HTV Pakistan
بنیادی صفحہ » صحت و غذائیں » خربوزہ کے انسانی صحت کے حوالہ سے فوائد

خربوزہ کے انسانی صحت کے حوالہ سے فوائد

پڑھنے کا وقت: 3 منٹ

حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلوات والسلام ارشاد فرماتے ہیں کہ خربوزہ کھائو کہ اس میں کئی فائدے ہیں،ایک تو اس میں کسی قسم کی خرابی و بیماری نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ وہ کھانے کی چیز بھی ہے اور پینے کی بھی،میوے کا میوہ ہے اور پھل کا پھل،چونکہ اس کی خوشبو بہت اچھی ہوتی ہے،منھ کو صاف کرتا ہے،روٹی کے ساتھ بھی کھایا جاسکتا ہے،مردانہ قوت میں اضافہ کرتا ہے ، مثانے کو صاف کرتا ہے اور پیشاب آور بھی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے جن پھلوں، سبزیوں جڑی بوٹیوں میں فوائد رکھے ہیں۔ خربوزہ بھی ان میں شامل ہے۔موسم گرما کا لذیذ اور فرحت بخش پھل خربوزہ نہ صرف انسانی جسم کی نشوونما کے لیے ازحد ضروری ہے بلکہ یہ مختلف بیماریوں سے حفاظت میں بھی ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پھل پچانوے فیصد تک مختلف وٹامنز اور منرلز کا مجموعہ ہے۔ خربوزے میں قدرتی طور پر وٹامن اے، بی، سی کے علاوہ فاسفورس اور کیلشیم جیسے پروٹین بھی شامل ہوتے ہیں۔

خربوزے میں کافی غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں ،کمزوری میں خربوزہ کھانے سے وزن بڑھتا ہے اورآپ خود کو تازہ دم بھی محسوس کرتے ہیں۔طبّی لحاظ سے اس میں پیشاب زیادہ لانے کی صلاحیت ہوتی ہے،اس لیے گردوں کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔قدرتی طور پر گرمی میں جسم کو خشکی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن ڈی صحت کے لیے مفید ہے۔ جسم کے پٹھوں اور رگوں کو توانائی دیتا ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاتا ہے۔ اس کے کھانے سے دل کو فرحت ہوتی ہے۔ بس اِتنی احتیاط کریں کہ بھرے ہوئے پیٹ میں زبردستی خربوزہ نہ کھائیں۔ اس لیے رات کو بھی کھانے کے بعد نہ لیں تو بہتر۔ گرمی میں اسے ضرور کھائیں،تاکہ جسم کو بھرپور توانائی حاصل ہوسکے۔خربوزے کے چھلکے بھی حد درجہ مفید ہیں۔
آیئے اب خربوزے کے چند ایسے بڑے اور اہم فوائد کے بارے میں جانتے ہیں جن سے اکثر افراد نا آشنا ہیں۔

1۔سینے کی جلن
90 فیصد پانی پر مشتمل یہ پھل سینے کی جلن میں بھی اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

2۔معدے کی تیزابیت کا خاتمہ
خربوزہ میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو نظام انہضام کے لیے نہایت نفع بخش ہے۔ اس میں شامل منرلز معدے کی تیزابیت کے خاتمہ میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

3۔ہارٹ اٹیک سے بچائو:
خربوزہ میں شامل ایک خاص جزو (اڈینوسائن) خون کے خلیوں کو جمنے نہیں دیتا اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ چیز بعدازاں ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا اسٹروک جیسی بیماریوں کے امکانات نہایت کم ہو جاتے ہیں۔

4۔کینسر کا علاج
خربوزے میں شامل کروٹینائڈ نامی پروٹین کینسر سے بچائو کی قدرتی دوائی ہے اور پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو بہت حد تک کم کر دیتا ہے۔ خربوزہ کینسر کے ان بیجوں کو ہی مار دیتا ہے، جو بعدازاں انسانی جسم پر مضبوطی سے حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

5۔جلدی صحت
جلدکی صحت کو برقراررکھنے اور بہتری کے لیے خربوزہ نہایت عمدہ غذا ہے۔ خربوزہ میں شامل پروٹین جلد کو نہ صرف خوبصورت و ملائم بناتے ہیں بلکہ جلدی بیماریوں سے حفاظت بھی کرتے ہیں۔

6۔گردے کے امراض میں مفید
خربوزہ کا استعمال گردوں کو صاف کرتا ہے اور گردے میں جمی ہوئی کثافتوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ اگر خربوزہ کو لیموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ یورک ایسڈ جیسی تکلیف میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔

کھانے سے پہلے خربوزہ کھانے کے کیا فوائد ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: کھانے سے پہلے خربوزہ کا استعمال پیٹ کو بالکل صاف کردیتا ہے اور بیماری کو جڑ سے ختم کردیتا ہے۔ (ابن عساکر :102/6)حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اقدسصلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ”خربوزہ“ اور” کھجور“ اکٹھے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔(شمائل ترمذی) رب کریم نے یوں تو تمام نعمتوں میں شفا اور افادیت رکھی ہوئی ہے مگر موسم گرما کا خاص پھل خربوزہ مختلف بیماریوں سے حفاظت میں ایک مضبوط ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔اس میں قدرتی طور پر وٹامن اے، بی، سی کے علاوہ فاسفورس اور کیلشیم جیسے پروٹین بھی شامل ہوتے ہیں۔خربوزہ میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، جو نظام انہضام کے لئے نہایت نفع بخش ہے۔ اس میں شامل منرلز معدے کی تیزابیت کے خاتمے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ ذود ہضم پھل ہے۔ خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا اسٹروک جیسی بیماریوں کے امکانات نہایت کم ہو جاتے ہیں۔خربوزے کا استعمال گردوں کو صاف کرتا اوراس میں جمی ہوئی کثافتوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ یہ پھل سینے کی جلن میں بھی اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔

جواب دیجئے