Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it   Click to listen highlighted text! Welcome to HTV Pakistan . Please select the content and listen it
تازہ ترینخبریںدنیا سے

حریت کانفرنس کا بھارت پر مقبوضہ کشمیر کو ’فروخت‘ کرنے کا الزام

اے پی ایچ سی نے کہا کہ بھارتی حکومت، مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کے آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنا اور اس طرح کے حکم کے ذریعے اس کے عوام کو بےاختیار کرنا چاہتی ہے۔

جموں و کشمیر حریت پارٹی اور دیگر اپوزیشن گروپوں نے غیر کشمیریوں کو وادی میں زمین خریدنے کی اجازت دینے کے بھارت کے حالیہ اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی نے جموں و کشمیر کو فروخت کے لیے لگا دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں کشمیر کی آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) نے، جس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق ہیں، کہا کہ ’عالمی برادری سے پرزور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ مسلم اکثریتی جموں و کشمیر میں منظم آبادیاتی تبدیلی کا ادراک کرے جس کے ذریعے باہر کے لوگوں کو زمین اور قدرتی وسائل کی فروخت کی نئی پالیسی کے ذریعے یہاں آباد کیا جارہا ہے‘۔

اے پی ایچ سی نے کہا کہ بھارتی حکومت، مسلم اکثریتی جموں و کشمیر کے آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنا اور اس طرح کے حکم کے ذریعے اس کے عوام کو بےاختیار کرنا چاہتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ان اقدامات کا مقصد انصاف کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر بین الاقوامی برادری کے وعدے کے مطابق کشمیر کے دیرینہ بین الاقوامی سیاسی تنازع کے اس کے عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق حتمی حل سے فرار اختیار کرنا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2019 سے یکے بعد دیگرے آمرانہ قوانین اور حکم نامے ریاست میں اس مقصد کے لیے اور بھارت میں حکمراں جماعت کی انتخابات میں کامیابی کے امکانات کو بڑھانے کے لیے نافذ کیے جارہے ہیں کیونکہ جموں و کشمیر اس کا پسندیدہ کوڑے مارنے والا لڑکا بن گیا ہے‘۔

حریت کے بیان میں کہا گیا کہ بھارتی انتظامیہ، جموں و کشمیر کی آبادی کی مذاہب، خطوں، نسلوں اور سیاسی مفادات کی بنیاد پر سیاسی امنگوں اور آوازوں کو ختم کرنے کے لیے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے جموں و کشمیر انتظامیہ نے، جس کی سربراہی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کر رہے ہیں، زمین کے استعمال کے قوانین کو تبدیل کردیا تھا اور زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے دوبارہ درجہ بندی کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

اس فیصلے پر علاقائی جماعتوں کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی جن کا کہنا تھا کہ یہ زمین، غیر مقامی لوگوں کو آباد کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

حال ہی میں حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ خصوصی حیثیت حیثیت کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر میں صرف 7 پلاٹ خریدے گئے ہیں۔

جموں و کشمیر سے باہر کے لوگوں کو وادی میں زمین خریدنے کی اجازت دینا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور مرکز کے لیے اہم معاملہ رہا ہے لیکن اس میں اسے بڑی کامیابی نہیں ملی ہے۔

آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی پریشان کن اور انتہائی جابرانہ ہے کیونکہ لوگ اس نوآبادیاتی ذہنیت کا شکار ہورہے ہیں‘۔

اس نے لوگوں سے کہا کہ وہ امید نہ ہاریں بلکہ چوکس رہیں اور اپنی زمین اور وسائل پر اپنے حق کی ہر ممکن طریقے سے حفاظت کریں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں بھارتی حکومت اور اس کی دست نگر انتظامیہ نے جموں میں اپنی نوعیت کی پہلی ریئل اسٹیٹ کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں ملک بھر کے لوگوں کو جموں و کشمیر میں زمین یا دوسرا گھر خریدنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

Leave a Reply

Back to top button
Click to listen highlighted text!