تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

حنا: بالوں کے مختلف امراض کا موثر علاج

اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خسوصیات کی حامل حنا میں سائی نیول، مرٹینول، پائی نین، جیرانیول، لینالول، کیمفین اور دیگر مادے پائے جاتے ہیں۔

حنا ( Myrtle) جسے مہندی بھی کہا جاتا ہے۔ ایک بڑی جھاڑی نما پودا ہے، جس کی شاخین بہت سی، سخت اور پتلی ہوتی ہیں۔ چھال بھوری سرخ اور چھوٹے تیز نوکیلے پتے ہوتے ہیں۔ اس کے پھول سفید ہوتے ہیں جو بعد میں سیاہ رنگ کے چھوٹے پھل میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پتے اور پھول دونوں ہی خوشبودار ہوتے ہیں۔

حنا کاآبائی وطن شمالی افریقہ بتایا جاتا ہے لیکن اب یہ تقریباً پوری دنیا میں کاشت کیا جاتا ہے۔ لیکن صوبہ سندھ میں ضلع دادو کے علاقے میہڑ میں پائی جانے والی حنا کا شمار دنیا کی بہترین مہندی کے طور پرہوتا ہے۔ جہاں یہ بہت بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے اور بھارت ایران، مصر،عرب ممالک، یورپ، شمالی امریکا وغیرہ برآمد کی جاتی ہے۔

اسے ہزاروں سال انسان مختلف امراض کے علاج کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ آجکل عوام الناس نے اسے صرف ہاتھوں اور پیروں پر گل بوٹے بنانے اور آ رائش تک ہی محدود کردیا ہے۔ حنا برصغیر پاک و ہنداور مشرقِ وسطی کے ممالک میں خوشی کے تہواروں کا لازمی حصہ سمجھی جاتی ہے لیکن اس کے طبی فوائدسے واقف لوگوں کی تعداد اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے تیل بھی کشید کیا جاتا ہے۔ جو مختلف صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔

حنا میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا:
اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی فنگل خسوصیات کی حامل حنا میں سائی نیول، مرٹینول، پائی نین، جیرانیول، لینالول، کیمفین اور دیگر مادے پائے جاتے ہیں۔

حنا کے طبی فوائد:

پاکستان میں مہندی کا استعمال کاسمیٹکس میں تو کسی نہ کسی طرح ہو رہا ہے لیکن اسے روزمرہ بیماریوں کے علا ج کیلئے استعمال کرنے کا رجحان بہت ہی کم ہے۔

جلنے کا علاج:
حنا ایک زبردست اینٹی بیکٹریل مرکب ہے جسے اگر جلنے کے مقام پر لگایا جائے تو زخم بھی نہیں بنتا اور جلنے کا نشان بھی نہیں رہتا ہے۔

جوڑوں کا درد:
حنا کے پوؤڈر کو لگانے یا اس کے تیل کی مالش کرنے سے جوڑوں کے دردختم ہوجاتے ہیں اور ہاتھوں اور پیروں کی جلن کو بھی فوری تسکین ملتی ہے۔

ذہنی دباؤ کا علاج:
دنیا بھر میں خراب اقتصادی حالات کے باعث ذہنی دباؤ کے مرض میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔اور بے خوابی کی شکایت عام ہو چکی ہے۔ طبی ماہرین کی تحقیق بتاتی ہے کہ حنا کی ایک خوبی نیند لانا بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے تحقیق موجود ہے کہ مہندی کے اگر تازہ پھول تکیے میں رکھ دیے جائیں تو اس سے بہت اچھی اور گہری نیند آتی ہے۔

گھبراہٹ اور بے چینی:
سردیوں کے موسم میں حنا کا عطر بہت پسند کیا جاتا ہے اور اسے گھبراہٹ میں مبتلا دل کے مریضوں کو لگانے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مہندی میں اعصابی قوت بڑھانے کی صفت بھی موجود ہے۔

بالوں کی صحت:
مہینے میں دو بار حنا لگانے سے بال صحت مند، چمکدار اور گھنے ہوجاتے ہیں، یہ آپ کے بالوں کی ختم ہوجانے والی صحت کو بحال کرتی ہے اورانھیں پہنچنے والے نقصان سے بچاتی ہے۔ حنا سر میں تیزابی اثرات کو توازن میں رکھتی ہے اور اس سے بالوں کا قدرتی تناسب متاثر نہیں ہوتا۔

قدرتی کنڈیشنر:
حنا آپ کے بالوں کے لیے بہت اچھا قدرتی کنڈیشنر بھی ہے، یہ بالوں پر ایسی حفاظتی تہہ بنا دیتی ہے جو مٹی یا آلودگی کے نقصانات سے بچاتی ہے، مہندی کے استعمال کو معمول بنانے سے بالوں میں ضروری نمی موجود رہتی ہے۔

بالوں کی سفیدی:
اگر آپ اپنے بالوں کو نقصان پہنچائے بغیر رنگنا چاہتے ہیں تو مہندی اس کا بہترین حل ہے، اس میں کسی قسم کے امائنو ایسڈ نہیں ہوتے اور نہ ہی کیمیکل جو بالوں کی نمی کو ختم کر کے انہیں بے جان اور روکھے بنا دیتے ہیں۔

طریقہ استعمال: گرم پانی میں دو چمچ خشک آملہ، ایک چمچ پتی کے ساتھ مہندی کو شامل کر کے اس کا پیسٹ بنا کر سر پر دو گھنٹے تک لگا رہنے دیں، پھر آپ کے بالوں کی سفیدی سیاہ چمکدار رنگت میں تبدیل ہو جائے گی۔

خشکی و سکری کا علاج:
حنا خشکی کے لیے بھی موثر ہے، میتھی کے بیجوں کو ایک یا دو چمچے پانی میں رات بھر بھگو کر رکھیں اور صبح انہیں پیس لیں، سرسوں کا تیل اورحنا کے پتے گرم کریں اور ٹھنڈا کرنے کے بعد میتھی کا پیسٹ اس میں شامل کرلیں اور پھر بالوں میں ایک گھنٹے تک لگا رہنے دیں جس کے بعد نہالیں آپ خشکی پر اس کے اثرات دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔

حنا کے دیگر استعمال:
حنا کو علاج کی غرض سے نہ صرف لگایا جاتا ہے بلکہ اسے پلایا بھی جاتا ہے، جبکہ اس کا تیل اور تازہ حنا کے پتوں کی خوشبو اروماتھراپی میں استعمال ہوتی ہے۔اسے مختلف کاسمیٹکس اشیاء میں بھی شامل کیاجاتا ہے۔ اسے فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں مختلف نوعیت کے مرہموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کتابوں کو دیمک سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی حنا کے خشک پھول اوراق میں رکھے جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button