تازہ تریندیسی ٹوٹکےصحت

خوبانی خشک ہو یا تازہ : حیرت انگیز فوائد کا پھل

خوبانی متعدد غذائی اجزاء سے مالا مال ہے۔تازہ خوبانی میں قدرتی شکر، وٹامن اے، سی، ای، پوٹاشیم، کیلشیم، فولاد اور بیٹا کیروٹین اور فاسفورس موجود ہوتے ہیں۔ خوبانی سے حاصل ہونے والے بادام میں پروٹین اور چکنائی ہوتی ہے۔ جبکہ خشک خوبانی میں بھی پروٹین، فروٹوز، معدنی نمکیات، چونے، فاسفوس، فولاد کے ساتھ کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق ”خوبانی“ چاہے تازہ ہو یا خشک انسانی صحت کیلئے حیرت انگیز فوائد کا حامل اور غذائیت سے بھر پور ایک پھل ہے جس کا استعمال آنکھوں‘ آنتوں‘ بخار اور سرطان جیسے امراض میں اکسیر ہے۔

خوبانی سرد پہاڑی علاقوں میں پیدا ہونے والا ذائقہ اور غذائیت سے بھر پور پھل ہے۔ اس کا اوپر والا زردی مائل سفید پکا ہوا گودہ اپنے جوبن میں گلابی جھلک لیے ہوئے ہوتا ہے۔ پکے ہوئے پھل کا چھلکا بے حد لذیذ اور فرحت بخش ہوتا ہے۔ اپنی غذائیت اور قوت بخش ہونے کی وجہ سے یہ دنیا میں مقبولِ عام ہے۔خوبانی کو عربی میں شمس، فارسی اور سندھی زبان میں زرد آلود اور انگریزی زبان میں اپریکوٹ کہتے ہیں۔ خوبانی کا نباتاتی نام Prun Us Arminiace ہے۔ خوبانی کی ابتداء ملک چین سے ہوئی جہاں پر پہلی دفعہ خوبانی کا پھل اگایا گیا اس کے بعد تجارت اور کاروبار سے اس کی پیداوار یورپ کے ممالک میں بھی شروع ہو گئی اور اس کا نباتاتی نام ” پرونس آرمنیکا ” ہے- اٹھارویں صدی میں خوبانی امریکا کے علاقوں میں بھی اگائی جانے لگی کیوں کہ خوبانی سرد علاقوں میں پیدا ہوئی ہے تو امریکا کی آب و ہوا اس کے لئے بہت موزوں تھی اور پاکستان میں کوہستان کے علاقے اور دوسرے پہاڑی علاقوں میں خوبانی اگائی جاتی ہے مگر وادی ہنزہ اس کا سب سے اہم مرکز ہے۔

ہمارے یہاں پر خوبانی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک کا رنگ ہلکا پیلا اور دوسری قسم کا رنگ زرد ہے۔ خوبانی کی دنیا بھر میں 20 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں۔ خوبانی تازہ اور خشک دونوں صورتوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس کو تین طریقوں سے محفوظ بھی کیا جاتا ہے۔ خشک کر لیا جاتا ہے۔ تازہ خوبانی کو ہلکے شکر کے قوام میں محفوظ کر کے ڈبوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔ خوبانی کو پیس کر آٹے کی شکل میں محفوظ کر لیا جاتا ہے جو کہ چپاتی بنانے کے کام آتا ہے۔

خوبانی میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا
خوبانی متعدد غذائی اجزاء سے مالا مال ہے۔تازہ خوبانی میں قدرتی شکر، وٹامن اے، سی، ای، پوٹاشیم، کیلشیم، فولاد اور بیٹا کیروٹین اور فاسفورس موجود ہوتے ہیں۔ خوبانی سے حاصل ہونے والے بادام میں پروٹین اور چکنائی ہوتی ہے۔ جبکہ خشک خوبانی میں بھی پروٹین، فروٹوز، معدنی نمکیات، چونے، فاسفوس، فولاد کے ساتھ کچھ مقدار میں وٹامن بی کمپلیکس بھی ہوتا ہے۔

خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے؟
خشک خوبانی ایسی صحت بخش غذا ہے، جو آپ کو پورے سال دستیاب ہوتی ہے۔ خشک خوبانی کا ایک چھوٹا سا دانہ اپنے اندر صحت کا ایک ایسا خزانہ چھپائے ہوئے ہوتا ہے، جس سے فائدہ صرف وہی انسان اٹھا سکتا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ خشک خوبانی متعدد طبی فوائد کی مالک ہوتی ہے اور اس کا استعمال آپ کو کئی عام امراض سے محفوظ رکھتا ہے:

بہترین نظر:
خشک خوبانی میں دو ایسے غذائی اجزاء بھاری مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو بینائی کی حفاظت کرتے ہیں، جو عمر میں اضافے کے ساتھ کمزور ہورہی ہوتی ہے۔ خشک خوبانی کا استعمال موتیے کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نظامِ ہضم:
کھانا کھانے سے قبل خشک خوبانی کا استعمال ہمارے نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے، اس کے علاوہ خشک خوبانی قبض کے حوالے سے مددگار ثابت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ناپسندیدہ مواد کو خارج بھی کرتی ہے۔

صحت مند دل:
خشک خوبانی میں فائبر کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم میں موجود کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے، اسی وجہ سے دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس دوران خشک خوبانی جسم میں بہترین کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ روزانہ آدھا کپ خشک خوبانی کھانا دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔

خون کی کمی سے بچاؤ:
خشک خوبانی آئرن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے،جو کہ خون کی کمی خلاف مزاحمت کرنے کے حوالے سے مفید ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر خواتین مخصوص ایام میں خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں اس لیے انہیں چاہیے کہ ایسی غذائیں استعمال کریں، جن میں آئرن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہو، اگر آپ خشک خوبانی کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کریں گے، تو یہ ہیموگلوبین کی سطح میں اضافے کا باعث ہوگا۔

کینسر سے بچاؤ:
خشک خوبانی میں بھاری مقدار میں پائے جانے والے اینٹی اوکسیڈنٹس کینسر جیسے موذی مرض کے لاحق ہونے کے خطرات کو کم کرتے ہیں، اس کے بیج (kernels Apricot) کینسر کی افزائش کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کینسر کے مریضوں کو یہ 5 بیج ایک گلاس اورنج جوس کے ساتھ روزانہ صبح ناشتہ میں اس وقت تک کھانے چاہئیں جب تک کہ کینسر کے غیر معمولی خلیوں کا خاتمہ نہیں ہوجاتا-

وزن میں کمی:
خشک خوبانی میں پائی جانے والی فائبر کی بھاری مقدار نہ صرف آپ کے نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے بلکہ میٹابولک کی کارکردگی کو بھی مزید فعال بناتی ہے اور اسی وجہ سے آپ کا وزن بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں کیلوریز بھی بہت کم پائی جاتی ہیں۔

ہڈیاں:
خشک خوبانی کیلشیم سے بھی بھرپور ہوتی ہے اور ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کیلشیم ہماری ہڈیوں کی بہترین صحت کے لیے سب سے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے، جو کہ ہمارے جسم میں کیلشیم کے تقسیم کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ تمام عوامل ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

بخار:
خشک خوبانی میں بخار کی حدت کو کم کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔روزانہ ایک کپ خشک خوبانی کے جوس میں ایک چائے کا چمچ شہد شامل کر کے پئیں – یہ آپ کو پیاس سے بھی آرام دے گی-

جلد:
خشک خوبانی کو جلد سے متعلق مسائل مثلاً سورج کی جلن کی وجہ سے ہونے والی خارش اور ایگزیما وغیرہ سے بھی آرام کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خشک خوبانی کیل مہاسوں اور جلد کے دیگر مسائل کے خلاف بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

نزلہ، زکام، گلے کی خرا ش کا علاج
نزلہ، زکام، گلے کی خرا ش اورمنہ کی بد بو دور کرنے کے لیے روزانہ دس دانہ خوبانی ہمراہ گرم پانی استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔ خوبانی میں شامل لائکوپین (LYCOPENE) دل کے لیے مضر کولیسٹرول ایل ڈی ایل (LDL) کی سطح کم کرکے شریانوں کو صاف رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ لائکوپین ایک اہم مانع سرطان کے طور پر بھی مفید اور مؤثر تسلیم کرلیاگیا ہے۔ شریانوں کے صاف رہنے سے دل کولیسٹرول اور دیگر زہریلے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ موٹاپا لاحق نہیں ہوتا اور ذیابیطس کاخطرہ بھی دور ہوجاتا ہے۔

بھوک کی کمی یا معدے میں بوجھ
بھوک کی کمی یا معدے میں بوجھ کی صورت میں ایک پاؤ خوبانی دس گرام سونف کے ساتھ روزانہ استعمال کرنا فائدہ مند ہے۔

خون میں گرمائش
خون میں گرمائش اور پھوڑے پھنسیوں کی صورت میں سو گرم خوبانی، تیس گرام عناب تین سو ملی لیٹر پانی میں بھگو کے رات کو رکھ دیں صبح اچھی طرح مل کر چھان لیں تھوڑی سی مصری ملا کے نہار منہ استعمال کریں۔

بہرہ پن کا علاج
خوبانی کا رس کانوں میں ڈالنے سے بہرہ پن ختم ہو جاتا ہے. کان میں درد ہونے کی صورت میں بھی اس ٹوٹکے کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بواسیر کا علاج
پانچ عدد خوبانی اور پانچ عدد انجیر رات کو پانی میں بھگو دیں صبح پانی کے ساتھ ہی استعمال کریں بواسیر میں فائدہ پہنچاتی ہے۔

تیزابیت اور ڈکا ریں
خوبانی کا استعمال جگر کی سختی کو دور کر تی ہے اورتیزابیت اور ڈکا ریں آنے سے روکتی ہے۔

سر کی خشکی کا علاج
خوبانی کے مغز کا تیل روغنِ بادام جیسی خصوصیات کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ کمزوری وضعف کو دور کرنے‘سرکی خشکی کے خاتمے اور خواب آوری میں بہترین معاون کردار ادا کرتا ہے۔

دُبلے پتلے کیلئے خاص تحفہ
دُبلے پتلے افراد اپنا وزن بڑھانے کے لیے ناشتے میں خشک خوبانی کھانے کا اہتمام کریں تو جسم فربہ ہونے لگتا ہے اور عمر طویل ہوتی ہے۔

مشہور طبی نسخہ:

جوانی، طاقت، فٹنس، اور حسن کے لئے
۳ عدد خشک خوبانی اور ۱ عدد چھوہارہ لیں ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں رات کو ایک کپ پانی میں بھگو لیں صبح اس میں ایک چمچ شہد ملا لیں،اگر سردی کا موسم ہو تو نیم گرم کرکے پی لیں، اگر گرمی کا موسم ہو تو گرم نہ کریں اور ایسے ہی پی لیں۔

خوبانی کے دیگر فوائد

جلد بڑھاپا نہیں آئے گا۔

نظر مضبوط ہو گی اور اعصابی کمزوری ختم ہو جائے گی۔

کبھی جسمانی طاقت ختم نہ ہو گی اور نہ جسم میں لرزہ آئے گا۔

گھٹنے، جوڑ، پٹھے، دل و دماغ طاقت ور ہو جائیں گے۔

یہ جسم میں توانائی پیدا کر تی ہے-

خوبانی کے استعمال سے خون میں حرارت اور حدت پیدا ہوتی ہے– خوبانی قبض کشا ہوتی ہے اور خوراک کو جلد ہضم کرتی ہے۔

خوبانی کا مربہ بنایا جاتا ہے جو مقوی دل، مقوی معدہ اور مقوی جگر ہوتا ہے۔

خوبانی کے مغز کے فوائد مغز بادام کے برابر ہوتے ہیں۔

خوبانی میں بہترین غذائیت ہوتی ہے۔ جو انسانی جسم کے لیے بہت مفید ہے۔

خوبانی خون اور جو ش خون کو فا ئدہ دیتی ہے۔

خوبا نی کے درخت کے پتے اگر دو تولہ رگڑ کر پلائے جائیں تو پیٹ کے کیڑے اس سے مر جا تے ہیں۔

سوزش معدہ اور بوا سیر کے لیے مفید ہے۔

جگر کی سختی کو دور کر تی ہے۔

ضروری احتیاط:
خوبانی صحت بخش اور مفید پھل جوسبھی لوگوں کو پسند ہوتا ہے۔ خوبانی کی اہم بات اس کی گری ہے جو بادام جیسا مزا دیتی ہے۔اسی لیے کم و بیش سبھی خوبانیکھانے والے اس کی گری بھی شوق سے کھاتے ہیں،ایسا کرنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔خوبانی کی گری سے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ اسے کھانا مفید اور یہ کینسر سمیت کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگارثابت ہوتی ہے مگر حقیقت میں خوبانی کی گری صحت کیلئے سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے،اسے کھانے سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ گری میں جان لیوا زہر”سائنائیڈ“ پایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خوبانی کی گری میں ایک مادہ ”امیگدالین“پایا جاتا ہے، جو ”گیلوکوسیڈسایانوجن“ کیمیکل کی ایک قسم ہے۔ خوبانی کی گری چبانے سے ہائیڈروجن سائنائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے البتہ اگر گری کو پکا لیا جائے تو ایک مخصوص درجہ حرارت پر اس کے زہریلے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔خوبانی کی گری کھانے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ اس میں سائنائیڈ سمیت انتہائی زہریلے مادے پائے جاتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

Leave a Reply

Back to top button