روشنی

حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکرؒ…… سیّداحمد ثقلین حیدر

حضرت سیّدنا عمر فاروقؓ سے نسبی تعلق اور حضرت سیّدنا علی المرتضیٰؓ سے روحانی تعلق کی لڑی میں پروئے ہوئے حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکرؒ سلسلہ عالیہ چشتیہ کے وہ عظیم المرتبت اور جلیل القدر بزرگ ہیں کہ جو کارگاہِ حیات میں رہے تو نام کمانے اور خود کو منوانے کی خواہش ان کے مقاصدِ جلیلہ اور اہدافِ پاکیزہ کو تبدیل کر سکی نہ جاہ وحشم اور شان وشکوہ کی جاذبیت ان کے خیالات کو منتشر۔
فیضان کے جو چشمے وہ جاری کر گئے تھے آج وہ دریا بن کر بہہ رہے ہیں۔ بصیرت ومعرفت کے جو چراغ وہ روشن کرگئے تھے آج بھی ان کی روشنی کم نہیں ہوئی بلکہ دیپ سے دیپ جلتا چلا جا رہا ہے۔ جس طرح حضرت بابا فرید الدینؒ کی زندگی میں بلاتفریق رنگ ونسل اور بلاتفریق مذہب وملت مخلوقِ خدا ان کے پاس حاضرِ خدمت ہوتی تھی یہ سلسلہ آج بھی اُسی طرح جاری ہے۔ کسے اندازہ تھا کہ 571 ہجری میں بورے والا کے نواحی گاؤں ”کھوتوال“ سے طلوع ہونے والا آفتاب اس شان سے اُفقِ تصوف پر چمکے گا کہ پورے قصرِ روحانیت کو منور کر دے گا۔ آپ ؒ نے ملتان میں تعلیم حاصل کی اور دہلی میں اپنے مرشد کامل حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الٰہیؒ کی زیرنگرانی طریقت کے مدارج طے کیے اور پھر سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے فیض حاصل کرنے کے بعد بھی اِک انتہائی گمنام اور ویران جگہ ”اجودھن“ جو دریائے ستلج کے کنارے واقع تھا، کو اپنی رہائش کے لیے پسند فرمایا۔ یہ جگہ حشرات الارض کی بہتات کے حوالے سے بھی مشہور تھی تو دوسری جانب قُرب وجوار میں جو چند گھرانے آباد تھے، وہ بھی اُجڈ اور اکھڑمزاج چند قوموں کے، مگر اس درویش نے اِک کریر کے درخت کے نیچے اپنا بوریا بچھایا اور یہیں سے رُشد وہدایت کا سلسلہ شروع فرما دیا۔ جس طرح مُشک کو اپنی خوشبو اور آفتاب کو اپنی روشنی کا نہ ہی اعلان کروانا پڑتا ہے اور نہ ہی اشتہار دینا پڑتا ہے اس کی خوشبو اور روشنی خود ہی اپنا اعلان اور اظہار ہوا کرتی ہے بلکہ اسی طرح جب عجز وانکسار اور محبت ومروت کے اس مجسم پیکر نے شمع اُلفت کو جلایا تو ہر کوئی کھنچا چلا آنے لگا۔
ہر کوئی بابا کی دید کا ارمان لیے پھرتا۔ جو چند مجالس ومحافل میں بیٹھ جاتا وہ دل کی دُنیا ہار بیٹھتا۔ ہر آنے والا یہاں سے قلبی سکون، ذہنی آرام اور روحانی آسودگی کی سوغات لے کر جاتا۔ آپ ؒ علم کا اِک بحرِبیکراں تھے۔ مختلف علوم پر مہارتِ تامہ کے ساتھ 4 مختلف زبانوں پر کامل عبور حاصل تھا۔ گفتگو فرماتے تو اسرار ورموز کی گرہیں کھلتی چلی جاتیں۔ موضوع علمی ہوتا تو ذہن کے بند دریچے کھل جاتے۔ اگر سخن کا عنوان عشق ٹھہرتا تو دل کی دُنیا میں ہلچل مچا دیتے۔ آپؒ کی گفتار کے پیچھے کردار کی عظیم الشان قوت موجود تھی۔ جو بات زباں سے نکلتی سامع کے دل کی گہرائیوں میں اُترتی چلی جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ جب زبان میں سچائی، نیت میں اخلاص اور قول وفعل میں مکمل ہم آہنگی ہو تو پھر نہ نمائشی انداز کی ضرورت باقی رہتی ہے اور نہ آرائشی اقدامات کی۔
تاریخ گواہ ہے کہ پوری زندگی آپؒ نے کبھی کسی کو اپنی شخصیت علم، دُنیاوی شان یا زبان وبیان سے مرعوب یا متاثر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محافل میں کبھی اُونچی نشست یا امتیازی جگہ پر نہیں بیٹھے۔ کبھی کسی انسان پر غصہ نہیں کیا۔ زندگی بھر کسی کی غیبت یا بُرائی نہیں کی۔ شاہانہ لباس زیب تن نہیں فرمایا۔ چلتے تو ہمیشہ دوسروں کو ساتھ لے کر اور کھانا تناول فرماتے تو یکساں ایک دسترخوان پر۔ اکثر فرماتے کہ ”درویش بننے کے لیے درخت جیسے حوصلے اور صبر کی ضرورت ہے۔ لوگ جس کا پھل کھاتے ہیں اس پر پتھر پھینکتے ہیں، اس کی لکڑیاں کاٹ لیتے ہیں اور اس کے سائے میں آرام بھی کرتے ہیں“ مگر آج تو ایسے ایسے نمائشی درویش ملتے ہیں کہ اگر اِک معمولی سا لفظ بھی ان کے مزاج کے خلاف ہو جائے تو مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں حالانکہ درویشی تو صبروتحمل اور تواضع و خاکساری کا دوسرا نام ہے۔ آپ ؒ کی مجلس آراستہ تھی کہ کسی مرید نے قینچی ہدیہ کی۔ تو کمال شفقت سے فرمایا کہ مجھے اِک سُوئی لا کر دے دو کیونکہ قینچی کا کام کاٹنا ہے، فاصلے پیدا کرنا ہے جبکہ سوئی نہ رنگ دیکھتی ہے اور نہ قیمت، یہ آپس میں ملا دیتی ہے۔ سوئی طلب کرنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ ؒ قینچی کی طرح کاٹنے کے نہیں بلکہ سوئی کی طرح پرونے کے قائل تھے۔
دیکھا جائے تو آج ہم حضرت بابا فریدؒ سے محبت کا دم بھی بھرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر بالکل عمل نہیں کرتے۔ ذرا غور کریں کہ ہم مخلوق کو آپس میں ملانے کی بجائے ان کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بوتے ہیں، غلط فہمیاں پیدا کرنا ہمارا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ دوسروں کی کمزوریوں کو اُچھالنا اور اُن کے عیوب کا ڈھنڈورا پیٹنا ہماری اجتماعی عادت بن چکی ہے۔ ہم دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں مگر خود عمل سے کوسوں دور ہیں۔ دلوں میں وہی زندہ رہتا ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور اس کی مجسم دلیل حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکرؒ کی زندگی ہے۔
علم وفضل کا یہ خورشید تاباں 5 محرم الحرام 690 ہجری کو ہمیشہ کے لیے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ اجودھن کو پاکپتن شریف میں تبدیل کر دینے والی ہستی اُسی حجرے میں آرام فرما ہے جس میں آپ ؒ نے اپنی زندگی کا اِک بڑا عرصہ قیام فرمایا۔

Leave a Reply

Back to top button