گئی۔ گویا سیاست اور اقتدار کا کھیل میوزیکل چیئر والا کھیل بن گیا۔ بینظیر بھٹو کو دونوں مرتبہ اپنے دورِاقتدار میں اپنے شوہر کے حوالے سے تنقید اور الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انہی کے دورِاقتدار میں ان کے حقیقی بھائی مرتضیٰ بھٹو کو شہید کردیا گیا اور مرتضیٰ کی شہادت کی وجوہات بھی آج تک سامنے نہ آسکیں۔ شوہر کے بعد دو بیٹوں کی غیرفطری موت کے سانحہ نے محترمہ نصرت بھٹو کے حواس ختم کردیئے۔ وہ بیمار ہوگئیں۔ بینظیر بھٹو کو اپنی ہی پارٹی کے منتخب صدر سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا اور مختلف الزامات کے نتیجے میں بینظیر بھٹو کی حکومت دوبارہ ختم کردی گئی۔ نوازشریف بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آگئے۔ آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کو مختلف مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ نتیجے میں بینظیر بھٹو اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ بیرون ملک چلی گئیں۔ ان کے اس عمل کو خودساختہ جلاوطنی بھی قرار دیا گیا۔
ادھر نوازشریف اپنے بھاری مینڈیٹ کا بوجھ نہ سنبھال سکے۔ ان کے آرمی چیف پرویزمشرف سے اختلافات ہوگئے۔ ان اختلافات کے نتیجے میں وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل پرویزمشرف کی برطرفی کا منصوبہ تیار کرلیا، مگر اس سے پہلے کہ نوازشریف اپنے منصوبے پر عمل کرنے میں کامیاب ہوپاتے، جنرل پرویز مشرف کے ساتھیوں نے مارشل لاء کا نفاذ کر کے نوازشریف کی حکومت کو ختم کردیا۔ شریف برادران کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان پر آرمی چیف کے طیارے کے اغوا کا مقدمہ بنایا گیا، جس میں انہیں سزائے موت بھی ہوسکتی تھی۔ ان حالات میں سعودی حکومت کی مداخلت سے شریف برادران اور پرویز مشرف حکومت کے دوران ایک معاہدہ ہوا، جس کے نتیجے میں شریف برادران کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ انہیں سعودی عرب کی طرف سے سیاسی پناہ دی گئی۔ پوری شریف فیملی سعودی عرب منتقل ہوگئی۔ یہ وہ وقت تھا جب بینظیر بھٹو اور نوازشریف دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت جلاوطنی کی زندگی گذار رہی تھی۔ پرویزمشرف حکومت نے بھی دونوں جماعتوں کی قیادت کے خلاف بھرپور پراپیگنڈہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ق) کی بنیاد رکھی۔ یوں چوہدری برادران کے اقتدار اور عروج کا زمانہ شروع ہوگیا۔ یہی وہ دور تھا جب 9/11 کے بہانے امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوگیا۔ اندرونی اور بیرونی سطح پر سیاست کا نقشہ تبدیل ہوگیا۔ پرویز مشرف مارشل لاء چیف ایگزیکٹو سے پاکستان کے صدر بن گئے۔ انہوں نے اپنا لبرل سیاستدان والا امیج ڈویلپ کرنا شروع کردیا۔ بسنت میلوں اور ثقافتی تقریبات کو فروغ ملنے لگا۔ ساتھ ساتھ افغانستان میں سرحدی علاقوں میں امریکی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ بینظیر بھٹو کی طرف سے مختلف یونیورسٹیز میں لیکچرز کا سلسلہ بھی جاری رہا اور مستقبل کی سیاسی منصوبہ بندی بھی ہوتی رہی۔ اب حالات اس طرح کے بن گئے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا مشترکہ دُشمن ایک ہی تھا۔ مشترکہ دُشمن سے نمٹنے کے لیے دونوں نے مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کا پروگرام بنایا۔ نتیجے میں ’’میثاق جمہوریت‘‘ کا معاہدہ سامنے آیا اور بینظیر بھٹو اور پرویزمشرف حکومت کے دوران امریکی دباؤ سے این آر او کا معاہدہ ہوا، جس کے نتیجے میں پرانے مقدمات ختم کردیئے گئے۔ نئے انتخابات کی منصوبہ بندی ہونے لگی تو بینظیر بھٹو کے دباؤ پر نوازشریف کی بھی واپسی ہوگئی۔ اسی دوران پرویزمشرف اور عدلیہ کے اختلافات کے نتیجے میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہوگیا۔ اسی دوران سانحہ لال مسجد بھی ہوگیا، جس کے نتیجے میں پرویز مشرف حکومت کا اپنے انجام کی طرف سفر شروع ہوگیا۔ نئے انتخابات کا اعلان ہوا۔ پرویز مشرف حکومت کی اپنی منصوبہ بندی تھی۔ وہ پنجاب میں پرویزالٰہی کی حکومت اور مرکز میں بینظیر بھٹو کی حکومت اور پرویزمشرف کے صدر برقرار رہنے کی منصوبہ بندی کرچکے تھے مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بینظیر بھٹو پر دہشت گردی کا ایک بڑا حملہ پہلے بھی ہوچکا تھا اور اب ابھی ان کی جان کو خطرے کے متعلق وارننگ جاری ہوچکی تھی۔ انہیں کہا جارہا تھا کہ وہ فی الحال وطن واپس نہ آئیں مگر بینظیر بھٹو جسے دلیری اور شجاعت ورثے میں ملی تھی، وہ کب رُکنے والی تھیں، باوجود خطرے کے، وہ دبئی سے نہ صرف واپس آئیں بلکہ انتخابی مہم کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا اور وہ منحوس گھڑی آگئی جب لیاقت باغ کے انتخابی جلسے کے بعد چند تخریب کاروں نے گولیوں اور بم دھماکے کے نتیجے میں شہید کردیا۔ اس طرح جمہوری اُمید کی کرن، جمہوریت کی علامت معدوم ہوگئی۔ انتخابی نتائج طے شدہ پروگرام سے بالکل مختلف ہوگئے۔ بینظیر بھٹو کی وصیت کی روشنی میں ان کے شوہر آصف علی زرداری کو پارٹی کی سرپرستی مل گئی اور مرکز وسندھ میں ان کی مخلوط حکومت بن گئی۔ آصف علی زرداری پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دوراقتدار میں بھی بینظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات کا نتیجہ نہ نکل سکا۔ بین الاقوامی کمیشن بھی بنایا گیا۔ ملکی سطح پر بھی اعلیٰ ایجنسیوں نے تحقیقات کیں مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ ان کی شہادت کا سانحہ بھی پہلے وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان، ضیاء الحق مرحوم اور دیگر اہم واقعات کی طرح آج تک معمہ بنا ہوا ہے، کیا یہ ہمیشہ معمہ ہی رہے گا۔

Leave a Reply

Back to top button