تازہ ترینخبریںپاکستان سے

حکومت اور فوج میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں، وزیراعظم عمران خان

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر کوئی کشیدگی نہیں، ایک پروسیجرل معاملہ تھا جس پر قیاس آرائیاں زیادہ ہو گئیں، میرے اور فوجی قیادت کے درمیان جو تعلقات ہیں، اس سے بہترکوئی تعلقات نہیں ہو سکتے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اور فوج میں کسی قسم کی کوئی غلط فہمی نہیں،عسکری قیادت کیساتھ میرے سے زیادہ بہتر تعلقات کسی کے نہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر کوئی کشیدگی نہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کو اعتماد میں لیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی بھی سامنے آ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر کوئی کشیدگی نہیں، ایک پروسیجرل معاملہ تھا جس پر قیاس آرائیاں زیادہ ہو گئیں، میرے اور فوجی قیادت کے درمیان جو تعلقات ہیں، اس سے بہترکوئی تعلقات نہیں ہو سکتے۔

ذرائع کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ تکنیکی خامی تھی جو دور ہوگئی، یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا، ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں، حکومت چاہتی تھی افغان صورتحال کے تناظر ڈی جی آئی ایس آئی کام جاری رکھتے، آرمی چیف نے بتایا کہ آرمی ایکٹ میں اس بات کی مزید گنجائش نہیں ہے، ہمیں اپنے منشور پر عملدرآمد کرنے پر توجہ دینی ہے۔

پارلیمانی پارٹی اجلاس میں افغانستان کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی شیرعلی ارباب نے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کیا ۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی پہلی کوشش ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران پیدا نہ ہو، افغانستان کے استحکام ہوگا تو پاکستان میں بھی امن ہوگا۔

اجلاس کے دوران ہندو ارکان اسمبلی نے مذہب کی جبری تبدیلی سے متعلق بل مسترد ہونے کا شکوہ کیا۔

لال چند نے کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کو روکنے کے لیے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔

اس پر وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے اقلیتوں کے حقوق کے لیے سب سے زیادہ اقدامات کیے ہیں، مذہب کی جبری تبدیلی کے خلاف بل میں کچھ مسائل ہیں، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، میں خود یہ سارا معاملہ دیکھ رہا ہوں۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ارکان اسمبلی کو حلقوں میں زیادہ وقت گزارنے کی ہدایت کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبے ایم این ایز کی مشاورت سے شروع کریں گے، صحت کارڈ اور احساس راشن کارڈ بھی ارکان اسمبلی کی مشاورت سے دیں گے۔

پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مہنگائی کے معاملے پر بھی گفتگو کی گئی جس پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کو مہنگائی کا احساس ہے، مہنگائی کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں، عالمی منڈی میں چیزوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں اب بھی خطے میں پٹرول کی قیمت سب سے کم ہے، ہم لوگوں کو سمجھا نہیں پا رہے مہنگائی کی وجوہات کیا ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button