تازہ ترینجرم کہانیخبریں

خاندان میں ایک کے بعد ایک پراسرار موت، قاتل کیسے پکڑا گیا؟

14 برسوں کے دوران اپنے خاندان کے لوگوں کو زہر دے کر قتل کر کے صاف بچ جانا اور 17 سال بعد اچانک محض ایک شکایت پر پکڑے جانا کسی فلمی کہانی جیسا لگتا ہے۔

14 برسوں کے دوران اپنے خاندان کے لوگوں کو زہر دے کر قتل کر کے صاف بچ جانا اور 17 سال بعد اچانک محض ایک شکایت پر پکڑے جانا کسی فلمی کہانی جیسا لگتا ہے۔

تاہم یہ حقیقی کہانی ہے جس میں ایک خاتون نے 14 برسوں کے دوران اپنے خاندان کے کئی افراد کو کھانے اور مشروبات میں زہر دے کر قتل کیا۔

یہ سب بھارتی ریاست کیرالہ کے ضلع کالیکٹ سے تعلق رکھنے والی جولی اما جوزف نے کیا اور قتل و غارت کا یہ سلسلہ اس وقت تھم گیا جب وہ مزید قتل کر کے تیسری شادی کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔

یہ سب اگست 2002 میں کیرالہ کے شہر کوژیکوڈ میں اس وقت شروع ہوا جب اناما تھامس نامی معمر خاتون کی مٹن سوپ پینے کے چند منٹ موت واقع ہوگئی، اس کے منہ سے جھاگ بھی نکل رہا تھا۔ گھر والوں کو اس وقت کسی قسم کا شبہ نہیں ہوا کیونکہ اس خاتون کو چند ہفتے پہلے بھی کھانے کے بعد فوڈ پوائزننگ کے مسئلے کا سامنا ہوا تھا۔

اناما تھامس کی موت پر کسی کو شک نہیں ہوا اور آس پاس کے لوگوں نے خاندان کو تسلی دی۔ اس وقت گھر میں اناما تھامس، ان کے شوہر ٹام تھامس، بیٹا روئے تھامس اور اس کی بیوی جولی تھامس موجود تھے۔

17 سال بعد پولیس کو شبہ ہے کہ جولی کی ساس کو مارنے کی پہلی کوشش ناکام رہی تھی یعنی زہر کی مقدار کم رہ گئی مگر دوسری کوشش کامیاب رہی۔ پولیس کے خیال میں جولی نے ساس کا قتل گھر کے مالی معاملات پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے کیا تھا۔

اس کے بعد کئی سال تک کچھ نہیں ہوا مگر 2008 میں یعنی 6 سال بعد جولی کے سسر ٹام تھامس جو ایک ریٹائر سرکاری ملازم تھے، کی موت بھی ایک مقامی پکوان کھانے کے بعد ہوئی جس کو جولی نے ہی تیار کیا تھا۔

چونکہ ٹام تھامس اچانک گر کر مرگئے تھے اور ان کی عمر کافی زیادہ تھی تو خیال کیا گیا کہ یہ موت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی۔ لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کا مطالبہ کسی جانب سے نہیں کیا گیا۔

اس کے بعد 3 سال تک خاموشی رہی اور 2011 میں جولی کا شوہر روئے تھامس نے ایک رات کھانا کھایا اور خود کو بیمار محسوس کیا۔ وہ باتھ روم گیا اور وہاں اس کی موت ہوگئی، یہ وہ موت تھی جس پر کچھ تحفظات سامنے آئے۔

روئے کا بھائی روجو امریکا سے واپس آیا جبکہ روئے کے انکل میتھیو نے پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا اور اس کی رپورٹ نے جولی کو اپنی کہانی بدلنے نے مجبور کیا۔ یہ رپورٹ روئے کی بیوہ کے حوالے کی گئی تھی اور جولی نے اس کی تفصیلات خاندان کو توڑ مروڑ کر سنائی تھیں۔

رپورٹ میں سائنائیڈ زہر کو دریافت کیا گیا تھا، اس سے قبل جولی کا کہنا تھا کہ اس کی شوہر کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے مگر طبی شواہد کا کچھ اور کہنا تھا۔

اس رپورٹ کے بعد جولی نے خاندان کو بتایا کہ روئے نے مالی مشکلات کے باعث خودکشی کی اور سب کو اس پر قائل بھی کرلیا کیونکہ کسی نے کیس کو آگے نہیں بڑھایا۔

پولیس نے بھی خودکشی مان کر کیس بند کردیا مگر امانا تھامس کے بھائی میتھیو اس پر قائل نہیں ہوئے اور وہ مسلسل کہتے رہے کہ روئے کو زہر تک رسائی کیسے حاصل ہوئی۔

سنہ 2014 میں میتھیو خود بھی اسی طرح کے حالات میں اچانک ہلاک ہوگئے اور مبینہ طور پر پانی یا الکحل میں سائنائیڈ ملا کر انہیں پلایا گیا، مگر اس موت کو بھی ہارٹ اٹیک قرار دیا گیا، کسی کو خیال بھی نہیں آیا کہ چاروں اموات کے موقع پر جولی وہاں موجود تھی۔

میتھیو کی موت کے چند ماہ بعد جولی نے اپنے شوہر کے کزن شاجو زکریا کے ہاں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کی اور اس موقع پر شاجو کی ڈیڑھ سالہ بیٹی ایلفینی کے گلے میں کھانا پھنس گیا، جسے اسپتال لے جایا گیا اور کچھ دن وہ وینٹی لیٹر پر رہی مگر انتقال کرگئی۔

سنہ 2016 میں شاجو کی بیوی سیلی اس وقت اچانک ہلاک ہوئی، جب وہ جولی اور اپنے شوہر کے ساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جارہی تھی۔ سیلی کے انکل جو اب اس کے بیٹے کی نگہداشت کررہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس وقت کوئی شک نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ جولی ایلفینی کی موت سے چند ماہ قبل اس خاندان کے قریب ہوئی تھی، وہ سیلی کو اپنے ساتھ متعدد مقامات پر لے جاتی تھی، موت سے چند ماہ قبل سیلی اسی طرح اچانک گرگئی تھی، اب ہمیں لگتا ہے کہ اس موقع پر بھی اسے زہر دیا گیا ہوگا، وہ اسپتال میں زیر علاج رہی اور ٹھیک ہوگئی۔

2017 میں جولی نے شاجو سے شادی کرلی جب بھی کسی کو شک نہیں ہوا حالانکہ سیلی کے انکل اس شادی پر خوش نہیں تھے مگر انہیں کوئی اعتراض بھی نہیں تھا۔

درحقیقت جولی خود کو کسی مثالی خاتون کی طرح ظاہر کرتی تھی، گھروالوں اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات تھے، اچھی بہو تھی، چرچ جانا، اپنے دونوں بیٹوں کو اسکول چھوڑنے جانا اور لے کر آنا، اور کرسمس پر پڑوسیوں میں کیل کی تقسیم وغیرہ۔

جولی نے بظاہر سب کو بتایا ہوا تھا کہ وہ نیشنل انسٹی ٹوٹ آف ٹیکنالوجی میں لیکچرار ہے، اس نے ایک جعلی آئی ڈی کارڈ بھی بنا رکھا تھا۔ اس کا سسرال تعلیم کے شعبے سے منسلک تھا اور کسی کو بھی کبھی شک نہیں ہوا کہ جولی انہیں احمق بنارہی ہے۔

ایک دہائی سے زائد عرصے تک جولی ہر صبح گاڑی پر نکلتی اور گھر والوں کو لگتا کہ وہ انسٹی ٹیوٹ گئی ہے، مگر وہ کہاں جاتی تھی یہ بھی کسی معمے سے کم نہیں تھا۔

پولیس بھی اب تک یہ نہیں جان سکی کہ اتنے برسوں روزانہ گھر سے نکل کر جولی کہاں جاتی تھی اور اگر انسٹی ٹیوٹ جاتی تھی تو وہاں کیا کرتی ہے جبکہ وہ وہاں کام بھی نہیں کرتی تھی۔

کچھ گواہوں نے پولیس کو بتایا کہ جولی اکثر اس انسٹی ٹیوٹ کے کینٹین میں نظر آتی تھی حالانکہ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ نے بتایا کہ جولی کو کبھی ملازمت پر نہیں رکھا گیا۔

جولی کی دوسری شادی کے بعد اس کے سابقہ شوہر کے رشتے داروں کو شک ہونے لگا بالخصوص اس وصیت کے بعد جس کے مطابق ٹام تھامس نے اپنا آبائی گھر جولی کے نام کردیا تھا۔

روئے کے بھائی روجو تھامس اور بہن رینجی ولسن کو یہ بہت غیرمعمولی لگا کیونکہ نہ صرف ان کے باپ نے 2 بچوں کا نام وصیت میں نہیں لیا بلکہ اپنی جائیداد بیٹے کے بجائے بہو کے نام کی۔

مگر کئی برس تک انہوں نے بھی اس پر کوئی شک نہیں کیا یا اسے چیلنج کرنے کا نہیں سوچا۔ روئے اور رینجی عرصے سے جولی کے ایک پڑوسی سے رابطے میں تھے تاکہ خاندان کے حالات سے واقف رہ سکیں۔

روئے کی موت کے بعد وہی وصیت مہر بند شکل میں 2 گواہوں کے دستخطوں کے ساتھ پیش ہوئی اور روجو کو اس کے جعلی ہونے کا شبہ ہوا۔ اسی کو بنیاد بنا کر روجو نے اپنے بھائی کی مشتبہ موت کی تحقیقات کے لیے درخواست جمع کرائی۔

درحقیقت یہ تو کہا جاتا ہے کہ جولی نے 6 قتل کیے مگر جولی کی گرفتاری روئے کی موت کی وجہ سے ہی ہوئی، مگر اس سے قبل پولیس نے 2 ماہ تک تحقیقات کی اور 200 کے قریب لوگوں کے بیان ریکارڈ کیے، جس کے بعد جولی کو حراست میں لیا گیا۔

روجو نے بھائی کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کی نقل حاصل کی تو اس میں انکشاف ہوا کہ جب اس کی موت ہوئی تو پیٹ میں غذا تھی جس میں سائنائیڈ موجود تھا جبکہ جولی نے بتایا تھا کہ وہ اس وقت کھانا پکارہی تھی جب روئے بیمار ہوکر باتھ روم گیا اور مرگیا۔ روجو نے ہی یہ دریافت کیا کہ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے کا جولی کا دعویٰ بھی غلط ہے۔

بعد ازاں پولیس نے تمام 6 لاشوں کو نکلوا کر ان کا طبی معائنہ کروایا اور اس میں سائنائیڈ زہر کی موجودگی دریافت ہوئی۔

مقامی پولیس نے تسلیم کیا کہ جولی کا کیس کسی چیلنج سے کم نہیں تھا کیونکہ 6 قتل 14 سال کے دوران ہوئے اور ان کی تحقیقات 17 سال بعد 2019 میں شروع ہوئی۔ گرفتاری کے بعد بھی جولی نے سب کچھ چھپا کر رکھا تھا اور پولیس نے کافی محنت کرکے ثبوت جمع کر کے اس مضبوط دفاع کو توڑا۔

پولیس کے مطابق جولی نے شوہر سمیت خاندان کے 6 افراد کے قتل کا اعتراف بھی کیا۔ اس اعتراف میں بھی متعدد چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے تھے اور اس نے بتایا کہ اس نے روئے کے انکل کو شراب میں زہر دے کر مارا تھا۔

شوہر کے قتل کے 2 دن بعد وہ اپنے دوست کے ساتھ گھومنے گئی جبکہ شاجو زکریا کو بھی مارنے کی ناکام کوشش کی تاکہ ایک اور شخص جانسن سے تیسری شادی کرسکے۔

اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس نے جانسن کی بیوی کو بھی سائنائیڈ سے مارنے کی ناکام کوشش کی تھی مگر خوش قسمتی سے اس خاتون نے وہ کھانا نہیں کھایا تھا۔

جولی کی گرفتاری کے بعد اس کے دوسرے شوہر شاجو نے خود کو اس سے دور رکھتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی بیوی کے ماضی یا کردار کے حوالے سے کچھ نہیں جانتا تھا۔ جولی کے اپنے والدین، بہن بھائیوں نے اسے اپنے خاندان کا حصہ ماننے سے انکار کردیا۔

جولی کے مطابق اس نے ابتدائی 3 قتل تو سسرال کی جائیداد حاصل کرنے کے لیے کیے جبکہ میتھیو کے قتل کی وجہ اس کے شبہات تھے، شیلی اور ایلفینی کے قتل کی وجہ شاجو سے شادی کو یقینی بنانا تھا۔

جولی کو اکتوبر 2019 میں 2 دیگر افراد ایم میتھیو (جس نے سائنائیڈ فراہم کیا) اور پراجو کمار (ایک سنار) کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ اگست 2020 میں کیرالہ ہائیکورٹ نے جولی کو ضمانت بھی دے دی تھی اور کہا تھا کہ ملزمہ کے خلاف کیس محض اعترافات پر مبنی ہے۔

ضمانت دیے جانے کے بعد کیرالہ کی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جس نے ضمانت کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے جولی کو حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔

پولیس نے جولی کے خلاف ہر قتل کا الگ مقدمہ درج کیا اور اگست 2021 میں جولی کے دوسرے شوہر شاجو نے طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ اپنی درخواست میں شاجو نے کہا کہ وہ جولی کے شوہر کی حیثیت سے خود کو خوفزدہ محسوس کرتا ہے اور اس سے الگ ہونا چاہتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button