ادب

خاکہ: راوی ثانی…… میم سین بٹ

راوی کا لفظ سنتے ہی ہمارے دماغ کی سکرین پر دریا کے ساتھ ہی ایک مرنجاں مرنج شخصیت کی تصویر بھی ابھر آتی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کا تعلق لاہور بلکہ اس کی معروف تاریخی مضافاتی بستی شاہدرہ سے ہے۔ دریا کے علاوہ راوی روایت بیان کرنے والے کو بھی کہتے ہیں اور ہمارے حلقہ احباب میں کامریڈ ایس اے شاہدروی سے اچھا راوی کوئی دوسرا نہیں پایا جاتا۔ شہزاد فراموش بھی ان کے سامنے خود کو طفل مکتب سمجھتے ہوں گے۔ دریا ئے راوی تو خشک ہو چکا ہے لیکن راوی ثانی کے بہاؤ میں کوئی کمی نہیں آئی وہ اسی روانی سے احباب کی محفلوں میں دلچسپ واقعات اور قدیم روایات بیان کرتے چلے جا رہے ہیں بلکہ ایک ایک واقعہ کو دس دس بار دہرا چکے ہیں اور کمال یہ ہے کہ ہر بار سن کر نیا لطف آتا ہے، ان سے تو لطیفے سن کر بھی بچے اور بوڑھے خود کو جوان سمجھنے لگتے ہیں۔
ان کا ہیئر سٹائل دیو آنند جیسا ہے جبکہ چہرے کی بناوٹ راجکمار، آواز مظہر شاہ اور چال چارلی چپلن سے ملتی جلتی ہے، ہر وقت ناممکن کی جستجو میں لگے رہتے ہیں جو چیز آسانی سے مل جاتی ہے اسے ٹھوکر مار دیتے ہیں اور جس کا ملنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا ہے اس کے حصول کے لئے توانائیاں ضائع کرتے رہتے ہیں۔ انہیں انوکھا لاڈلا بھی قرار دیا جا سکتا ہے جو کھیلنے کو چاند مانگتا رہتا ہے، ہمیشہ انگریزی لباس میں دکھائی دیتے ہیں البتہ پتلون شرٹ اور کوٹ کے ساتھ ٹائی نہیں باندھتے، عام طور پر انگریزی زبان بھی نہیں بولتے مگر اس کے بُری طرح قائل بلکہ گھائل ہیں اور ترقی کا واحد ذریعہ انگریزی زبان کو قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود اندر سے مکمل دیسی آدمی ہیں اور اردو پر بھی پنجابی زبان کو ترجیح دیتے ہیں، دیسی مزاج رکھنے کے باوجود دیہاتی بھائیوں کی مخصوص عادات کو پسند نہیں کرتے، ان کا بس چلے تو اخبارات کے دفاتر بلکہ لاہور شہر میں ایک بھی ”پینڈو“ کو نہ رہنے دیں۔ اگر کبھی ان کا منصوبہ کامیاب ہوگیا تو لاہورکی سڑکیں اورگلیاں سرکاری چھٹیوں میں ہی نہیں عام دنوں میں بھی سنسان رہیں گی۔ لاہورکی گلیوں میں آوارہ پھرنے والے ہمارے ایک مرزا یار بھی یہی چاہتے ہیں۔
کامریڈ ایس اے شاہدروی پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں اور تین عشروں سے مختلف اخبارات کے ساتھ منسلک چلے آ رہے ہیں چند برس قبل دیکھتے ہی دیکھتے ان کے بالوں میں چاندی اتر آئی، اپنے بالوں کے رنگ سے بزرگ صحافی سمجھے جاتے ہیں البتہ اخباری مالکان ان کی بزرگی کے قائل نہیں وہ غالباََ سمجھتے ہوں گے کہ انہوں نے اپنے بال دھوپ میں سفیدکر رکھے ہیں حالانکہ سورج سے ان کا آمنا سامنا ہی نہیں ہوتا۔ برسوں سے ان کا معمول رہاکہ نائٹ شفٹ میں دفتر کی ڈیوٹی اور پریس کلب میں دوستوں سے گپ شپ کے بعد دن چڑھنے سے پہلے گھر جا کر سو جاتے تھے اور شام ڈھلے اٹھ کر دفتر چلے آتے تھے، ان کی عمر ایسی زیادہ بھی نہیں ابھی دوچار برس تک ہم انہیں سٹھیایا بھی قرار نہیں دے سکتے۔
اولڈ راوین ہیں اورگورنمنٹ کالج میں پروفیسر منور مرزا مرحوم کے شاگرد رہ چکے ہیں اس کے باوجود اقبالیات کے مضمون سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ خود کو پروفیسر منور مرزا کے نااہل شاگردوں میں شمار کرتے ہیں۔ برسوں سے دریائے راوی کو بارہ گھنٹوں میں دو مرتبہ پار کرتے چلے آ رہے ہیں، پہلے شاہدرہ سے گورنمنٹ کالج اور پنجاب یونیورسٹی میں پڑھنے آتے رہے تھے بعد ازاں انہوں نے اخبار کے دفتر میں ڈیوٹی پر آنا جانا شروع کر دیا تھا۔ پہلے سائیکل پر شاہدرہ سے لاہور آیا جایا کرتے تھے بلکہ سب ایڈیٹر رہنے تک سائیکل ہی استعمال کرتے رہے تھے۔ سینئر سب ایڈیٹر اور شفٹ انچارج کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد پیدل ہو گئے تھے۔ نیوز ایڈیٹر اور بعدازاں چیف نیوز ایڈیٹر بننے کے بعد گھر اور دفتر سے بس سٹاپ تک پیدل پہنچ کر ویگن یا بس پکڑتے رہے ہیں چند ماہ قبل ان کی بیگم نے انہیں کٹھارا سی گاڑی لے دی تھی جو چلتی کم اور کھڑی زیادہ رہتی تھی۔
انہوں نے شادی کے بعد اپنی اہلیہ کو بھی شاہدرہ اور لاہور شہر کے درمیان روزانہ سفر کرنے کے چکر میں ڈال دیا تھا، وہ بھی روزانہ صبح شاہدرہ سے کار ڈرائیو کرتے ہوئے راوی کا پل پار کر کے لاہور شہر میں داخل ہوتی تھیں اور گرلز سکول میں ہیڈ مسٹریس کے انتظامی فرائض سر انجام دے کر دوپہر کے وقت واپس شاہدرہ چلی جاتی تھیں پھر ان کا دوسرے شہر میں تبادلہ ہو گیا تھا۔ اس جوڑے نے شاہدرہ اور راوی کنارہ چھوڑ کر لاہور شہر میں رہائش اختیار کرنا پسند نہیں کیا حالانکہ یہاں نہر کنارے ہربنس پورہ صحافی کالونی میں کامریڈ ایس اے شاہدروی کو دس مرلہ کا پلاٹ بھی مل چکا ہے۔
ہمارے خیال میں کامریڈ ایس اے شاہدروی کو صحافی کے بجائے کالج میں لیکچرر بننا چاہیے تھا۔ اس وقت اسسٹنٹ پروفیسر بلکہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر ترقی پا چکے ہوتے مگر لگتا ہے انہیں اپنے خاندانی پیشے درس و تدریس سے نفرت ہے کیونکہ ایم اے ایجوکیشن کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود انہوں نے استاد بننا پسند نہیں کیا تھا ویسے ہم تو انہیں استاد ہی سمجھتے ہیں یہ جواں سال سب ایڈیٹرز کی حوصلہ افزائی کر کے غیر شعوری طور پر استادی کا شوق پورا کرتے رہتے ہیں۔
درس و تدریس کی طرح دریائے راوی سے بھی کامریڈ ایس اے شاہدروی کے خاندان کا گہرا تعلق رہا ہے۔ ان کے ابا ماسٹر جی مرحوم مقبوضہ جموں کے ضلع کٹھوعہ کے رہائشی تھے اور تقسیم ہند کے وقت راوی کے تعاقب میں کٹھوعہ سے نکل کر پہلے ضلع نارووال میں کچھ عرصہ رہائش پذیر رہے تھے اور بعدازاں لاہور آ کر پکی ٹھٹھی سمن آباد میں کچھ مدت مقیم رہنے کے بعد راوی کنارے شاہدرہ میں مستقل طور پر آباد ہو گئے تھے۔ آغاز میں کچھ عرصہ لائل پور کے میونسپل سکول میں بھی تعینات رہے تھے ماسٹر جی مرحوم اب شاہدرہ کے قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔
ترقی پسند کہلوانے کو باوجود کامریڈ ایس اے شاہدروی کی شخصیت بڑی روائتی قسم کی ہے، یہ قدامت پسند، اصول پرست اور اپنے حالات میں تبدیلی کے خلاف زندگی گزارنے والے شخص ہیں۔ ایک مغربی دانشور ایسے لوگوں کو برومائیڈ اور ان کی زندگی کو کامیاب قرار دیتا ہے مگر یہ اس کے بالکل برعکس ہیں انہیں برومائیڈ کے بجائے سلفائیڈ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہیں کوئی بڑی کامیابی کبھی حاصل نہیں ہوئی البتہ کامیابی بار بار نزدیک آ کر دور ضرور ہو جاتی رہی ہے۔ پہلے انہوں نے زینہ بہ زینہ ترقی کی تھی اب ریورس گئیر لگا بیٹھے ہیں۔ دراصل ان کے مواصلاتی رابطے شروع ہی سے کمزور رہے ہیں اور یہی چیز ان کی ترقی کی راہ رکاوٹ چلی آ رہی ہے تاہم اب انہوں نے اینڈرائیڈ موبائل فون لے لیا ہے اور واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی بنالیا ہے۔
ہم نے احمد راہی سے کامریڈ شفیق احمد شفیق بلکہ کامریڈ زوار حسین تک جتنے بھی ترقی پسند ادیب، شاعر اور صحافی دانشور دیکھے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دیوانے ہیں مگر کامریڈ ایس اے شاہدروی واحد دانشور ہیں جو جیالے نہیں ہیں۔ دراصل یہ باہر سے سرخ اور اندر سے سبز ہیں بلکہ ہرے کچور ہیں، کچھ عرصہ قبل بیگم کے ساتھ حج کا فریضہ ادا کر کے اس کا عملی ثبوت بھی دے چکے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان کے ترقی پسند دوست احباب انہیں دل سے کامریڈ تسلیم نہیں کرتے ہوں گے اور انہیں دل ہی دل میں یہی کہتے ہوں گے بقول شاعر:
دوست کہتے ہیں تجھے کامریڈ نہیں مانتے سعید
دوستی اپنی جگہ ہے، ترقی پسندی اپنی جگہ

Leave a Reply

Back to top button