HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » ادب » حوّا کی بیٹی: ایسی قیامت ٹوٹی کہ جنت نظیر گھر دوزخ بن گیا

حوّا کی بیٹی: ایسی قیامت ٹوٹی کہ جنت نظیر گھر دوزخ بن گیا

پڑھنے کا وقت: 13 منٹ

ہمایوں شاہین …..
آج پھر وہی شور شرابا، وہی ہنگامہ اور لرزہ خیز چیخیں اور دل آزاد گالیاں لیکن یہ اب روز کا معمول بن چکا تھا …. جو کوئی بھی یہ چیخیں سنتا تھا تو حیران وپریشان انگشت بدنداں کھڑا ہوتا اور دل ہی دل میں کہتا کہ اس نگر پر کون سی ایسی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ یہ جنت نظیر گھر دوزخ کا رُوپ دھارنے لگا ہے۔

یہ گھر تین نفوس پر مشتمل تھا۔ سلیم، سلیم کی ماں اور سلیم کی بیوی نازو۔

نازو اور سلیم دونوں خالہ داد بہن بھائی تھے۔ بچپن میں دونوں اکٹھے کھیلا کرتے تھے اور اکٹھے ہی سکول جایا کرتے تھے اور جب سکول سے چھٹی ہوتی تو شام اندھیرے تک ریت کے گھروندے بناتے بگاڑتے تھے، گڈی گڈا کی شادی رچاتے، اس طرح کھیلتے کھیلتے دونوں عمر کی دہلیز چڑھتے گئے بالآخر دونوں میں شعور کی سمندر نے موجیں مارنا شروع کی۔ نازو نے جب پانچویں جماعت پاس کی تو ماں نے نازو کو سکول جانے سے روک لیا کہ لڑکیوں کے لیے اتنا ہی پڑھنا کافی ہے اور اپنے ساتھ گھر کے کام کاج پر لگا دیا۔ اس طرح سلیم اور نازو باہر کی دُنیا سے علیحدہ ہو گئے لیکن ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے بچپن کی چاہت اور پیار موجود تھا۔ سلیم اکثر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر خالہ کے گھر جایا کرتا تھا اس طرح سے دونوں کی ملاقات ہو جاتی۔ سلیم اور نازو ایک دوسرے کے ساتھ آنکھوں آنکھوں میں بچپن میں پیار کے کیے ہوئے وعدوں کی قسمیں یاد دلایا کرتے تھے۔

نازو بھی دوسری لڑکیوں کی طرح ایسے ہی خواب دیکھا کرتی تھی کہ اس کے ہاتھ میں شادی کی مہندی لگے، کم خواب کا جوڑا پہنے، ہاتھوں میں گجرے اور کنگن ہوں، کانوں میں سونے کی بالیاں اور جھومر ہوں، گلے میں سونے کا ایک خوبصورت ہار ہو جس میں موتی پروئے ہوئے ہوں اور سب سے بڑی بات یہ کہ ان کا ایک چھوٹا سا خوبصورت گھر ہو جس میں ہر سکھ میسر ہوں …. دن اس طرح گزرتے گئے …. ایک دن سلیم کی ماں نے باتوں باتوں میں سلیم سے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
سلیم بیٹا! اب تم جوان ہو چکے ہو، جب بیٹا بیٹی جوان ہو جائے تو ہر ماں باپ ان کے بارے سوچتا رہتا ہے کہ ان کا گھر آباد کریں، میرا بھی یہ خیال ہے کہ تمہارا گھر آباد ہو جائے کیونکہ اب میں بھی بوڑھی ہوتی جارہی ہوں۔ زندگی کا کیا بھروسہ کہ روح کب اس قفس عنصری سے کُوچ کر جائے …. میں کہتی ہوں کہ تمہارے سر پر شادی کا سہرا میں خود اپنے ہاتھوں سے سجا دوں …. بیٹا! اس بارے تمہارا کیا خیال ہے؟ سلیم نے ہنستے سے ماں سے کہا: ”ماں اچھی بات میں دیر کہاں …. لیکن ماں کہیں لڑکی؟“

ماں سلیم کی بات کاٹتے ہوئے بولی: ”بیٹا! سرحیات ہوں تو ٹوپیاں بہت، تم صرف ہاں کر دو تو ڈھیر ساری لڑکیاں تمہارے پیروں تلے ڈھیر کردوں …. دیکھو بیٹا! تمہارے پھوپھی کی تین بیٹیاں ہیں ریشما، راحت، گُل رُخ اور چچازاد چار نازلی، ریما، کلثوم اور منیزہ ۔ اور ہاں ایک تو تمہاری خالہ کی لڑکی میری بھانجی بھی تو ہے۔ بہت پیاری، سانولی رنگت والی، سدھر،نیک پاک اور خاموش طبع، بولو ان میں سے جو بھی تمہیں پسند ہو بتا دو کہ میں ابھی بُرقہ اوڑھ لوں تمہارا رشتہ ان سے طے کردوں …. مجھے پتہ ہے مجھ سے کوئی بھی انکار نہیں کرے گا“۔

سلیم مسکرایا، ماں سے کہنے لگا ”اس طرح نہیں ماں! ان کے ناموں کی پرچیاں ڈالتے ہیں، جس کسی کے نام کی پرچی نکلی، وہی میری قسمت….“۔

سلیم نے چند پرچیاں بنوائیں، ان تمام پرچیوں پر نازو کا نام لکھ دیا …. ماں تو ان پڑھ تھی اس کو کیا معلوم کہ سلیم نے ساری پرچیاں نازو کے نام سے بھر دی ہیں …. سلیم ماں سے کہنے لگا ”چلو ماں اب ان پرچیوں میں سے ایک پرچی نکال لو …. ماں نے پرچیاں خوب ہلالیں اور ایک پرچی اٹھا کر سلیم کو دے دی …. سلیم نے پرچی کو مسکراتے مسکراتے کھولنا شروع کردیا۔ پرچی کھول لی تو ماں سے کہا …. ”واہ ماں! یہ دیکھ نازو کے نام کی پرچی“ …. ماں نے سلیم سے کہا …. ”تو کیا تمہیں نازو پسند ہے؟“

ہاں ماں! مجھے کیا اعتراض! یہ تو قسمت کا کھیل تھا۔ چل بیٹا میں یوں گئی اور یوں آئی۔ ماں نے اسی وقت برقعہ اوڑھا اور سیدھی اپنی بہن ریشمو کے گھر چلی گئی۔

سلیم گھر کی دالان میں بے قرار اس انتظار میں ٹہلتا رہا کہ خالہ ہاں میں جواب دے گی یا ”ناں“ میں …. بہت دیر بعد ماں کی دروازے پر آہٹ ہوئی تو سلیم کے قدم وہیں رُک گئے۔ دیکھا تو ماں خندہ پیشانی سے گھر میں داخل ہو رہی ہے۔ سلیم جان گیا کہ تیر نشانے پر لگا ہے …. سلیم کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، اس نے دوڑ لگائی، ماں کو بانہوں میں لے لیا۔ سلیم کی دلی مراد پو گئی۔ ادھر نازو بھی خوشی سے نیم پاگل ہورہی تھی کیونکہ ان کو بچپن کا جیون ساتھی مل گیا۔ چند دن بعد منگنی کی رسومات ادا ہو گئیں۔ مولوی سے نکاح پڑھوایا، نازو کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی گئی۔

اس طرح دن ہفتوں اور ہفتے مہینوں میں بدلتے گئے …. ایک دن وہ بھی آیا کہ نازو کے ہاتھوں پر شادی کی مہندی لگ گئی۔ کم خواب کا جوڑا پہنایا گیا، ہاتھوں میں گجرے اور کنگن سج گئے، کانوں میں بالیاں اور جھومر پہنائے گئے اور گلے میں سونے کا موتیوں بھرا ہار۔ نازو کو اپنے آپ پر بڑا ناز تھا، ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی …. لیکن اسے کیا خبر تھی کہ ایک دن یہ سہانے خواب چکناچور ہو کر رہ جائیں گے۔ ایک دن ان خوابوں کی تعبیر خود ان کے منہ پر طمانچے پڑیں گے۔ یہ مہندی میں رنگے ہوئے سرخ ہاتھ اس کے لیے انگارے بن جائیں گے اور کم خواب کا یہ سرخ جوڑا آگ کی شعلوں کی طرح ان کے بدن سے لپٹ جائیں گی ….

جواب دیجئے