سپیشل

حضرت رابعہ بصری ؒ کا زمانہ

رابعہ ؒ ایک ایسے اعلیٰ اسلامی دَور میں گزری ہیں جو تاریخ عرب میں سب سے زیادہ وقیع ہے کیونکہ اس زمانے میں آفاقِ عالم پر اہل عرب کا قبضہ تھا اور انہوں نے اپنے پڑوسی ملکوں سے شہریت و تمدن کو بخوبی لے لیا تھا۔ فارسی، ہندی، رومی، جو داخل اسلام ہو چکے تھے، اُن سے بھی انہوں نے فیض تہذیب حاصل کیا تھا اور ان کے شہر فتح کر کے دینی تعلیمات پھیلانی شروع کر دی تھیں۔ عزت و عظمت شہروں میں ٹھاٹھیں مار رہی تھی اور شام و عراق کے اطراف، ثقافت و شہریت سے جگمگا رہے تھے۔ بصرہ بھی انہی شہروں میں سے تھا جس میں رابعہ عدویہ ؒ پہلی صدی ہجری کے اواخر میں پیدا ہوئیں اور دوسری صدی ہجری کے اواخر تک زندہ رہیں، یعنی 95 ہجری یا 99 ہجری سے 180 ہجری یا 185 ہجری تک، جیسا کہ تاریخ و تصوف کی کتابوں میں مرقوم ہے۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس پاکیزہ سر زمین سے بحث کریں جہاں رابعہ ؒپیدا ہوئیں۔

بصرہ کی بنیاد حضرت عمر ابن الخطاب ؓکے دورِ خلاف میں خلیج فارس کے کنارے رَکھی گئی۔ بغداد اور عرب و عجم کی یہ ایک بڑی بندرگاہ تھی۔ 160 ہجری میں کوفہ سے ایک دو سال قبل یہ شہر آباد ہو چکا تھا۔ یہاں ایک بڑی بھاری جامع مسجد اموی حاکم زیاد بن ابیہ نے نئے اسلامی طرز پر تعمیر کرائی تھی۔ موسم سرما زیادہ بصرہ میں گزارتا اور موسم گرما کوفہ میں۔ بنی تمیم اور دوسرے قبائل بدو اور شہری عرب بھی یہاں آ کر مقیم ہو گئے تھے اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتے تھے۔ ان لوگوں نے شہر کی تعمیر و آبادی میں بڑا حصہ لیا۔

معتبر مآخذ سے پتا چلتا ہے کہ وہ تمیمی، جو بصرہ میں آباد ہوئے تھے، شعر و نقد سے دلچسپی رکھتے اور مجادلہ و مناظرہ کو ناپسند کرتے تھے۔ قواعد نحو کے تحت گفتگو کرتے۔ اہل کوفہ کی طرح شاذ و نادر امور کا استعمال نہ کرتے تھے، اہل سنت تھے۔ ان میں سے اکثر دین دار افراد زہد و تصوف کی طرف مائل ہو گئے۔ یہ لوگ اپنے شیوخ حسن بصریؒ، امام مالک بن دینارؒ، فضل رقاشی، عبدالواحد بن زید اور صالح مری کے متبع تھے۔

جب اقصائے عالم میں اسلام منتشر ہو گیا تو عرب فاتحین نے بصرہ کو چھاؤنی بنانا مناسب جانا کیونکہ یہ بستی مفتوحہ مالک کے درمیان واقعہ تھی اور ہند و فارس اور جزیرہئ عرب کے لئے قریبی بندرگاہ تھی۔ پھر کیا تھا، بصرہ پر ایسا رَنگ چڑھ گیا جو فاتحین کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کیونکہ بصرہ قریب و بعید والوں کے لئے مرجع انام ہو گیا۔ وہ بڑی منڈی ہونے کے ساتھ ہی علم و دین کا بھی مرکز بن گیا۔ علماء و محدثین یہاں آ کر رہنے لگے جو قسم قسم کے علوم میں دَستگاہ رکھتے تھے۔ قرآن و حدیث کے بارے میں اُن کی رائے اطراف و جوانب میں پھیل جاتی تھیں۔ یہ لوگ اُمت عربیہ کے لئے حیاتِ فکری کے سرچشمے تھے۔ چونکہ مسلمانوں کو قرآن جیسی کامل و مکمل، فصیح و بلیغ کتاب سے انتہائی دلچسپی تھی، اس لئے انہوں نے اس سلسلے میں بہت سی کتابیں لکھ ڈالیں اور اس کی بنیاد پر تعلیم و تعلّم کی مجلسیں قائم کر دیں۔ ادھر وہ کلامِ پاک کی تفہیم و تفہم کے سلسلے میں عربی نظم و نثر اور اُس کی تنقید و تنقیح کی طرف بھی متوجہ تھے۔

جو فقہاء، معلّمین اور ادباء بصرہ میں پیدا ہوئے یا وہاں آ کر آباد ہوئے وہ صاحب و فکر و حکمت تھے۔ اس لئے رابعہ ؒکے دور میں وہاں ایک بڑا مدرسہ قائم ہو گیا جس کی بہت سی ثقافتی شاخیں تھیں اور مختلف قبائل و اقوام کے افراد جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے، جوق دَر جوق اس مدرسے میں تحصیل علم کی غرض سے آنے لگے۔ اس لئے بصرہ اور اس کے اطراف میں ایک وحدتِ فکریہ قائم ہو گئی۔ اس طرح یہ شہر ایک نئے رجحانِ عقلی اور ایک عمومی مذہب ادبی و اجتماعی کا گہوارہ بن گیا۔ اِس دَور اور اس کے بعد والے دَور میں بلادِ عربیہ کے درمیان کچھ مادی و سیاسی اختلافات تھے۔ چنانچہ بصری عموماً عثمانی تھے۔ کوفی علوی، شامی، اُموری اور جزائری خارجی، یہ متضاد موجیں ایک دوسری سے ٹکراتیں اور قوم کی حیاتِ فکری و اجتماعی کو متاثر کرتیں۔ اس دور میں گروہ بندی بہت زیادہ پھیل گئی تھی۔ کچھ لوگ سنی تھے، کچھ شیعہ، کچھ زہری، کچھ اُموی، اور کچھ خارجی، حتیٰ کہ یہ جماعتیں ایک دوسری سے ٹکرائیں اور تاریخ عرب کو ہولناکیوں سے بھر دیا۔ اہل بصرہ نے اپنی وحدتِ نحو و لغت کے بارے میں بھی اہل کوفہ سے کچھ مختلف رائیں قائم کیں جن کی وجہ سے بصری اور کوفی سکولوں نے بہت سے مسائل نحو و اعراب وضع کئے۔

جب دینی تعلیمات کے بارے میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے اور مفسرین کے دو گروہ بن گئے، کچھ وہ لوگ تھے جو قیاس و اقتباس کو دخل دیتے تھے اور کچھ تقلید و نقل کے قائل تھے تو تشدد پسند حضرات اپنے مذہب کی تائید میں طرح طرح کی شرح و تاویل کرنے لگے۔ اس لئے خطرہ پیدا ہو گیا کہ کہیں اہل ہوار اہل بدعت دین سے کھیلنے نہ لگیں۔ چنانچہ اجتماعی ضروریات کی بناء پر ایک ایسے مذہب کی ضرورت پیدا ہوئی جو معتدل ہو، اس لئے مرجہئ پیدا ہو گئے جو اختلافات کو صحیح بنیادوں پر قائم کرنا چاہتے تھے۔

بصرہ کے اس شدید بحران کے دور میں ایک عظیم ہستی کھڑی ہوئی جس نے عقلی و نفسی حیات پر ایک گہرا اثر چھوڑا۔ یہ حسن بصری ؒتھے۔ اس مردِ بزرگ نے ہندی و ایرانی اثرات کے مٹانے میں بڑی جدوجہد کی۔ یہ اثرات دینی تعلیمات کو تباہ کرتے ہوئے سانپوں کی طرح بانبیوں سے نکل کر چاروں طرف پھیل رہے تھے۔
یہ اثرات، جو چند اوہام و مزاعم باطلہ سے مرکب تھے، ایسے وقت ظاہر ہوئے جب نومسلم، مسلمانوں اور حیاتِ اسلامی میں جذب ہو کر مطمئن زندگی بسر کرنے لگے تھے۔ گویا اوہام و مزاعم باطلہ بعض معاشروں میں گھر کر چکے تھے مگر ان سے بھی ثقافت، تہذیب و تمدن اور آرٹ کو بڑا فائدہ پہنچا۔ حکمت ہند، صنعت چین اور معارفِ فارس سے کون انکار کر سکتا ہے؟ اگر ایسا نہ ہوتا تو تمدنِ عرب کو رَنگا رَنگی حاصل نہ ہوتی۔ اسلام کی فتحیابی کے بعد کوئی بھی اس طوفان کے سامنے نہ ٹھہر سکا کیونکہ عجمیوں نے ایسے فتنے اُٹھا دیئے تھے جن سے اہل عرب آشنا ہی نہ تھے، خواہ وہ معیشت و روز مرہ کی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں یا لہو و طرب کی محفلوں سے۔

رابعہ ؒ کے زمانے میں بصرہ مختلف قسم کی ثقافتوں کا مرکز تھا۔ ایک طرف علماء و فقہاء کی مجالس گرم تھیں تو دوسری طرف عیاش طبع گروہ کی بھی گرم بازاری تھی۔ متمدن شہروں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہاں متضاد ثقافتوں کے مرکز ہوتے ہیں۔ بصرہ میں ایسے صاحب جاہ توانگر بھی تھے جو دادِ عیش دے رہے تھے اور ایسے فقراء بھی جو سد رمق پر گزارہ کر کے بغض و حسد کی نگاہوں سے یہ نمایاں طبقاتی تفاوت دیکھ رہے تھے۔ بصرہ میں چاروں طرف سے آنے والوں کی اس قدر کثرت تھی کہ شہر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ گو یہاں کے باشندے ایک دوسرے سے مختلف تھے مگر دینی وحدت انہیں جمع کئے ہوئے تھی لیکن عربی عصبیت کے وہ نعرے، جو سہدِ اموی میں بلند ہو رہے تھے، اسلامی مساوات پر غالب آ چکے تھے، حالانکہ اسلام کھلے بندوں کہہ رہا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں، نہ کسی اجنبی کو کوئی فضیلت ہے۔ معیارِ فضیلت تو صرف تقویٰ ہے، عجمی اور بیرونی باشندوں میں بڑے بڑے صاحب علم و تقویٰ بزرگ تھے مگر عربی امیر کبیر کب اسے گوارا کر سکتے تھے؟ اس لئے حکومت کی سیاست ایک عجیب کشمکش میں مبتلا تھی کیونکہ ان اجانب و معالی کو، جو اسلام میں داخل ہوئے تھے اور صاحب فکر و معرفت تھے، یہ بات سخت گراں گزرتی تھی کہ انہیں حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اُن کے غصب کردہ حقوق واپس نہیں دیئے جاتے اور قرین انصاف و اسلام معاملہ نہیں کیا جاتا۔ اس آرزو کے پورا کرنے کے لئے انہوں نے بہت سے اسباب و وسائل اختیار کئے۔ انہوں نے دیکھا کہ علم سے بہتر کوئی چیز نہیں جو لوگوں کی نظروں میں اُن کی عزت بڑھا سکے۔ اس لئے اسی میں کمال پیدا کیا۔ اِس دَور میں جن علوم کا رواج تھا وہ یہ تھے: فقہ، حدیث، قرآن، تفسیر، روایت، تاریخ، مغازی، تاریخ خلفاء، قصص الانبیاء، اصولِ فقہ اور افتاء۔

یہ علم کی وہ شاخیں تھیں جو رابعہ ؒکے دور میں رواج پذیر تھیں اور جن میں موالی نے کمال پیدا کیا تھا تاکہ عصبیت عربیہ کو کم کر کے حکام کا تقرب اور اہل عرب پر تفوق حاصل کریں۔ چنانچہ اموی دورِ حکومت میں بھی قیادتِ فکریہ انہی لوگوں کے ہاتھوں میں تھی۔ گو یہ لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو چکے تھے اور دِل و جان سے اسلام کی خدمت کرتے تھے لیکن ان کے مکدر قلوب کینہ و مکر سے خالی نہ تھے، نہ یہ لوگ اپنے موروثی مراسم بالکل چھوڑ چکے تھے۔ اس لئے اُن کی بیشتر رسوم دین اسلام میں داخل ہو کر باعث اختلاف و جدال بن گئیں اور انہوں نے اسلامی روپ دھار لیا۔ اسلام ان سے بالکل بری ہے کیونکہ یہ رسوم پرانے مذہب مثلاً برہمنیت و صائبیت سے آئی ہیں۔ جس طرح عصبیت نے سیاست و قبائل میں گروہ بندی کر دی تھی اسی طرح اِن خیالات سے مذہبی فرقے پیدا ہو گئے۔ یہ فرقے عجیب و غریب نحیف خیالات کے موید تھے۔ مثلاً حلول، تناسخ، وراثت امامت وغیرہ قسم کی بدعتیں جو تمام کی تمام موالی کی زہر افشانی اور جذبہئ انتقام و حسد پر مبنی تھیں، وہ برابر اس قسم کی حرکتیں کرتے رہے۔ حتیٰ کہ خلیفہئ عادل عمر بن عبدالعزیزؓ کا دور آیا جنہوں نے موالی کی طرف خاص طور پر نظر التفات کی۔ صرف اُن کے دور میں ان لوگوں نے آزادی کا سانس لیا اور جس مساوات کے وہ خواہاں تھے اُس سے پوری طرح بہرہ ور ہوئے۔ خلیفہ نے قضا و فتویٰ کا کام اُن کے سپرد کیا اور خود زہد و تقشف میں مصروف ہو گیا۔ اس لئے وہ اُس سے پوری طرح مطمئن ہو گئے۔ خلیفہ نے یزید بن حبیب قبیلہئ ازو کے موالی کو مفتی مصر بنایا۔ یہ مشکلاتِ حلال و حرام میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ نفقہ دینی روایت حدیث اور تاریخ غزوات و فتن کے بھی وہ ماہر تھے۔ حبیب کی وفات 128 ہجری میں ہوئی، یہ بربری تھے۔

ان مخلص موالی علماء میں، جن کے دَم سے علم و دین کی مجلسیں گرم تھیں، حسن بصریؒ تھے۔ انہیں مسلمانوں کی پرفساد زندگی کا بڑا دُکھ تھا۔ اس لئے انہوں نے دعوتِ حق اور اصلاح کا بیڑا اُٹھایا۔ پھر تقشف و زہد کی طرف مائل ہو کر اپنا پیغام پہنچانے میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ ان کے شاگرد اور متبعین اُن کے پیغام کی تبلیغ پر کمربستہ ہوئے۔ حسنؒ اپنے دور میں زاہدوں کے امام تھے۔

رابعہ ؒ نے ان تابعین کے حلقہ درس و ذکر میں شرکت کی اور ان کی ثقافت میں بیش از بیش حصہ لینے لگیں، حتیٰ کہ بڑی ماہر ہو گئیں۔ وہ اپنے معاصرین سے زہد میں سبقت لے گئیں۔ رابعہ ؒ نے حوادثِ دہر اور حیاتِ فکری و اجتماعی کا بخوبی مطالعہ کیا تھا۔ حتیٰ کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اُن کے احاطہئ علم سے باہر نہ رہی تھی۔ اُنہوں نے افتادِ طبع کے مطابق ایک روحانی مذہب ایجاد کیا تاکہ انسان سے خلاصی حاصل کرے اور صرف اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جائے کیونکہ انسان سے ناکامی، غبن، غلامی ا ور اغراض کے لئے دُنیا کو تسخیر کرنے کی ہوس کے سوا اُس نے کچھ نہ دیکھا تھا۔ البتہ صرف اس جانب اس نے پورا پورا سکون محسوس کیا۔

غرض رابعہ ؒ نے بہتریں اُموی اور عباسی دَور دیکھا تھا۔ اہل عرب کی جدید زندگی میں یہ دور مملکت، عقل و فکر اور مادی و معنوی قیمتوں کے اعتبار سے زریں دور تھا اور اگر کہیں اس دور کو سکون و اعتدالِ حربی و سیاسی میسر آ جاتا تو یہ زمانہ عزتِ فتح و عربیت، نصرتِ فکر اور صفائے مزاج کا مرقع ہوتا لیکن اس دور میں چونکہ عصبیت، اختلافِ رائے و مذہب اور حکومت و مناصب کے بارے میں شدید رسن کشی تھی، اس لئے بغض و کینہ اور گروہ بندی حد سے زیادہ تھی۔ بعد کے زمانوں میں بھی اس کا اثر پڑا، حتیٰ کہ یہ بیماریاں شعوبِ عربیہ و اسلامیہ کا خاصہ بن کر رہ گئیں اور یہ عداوتیں سلف کو وراثتاً پہنچیں۔ حالانکہ دین حنیف تو اس سے بالکل مبرا ہے۔ اَب ہم لوگ پہلی سی عزت و بزرگی جبھی حاصل کر سکتے ہیں کہ ان بیماریوں سے نجات حاصل کریں، محبت و خلوص سے کام لیں اور ایک ایسی قوم کی تشکیل کریں جو خدا اور وطن پر جان چھڑکتی ہو تاکہ یک جان ہو کر دُشمنانِ اسلام کا مقابلہ کر سکیں، جو استعمار و عصبیت کے جال ہم پر پھینک رہے ہیں۔ یہی ایک راستہ ہے جس سے ہم دین کا مقصد پورا کر سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button