روشنی

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ…… نعیم سلہری

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی رہنمائی اور اصلاح کے لئے مختلف ادوار میں انبیاء اور پیغمبرؑ معبوث فرمائے۔ اللہ کی ان برگزیدہ ہستیوں نے انسان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کی اور انہیں صراطِ مستقیم پر ڈالا۔ انبیاءؑ کرام کا یہ سلسلہ باوا آدمؑ سے شروع اور اللہ کے آخری نبی حضرت محمدؐ پر آکر ختم ہوا۔ آپؐ کی بعثتِ مبارکہ پر اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے اپنا دین مکمل کیا، آپؐ کو آخری نبی اور اسلام کو حتمی مذہب قرار دیا۔ آپؐ کے بعد نہ کوئی نبی آیا اور نہ کوئی نیا مذہب۔
آقائے دوجہاں حضرت محمدؐ نے گمراہی اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی انسانیت کو زندگی گزارنے کا ایک ایسا ضابطہ عطا کیا جو روحانیت، معاشرت، اقتصادیات، سیاسیات نیز زندگی کے دینی اور دنیوی تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا ضابطہئ حیات ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان کو زندگی گزارنے کے لئے کسی اور مذہب یا ازم کی قطعاً ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آپ سرکارؐ نے انسانیت کی فلاح کے لئے نفوسِ قدسیہ کی ایک ایسی جماعت تیار کی جس کا ہر فرد آپؐ کے ایک اشارے پر اپنی جان نثار کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا تھا۔ یہ جماعت مختصر عرصے میں اس قابل ہو گئیکہ دنیا کی امامت کی حق دار قرار پائی۔
آپؐ کے اس جہانِ فانی سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد دین کی اشاعت اور انسانیت کی فلاح اور امامت کا فریضہ آپؐ کے خلفاء راشدینؓ نے ادا کیا۔ خلفاء راشدینؓ کے بعد یہ سلسلہ دیگر صحابہ کرامؓ اور طبع تابعین کے توسط سے حضرت حسن بصریؓ سے ہوتا ہوا آج تک جاری ہے، اور تا قیامت جاری رہے گا۔
چونکہ انسان کو اس کی تخلیق کا مقصد یاد دلانے کی ضرورت ازل سے تھی ہے اور ابد تک رہے گی، اس لئے نبوت کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد یہ فریضہ اللہ تعالی کی طرف سے امت محمدیہؐ کے اولیاء کرامؒ کی سپرد ہوا، جنہوں نے ہر دور میں دنیاوی جاہ وجلال اور انسان کی کجرویوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے اس کی تخلیق کا مقصد یاد دلانے کا فرض سر انجام دیا۔
امت مسلمہ کی تاریخ میں جب بھی ایسا مرحلہ آیا کہ حکمرانوں کی دولت کی فراوانی، عیش ونشاط اور دین سے دوری عوام پراثر انداز ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی کے لئے ان ہی میں سے کوئی ایسی شخصیت پیدا فرما دی جس نے اللہ کے عطا کردہ دین کی اشاعت کا فریضہ سرانجام دیا اور لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف موڑ دیا۔ سلمان الحسنی ندوی، مولانا ابوالحسن ندوی کی کتاب”تاریخِ دعوت وعزیمت“ کی جلد اوّل کے دیباچہ میں لکھتے ہیں،”حضورؐ نے یہ پیش گوئی فرما دی تھی کہ اس دین متین کے حامل ایسے افراد سامنے آتے رہیں گے، جو امانت دار ودیانت دار ہوں گے اور دین میں غلو کرنے والوں کی تحریفات، باطل پرستوں کے افترأت اور نادانوں کی بے جا تاویلات سے دین کی حفاظت کا انتظام کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بھی فرمایا تھا کہ ہر صدی میں ایسی شخصیات اٹھتی رہیں گی جو دین کو تروتارہ پیش کریں گی، دین کی تجدید کا فریضہ انجام دیں گی۔ رسول اکرمؐ اور آپؐ کے اصحابؓ کے نقشِ قدم پر چلنے والے ان رجال کار اوردعوت و عزیمت کی عظیم شخصیات میں سے ایک حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒہیں۔
خواجہ نظام الدینؒ 636ھ میں بدایوں میں پیدا ہوئے۔ بدایوں دریائے سوٹھ کے کنارے پرواقع ہے اور کسی زمانے میں دہلی کے لئے سرحدی شہر کا کام دیتا تھا۔ خواجہ کی عمر ابھی فقط پانچ سال تھی کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ والدہ نے انتہائی غربت کے عالم میں آپؒ کی پرورش کا سلسلہ جاری رکھا۔ گھر میں اکثر فاقوں کا ماحول رہتا تھا۔ فقروفاقہ کی صورت حال کے بارے میں خواجہ ؒخود فرماتے ہیں کہ ”والدہ کا معمول تھا کہ جس روز ہمارے گھر میں کچھ پکانے کو نہ ہوتا تو فرماتیں کہ آج ہم سب خدا کے مہمان ہیں۔ مجھے یہ سن کر بڑا ذوق ہوتا۔ ایک دن کوئی خدا کا بندہ ایک تنکہ غلہ گھر میں دے گیا، چند دن متواتر اس سے روٹی ملتی رہی، میں تنگ آگیا اور اس آرزو میں رہا کہ والدہ صاحبہ کب یہ فرمائیں گی کہ ہم سب خدا کے مہمان ہیں، آخرکار وہ غلہ ختم ہوا اور والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ آج ہم خدا کے مہمان ہیں، یہ سن کر مجھے ایسا ذوق ہوا اور ایسا سرور حاصل ہو کہ بیان میں نہیں آسکتا۔“
فقرومستی کے یہ ایام گزرتے گئے، خواجہؒ کا تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور سولہ سال کی عمر میں آپؒ بدایوں سے دہلی آ گئے۔ یہاں بھی آپؒ نے نامور اساتذہ سے اکتساب فیض جاری رکھا۔ یہ سلطان ناصر الدین محمود کا عہدِ سلطنت تھا جبکہ عہد ِ وزارت غیاث الدین بلبن کے پاس تھا۔ دہلی میں خواجہ سرکار،ؒ شمس الملک مولانا شمس الدین خوارزمی کے حلقہئ درس میں شامل ہوئے۔ خواجہ بہت جلد مولانا شمس الدین کے محبوب طالب علم بن گئے۔ خواجہؒ نے اپنی ذہانت اور محنت سے اپنے رفقاء کے درمیان علمی امتیاز پیدا کر لیا۔ علمی مباحثوں اور سوال وجواب میں آپؒ کے زورِ بیان اور قوتِ استدلال کا ایسا اظہار ہوا کہ آپؒ جس علمی مسئلے ہر بحث کرتے اپنے ساتھی طلبہ کو لاجواب کر دیتے۔ یوں ساتھی طالب علموں پر آپؒ کی ذہانت کا سکہ بیٹھ گیا۔
آپؒ نے حدیث کی تعلیم اپنے زمانے کے مشہور محدث شیخ محمد الماریلکی سے حاصل کی۔ دہلی میں قیام کے دوران ہی آپؒ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوا۔ یہ سانحہ آپؒ کے لئے گہرے رنج والم کا سبب بنا۔ خواجہؒ بیس سال کی عمر میں اجودھن میں شیخ کبیرؒ کے دستِ حق پر بیعت ہوئے۔ شیخ کبیرؒ کا مرید ہونے کے بعد خواجہؒ کی زیادہ توجہ علم حقیقی اور معرفتِ حقیقی کی طرف مبذول رہنے لگی۔ گو کہ اب آپؒ اس منزل کی طرف چل پڑے جو آپؒ کی پیدائش کا مقصد تھا۔ ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد ایسے علمِ راسخ کی ضرورت تھی جو ایک ہی نگاہ میں دوسروں کی کایا پلٹ دے۔ لہٰذا اپنی یہ تشنگی ختم کرنے کے لئے شیخ کبیرؒ سے تصوف کی تعلیم لینا شروع کر دی۔ شیخ نے آپؒ کو شہاب الدین سہروردی کی مشہور تصنیف”عوارف المعارف“ پڑھانا شروع کی۔ آپؒ نے اس خزینہِ تصوف کے چھ ابواب پڑھے۔ شیخ کبیرؒ نے خواجہ کو ظاہری و باطنی علوم کی دولت سے مالامال کر کے آخر کار رشدوہدایت کا فریضہ سر انجام دینے کے لئے دہلی بھیج دیا۔
شیخ کبیرؒ نے آپؒ کو دہلی کیوں روانہ کیا؟ خواجہ ؒ ایک فقیر بے نوا تھے جو ہندوستان بلکہ ساتویں صدی ہجری کے عالم اسلام کی سب سے مستحکم اسلامی دارالسلطنت کو جا رہے تھے۔ وہاں ایسے کون سے حالات تھے جن میں خواجہؒ جیسے مرد باصفا کی ضرورت تھی۔آئیے! مولانا مناظراحس گیلانیؒ کے الفاظ میں جانتے ہیں۔ ”ہندگیری کی مہم پر اجودھن سے ہند کے دارالسلطنت دہلی کی طرف روانہ ہوتے ہیں جہاں نیچے سے اوپر تک مختلف جھوٹے آلہہ پر جمائے بیٹھے ہیں، ان میں وہ بھی ہے جس کی زبان کی معمولی سی حرکت لوگوں کے تن سر سے جدا کر دیتی ہے، وہ بھی ہیں جن کی نیاز مندی خاک سے اٹھا کر لوگوں کو امارت و دولت کے افلاک تک پہنچا رہی ہے۔گلی گلی میں عزت تقسیم ہو رہی ہے، مناصب بٹ رہے ہیں، روپے لٹائے جا رہے ہیں۔“
یہ وہ حالات تھے جن کے پیش نظر خواجہ سرکارؒ اجودھن سے دہلی روانہ ہوئے اور جس علاقہ کی ولایت آپؒ کے سپرد ہوئی اس کے پایہئ تخت میں آپؒ پہنچے اور ہدایت کی روشنی بکھیرنا شروع کر دی۔ دہلی میں آمد کے بعد آپؒ نے کئی بار اپنا ٹھکانہ بدلہ، ایسے لگتا تھاکہ دہلی کی سر زمیں پر اس فقیر کے لئے کوئی جائے پناہ ہے ہی نہیں۔ آپؒ اس وقت تک جگہ جگہ پھرتے رہے جب تک آپؒ نے غیاث پور میں قیام نہ فرمایا۔ فقروفاقہ پر مبنی زندگی گزرتی رہی۔ غیاث پور میں قیام کے دوران عسرت اور بے اسبابی کا دور رہا۔ آخر کار خلق خدا اور طالبین کا رجوع شروع ہوا اور فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ یوں کہہ لیں کہ ’عسر‘کے بعد ’یسر‘کا دور آگیا اور وہ رجوع عوام شروع ہوا کہ سلاطینِ دہلی کے درباروں کی عظمت ماند پڑگئی۔ جو بھی قدم بوسی کے لئے حاضر ہوتا خالی نہ جاتا۔ کپڑے، نقدی اور تحائف جو بھی آپؒ کو ملتا، آنے والوں کو عطا فرما دیتے، جو آپؒ کے در پر آتا محروم نہ لوٹتا۔ اس سلسلے میں خواجہ نصیرالدین چراغ لکھتے ہیں،”فتوحات کا یہ عالم تھا کہ دولت کا دریا آگے دروازے کے بہتا تھا، کوئی دن فتوحات سے خالی نہ ہوتا، صبح سے شام تک لوگ آتے بلکہ عشاء تک، مگر لینے والے لانے والوں سے زیادہ ہوا کرتے اور جوکچھ کوئی لاتا اس سے زیادہ حضرتؒ کی عنایت سے پاتا۔“
جو بھی آپؒ کے در پر آتا آپؒ کچھ نہ کچھ عنایت ضرور فرماتے۔ دوسروں کا خیال اس قدر رکھتے کہ جب قیلولہ سے بیدار ہوتے تو دو باتیں سب سے پہلے پوچھتے تھے، ایک یہ کہ زوال ہو گیا۔ دوسری یہ کہ کوئی آیا تو نہیں، تاکہ اس کو انتظار نہ کرنا پڑے۔ آپؒ خود اکثر مسلسل روزے رکھا کرتے مگر دوسروں کے لئے دونوں وقت خوب دسترخوان لگتا، مختلف قسم کے کھانے وافر مقدار میں چنے جاتے، امیروغریب، شاہ وگدا، شہری و پردیسی، صالح وگناہگارکسی کی تفریق نہ تھی، سب ایک جگہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے، آنے والوں کوکھانا ساتھ لے جانے کی بھی اجازت تھی۔آپؒ کا دستر خوان فارسی زبان کے مشہور فقرے ”مالِ صوفی سبیل است“ کا عملی نمونہ تھا۔ دستر خوان پر اتنا سب کچھ وافر موجود ہونے کے باوجود حضرت خواجہؒ کی اپنی غذا عام طور پر ایک یا آدھی روٹی اور کچھ سالن وغیرہ یا تھوڑے سے چاول ہوتے۔
اللہ کے ولیوں ؑ اور صوفیا کرامؑ کے خصائص میں سے ایک بات یہ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ وہ سلاطینِ وقت سے دوری اختیارکرتے ہیں۔خاص طور پر سلسلہ چشتیہ کی بیناد سلطنت ہندوستان کی دینی رہنمائی، اصلاح معاشرہ اوراس میں روحانیت کی روح پھونکنے کے ساتھ ساتھ سلاطینِ وقت سے بے تعلقی کے اصول پر پڑی تھی۔ چونکہ اولیاءؑ کا کام ہی دربار کے غلط رجحانات اور وقت کے فتنوں کی اصلاح کرنا تھا، اس لئے ان کی دینی اور روحانی غیرت یہ بات گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ دنیاوی عیش و نشاط میں ڈوبے شاہانِ وقت کے ساتھ دنیوی تعلقات رکھے جائیں۔ خواجہ سرکارؒ بھی اس روایت پر سختی سے کار بند رہے۔ آپؒ جب ہندوستاں کی روحانی تسخیر اور تبلیغ وارشاد کے کام پر معمور ہوئے تو دہلی کے تخت پر یکے بعد دیگرے پانچ بادشاہ بیٹھے۔ ان بادشاہوں نے بڑی شان وشوکت اور جاہ وجلال سے حکمرانی کی، لیکن سوائے ایک موقع کے جب کہ دینی ضرورت در پیش تھی(یہ موقع سماع کی حلت و حرمت پر مناظرے کا تھا)، خواجہ سرکارؒ نہ کبھی شاہی دربار میں گئے اور نہ بادشاہِ وقت کو اپنے یہاں آنے کی دعوت دی۔
دوسروں کی پردہ پوشی فرمانے، بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھانے، خود فاقے کاٹ کر دوسروں کو پیٹ بھرکھلانے، شاہانِ وقت سے بے تعلقی نبھانے، حق گوئی اور سچ کا پرچم بلند کرنے والی یہ جلیل القدر ہستی آخرکا ر 18ربیع الآخر 725ھ کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئی۔ آپؒ نے ساری زندگی تجرد میں گزاری اس لئے آپؒ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ لیکن آپؒ کی روحانی اولادیں بے شمار ہیں جو نہ صرف پاک وہند بلکہ پوری دنیا میں آپؒ کا روحانی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپؒ کا یہ سلسلہ روحانی اور دینی فیض عام کر رہا ہے جو تا قیامت جاری رہے گا۔
(نوٹ: مضمون کی تیاری میں مولانا ابوالحسن ندویؒ کی کتاب”تاریخ دعوت و عزیمت“سے استفادہ کیا گیا ہے)

Leave a Reply

Back to top button