تجزیہسیاسیات

حکومت کو 60 روز کی مہلت ملی ہے: تحریک انصاف

پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد ن لیگ نے خوشی کا اظہار کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے قدرے خاموشی کا مظاہرہ کیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر نواز شریف کی صاحبزادی نے اپنے والد اور چچا شہباز شریف کے ساتھ مسکراتی ہوئی تصویر پوسٹ کی جبکہ پی ٹی آئی نے فیصلے کو اپنے حق میں قرار دیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ عدالت نے حکومت کے ثبوت کو ناکافی قرار دے کر ایک کمیشن بنانے کا حکم دیا ہے اور سات دن کے اندر اس کی تحقیقات شروع ہوں گی.

ان کا کہنا تھا کہ ‘ملک کا وزیراعظم جوائنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے، جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار نے کہا کہ وزیراعظم کو گھر بھیج دیا جانا چاہیے جبکہ تین ججوں نے کہا کہ 60 دن انتظار کریں اور تفتیش کریں’۔

ان کا کہنا تھا کہ جو نعرے لگارہے ہیں ان کو نہیں پتا ان کے ساتھ کیا ہوا ہے یہ اپنی شکست چھپانے کے لیے باتیں کررہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کے بیٹے جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں اور پاکستان کا پیسہ چوری کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں صرف 67 روز کی مہلت ملی ہے اور اس کے بعد اسی کورٹ میں گھسیٹ کر لائے تھے اور ساتھ والی بلڈنگ سے گھسیٹ کر نکال لیں گے۔

پی ٹی آئی کے رہنما فیض الحسن چوہان نے ڈان نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ججوں نے یہ فیصلہ دینا تھا تو قوم کا وقت کیوں ضائع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ میری ذاتی رائے ہے اس کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ کمیشن نہیں بنے گا اور ہم اس کیس کی تحقیقات کریں گے۔

Leave a Reply

Back to top button