کالم

حلقہ ارباب ذوق کی ادبی تربیت…… میم سین بٹ

حلقہ ارباب ذوق صرف ادبی تنظیم ہی نہیں تربیتی ادارہ بھی ہے عام طور پربیشتر ادبی تنظیموں کے اجلاسوں میں تخلیقات پر صرف واہ وا کی جاتی ہے مگر حلقے میں پیش کی جانے والی تخلیقات کا مکمل پوسٹمارٹم کیا جاتاہے، تخلیق کار توحلقے میں اپنی نظم، غزل، افسانہ یا ناول کا باب تنقیدکیلئے پیش کر کے ہونٹ سی لیتا ہے جس کے بعد نقاد حضرات نشتر تھام کر تخلیق پرٹوٹ پڑتے ہیں اورکسی دیدلحاظ کے بغیر تخلیق کے پرخچے اڑا کر رکھ دیتے ہیں یہ لمحات تخلیق کارکیلئے صبرکا امتحان ہوتے ہیں اور اس کی ذہنی حالت کی اس فلمی مکھڑے سے عکاسی ہوتی ہے:
اظہار بھی مشکل ہے چپ رہ بھی نہیں سکتے
مجبور ہیں اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے
خواتین اس لئے ہی حلقہ ارباب ذوق کے ہفتہ وارتنقیدی اجلاسوں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں کہ انہیں اپنی تخلیقات پر واہ وا سننے کو نہیں ملتی بلکہ انہیں کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے برسوں قبل حلقے میں ایک خاتون کے افسانے پر دانشوروں نے تنقید شروع کی تو خاتون افسانہ نگارکے ساتھ آئی ہوئی ان کی ہمشیرہ نے لڑنا جھگڑنا شروع کردیا تھا، اب توجائنٹ سیکرٹری ہی خاتون ہیں اس کے باوجود حلقے میں صرف دو تین خواتین ہی دکھائی دیتی ہیں،حلقہ ارباب ذوق میں نئے تخلیق کاروں کی بیحدحوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے اورگاہے گاہے جواں سالہ ادیبوں، شاعروں کی تخلیقات بھی تنقیدکیلئے پیش کی جاتی ہیں بالخصوص موجودہ سیکرٹری عامر فراز اس حوالے سے کچھ زیادہ ہی متحرک رہتے ہیں،ماضی میں بھی وہ چھ سات بارحلقے کے سیکرٹری رہ چکے ہیں اور ہر مرتبہ انہوں نے جوانوں کو ستاروں پر کمند ڈالنے کے مواقع فراہم کئے،حلقہ ارباب ذوق کے گزشتہ ہفتہ واراجلاس میں بھی عامر فراز نے معروف ناول نگارفاروق خالد کے ساتھ کامریڈحسنین جمیل اورکفیل راناجیسے جواں سالہ قلم کاروں کی تخلیقات تنقیدکیلئے شیڈول کی تھیں۔
عامر فرازکی دعوت پر ہم جب پریس کلب لائبریری سے اٹھ کر پاک ٹی ہاؤس پہنچے توسیکرٹری خودغائب تھے، ان کی جگہ ناصر علی جائنٹ سیکرٹری کے ساتھ مل کر حلقہ چلا رہے تھے،محمد عاصم بٹ صدارت کررہے تھے جبکہ فریحہ نقوی گزشتہ اجلاس کی روداد سنا رہی تھیں،ماہنامہ ادب لطیف کی مدیرہ اعلیٰ صدیقہ بیگم کی رحلت کے باعث حلقے میں حاضری کم تھی اورجو دانشورحاضر تھے انہیں بھی پاک ٹی ہاؤس پہنچ کر صدیقہ بیگم کے انتقال کا علم ہوا تھا مرحومہ صدیقہ بیگم کا تعلق حنیف رامے کے خاندان سے تھا وہ بانی ادب لطیف چوہدری برکت علی مرحوم کی صاحبزادی تھیں چوہدری برکت علی کے ماہنامہ ادب لطیف اورچوہدری نذیر احمدکے ماہنامہ سویرا نے ادب کی بہت خدمت کی تھی آزادی کے بعدصدیقہ بیگم نے چار عشروں تک ماہنامہ ادب لطیف کی اشاعت جاری رکھی تھی۔
محمد عاصم بٹ نے سب سے پہلے جواں سالہ شاعرکفیل رانا کو اپنی نظم تنقید کیلئے پیش کرنے کی دعوت دی،شاعروسیع المطالعہ اور بڑے ادیبوں،شاعروں سے متاثر لگتے تھے ان کی نظم میں امیرخسرو، ن م راشد،سعادت حسن منٹو اوربانو قدسیہ کی تخلیقات کے حوالے موجود تھے،ان کی نثری نظم ”ناٹک“ نے محفل پر سکوت طاری کردیا تھا نظم کا آخری بند تھا:
میں اگرکوئی نظم لکھوں
جو سانحہ ہو
کہ جس سے حلقوم چیخ اٹھیں
سکوت محفل کو توڑ ڈالیں
تو داد دو گے؟
حلقے کے روائتی نقاد موجود نہ ہونے کی وجہ سے خاصی دیر تک کسی نے نظم پر بات نہ کی بالآخرغالباََ شاعر کے ساتھ آئے ہوئے مہمان دانشور نے خاموشی کو توڑا ان کے مختصر اظہار خیال کے بعد بھی جب کوئی نہ بولا تو جائنٹ سیکرٹری فریحہ نقوی نے مائیک سنبھال کر جواں سالہ شاعر کی حوصلہ افزائی کی اس کے بعد دوسرے حاضرین بھی متحرک ہوگئے،ناصر علی نے اسے روایت سے ہٹی ہوئی نظم قراردیا،وحید احمد نے نظم میں دلیل اور ریفرنس کا حوالہ دیا،دوبزرگ دانشوروں نے بھی نظم کے بارے میں پسندیدگی کا اظہارکیا،محمد عاصم بٹ نے صدارتی کلمات میں شاعرکی حوصلہ افزائی کی۔
کفیل رانا کے بعد حسنین جمیل نے افسانہ تنقیدکیلئے پیش کیا جس کا عنوان ”بہلاوا“ تھا ہمارے خیال میں افسانے کا عنوان ”بزدل“ ہونا چاہیے تھا یہ روزمیری سے وکٹر کی داستان محبت تھی جو آپس میں چچازاد تھے،روزمیری نے وکٹر کی جانب سے شادی کی پیشکش ٹھکرادی تھی،وکٹر نے پہلے اپنے پادری دوست کرسٹوفر سے مشورہ کیا تو اس نے بھی شادی کی مخالفت کردی پھر وکٹر نے دوسرے دوست گاڈگفٹ سے بات کی تو اس نے شادی کیلئے دونوں کزنزکو عقیدہ تبدیل کرنے کی تجویز دیدی مگر وکٹر نے سوچ بچارکے بعد اس تجویزکو مسترد کردیا جس کے ساتھ ہی حسنین جمیل کا افسانہ ختم ہوگیا ہمارے برابر میں بیٹھے ہوئے طاہر اصغر نے سرگوشی کے ذریعے افسانے کے اختتام کو تشنہ قراردیدیا۔
حسنین جمیل کے افسانے پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے عامر چغتائی نے سوال اٹھایا کہ فاتح کون ٹھہرا؟ واقعی ہم تو اب تک ادب میں ”محبت فاتح عالم“ ہی پڑھتے آئے ہیں لیکن افسانے کے اختتام پر تو حسنین جمیل نے محبت کو شکست دلوادی تھی حالانکہ خود انہوں نے فتح حاصل کرلی تھی ہمارے خیال میں حسنین جمیل نے بطور صحافی افسانے کو رپورتاژ بنا ڈالا تھا، فیصل آبادی دانشورنے افسانے کی زبان کی تعریف کی لیکن افسانے کا اختتام انہیں بھی پسند نہ آیا،شازیہ مفتی نے افسانے کے اچھوتے موضوع پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے وکٹر کو مایوس ہونے کے بجائے اسے ہمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی خواہش ظاہرکی،ناصر علی کو بھی افسانہ پسندآیا تاہم انہوں نے بطور وکیل کورٹ میرج کے حوالے سے ماہرانہ رائے دینے سے گریزکیا۔
فرح رضوی نے وکٹر اور روزمیری کے ایک ہی مذہب بلکہ ایک ہی خاندان سے تعلق کو افسانے کا اختتام غیرروائتی ہونے کی وجہ بیان کی تو وحید احمد نے بھی ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قراردیا کہ آخر کوئی تو وجہ ہوگی زمانہ قدیم میں یہ پابندی لگائی گئی تھی موجودہ زمانے میں بھی کزن میرج کے نقصانات سامنے آچکے ہیں،محمد عاصم بٹ نے افسانے پر بحث کو سمیٹتے ہوئے حسنین جمیل کو اچھوتا موضوع چننے پر مبارکباد پیش کی آخر میں فاروق خالد نے افسانہ پڑھنا شروع کیا جو ناول جیسا طویل ہوگیا ہمیں ضروری کام کے باعث نوبجے فلیٹ پر پہنچنا تھا لہذا ہم گیلری کی سیڑھیاں اترکر پاک ٹی ہاؤس سے باہر نکل آئے اور فلیٹ پر جانے سے پہلے پیٹ پوجاکیلئے پریس کلب چل دیئے۔

Leave a Reply

Back to top button