خبریںپاکستان سے

حکومت کی دیواریں ہل چکیں، ایک آدھ جھٹکا دے کر گرا دینا ہے: مولانا فضل الرحمٰن

ویب ڈیسک: مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ حکومت کی دیواریں ہل چکی ہیں، درخت کی جڑی کاٹ دی گئی ہیں اور اب ہم نے اسے ایک آدھ جھٹکا دے کر گرا دینا ہے۔
سربراہ جمیعت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے نوشہرہ میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے نے کہا کہ چوبیس گھنٹے کے اندر ہماری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے پورا پاکستان بند ہو گیا، کراچی سے باہر جانے والی شاہراہیں بند ہو چکی ہیں، پنجاب میں داخل ہونے والے راستے اس وقت بند ہیں، بلوچستان میں داخل ہونے والے راستے اس وقت بند ہیں، افغانستان سے چمن اور کوئٹہ آنے والے راستے بند پڑے ہوئے ہیں، شاہراہ قراقرم اور چکدرہ کے مقام پر شاہراہ سوات بھی بند ہے۔
مولانا کا کہنا تھا مجھے اس کا احساس ہے کہ جب سڑکیں بند ہوتی ہیں تو عوام کو مشکلات پیش آتی ہیں لیکن جب راستے میں بڑا پتھر پڑا ہو تو اسے ہٹانے کے لیے لوگوں کو کچھ مشقت برداشت کرنا پڑتی ہے، آج سب سے بڑا پتھر موجودہ ناجائز حکومت ہے اور ہم نے عوام کی طاقت کے ساتھ اس پتھر کو راستے سے ہٹانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو نہ افغانستان بنانا چاہتے، نہ عراق اور نہ لیبیا بنانا چاہتے ہیں، ہم پرامن سیاسی تحریک کے ذریعے تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور اس بات پر استقامت کے ساتھ قائم ہیں اور پرعزم ہیں کہ عوام کی قوت سے اس حکومت کو چلتا کیا جائے گا۔
سربارہ جے یو آئی (ف) نے رات کو سڑکیں اور شاہراہیں کھلی رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان صبح سے مغرب تک دھرنا دیں کیونکہ ٹھنڈ بڑھنے کی وجہ سے مسافروں اور کارکنوں کو تکلیف ہوتی ہے، طاقت ہم نے دکھا دی ہے اب اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر نہیں کرنا اس لیے ہم نے شہروں سے باہر احتجاج کیا ہے اور اس کے بعد شہروں کے اندر بھی مظاہرے کیے جائیں گے جبکہ یہ تحریک رُکے گی نہیں۔

Leave a Reply

Back to top button