ادبافسانہسعادت حسن منٹو

خوشیا

ایک شخص کی مردانگی کو چیلنج کرنے کی کہانی ہے۔ ایک طوائف جو اپنے دلال کو محض گاہک فراہم کرنے والا ایک بے ضرر پرزہ سمجھتی ہے اور اس کے سامنے عریاں رہنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتی وہی ایک دن جوش میں آکر دلال کے بجائے خود ہی گاہک بن بیٹھتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

خوشیا سوچ رہا تھا۔۔۔

پنواڑی سے کالے تمباکو والا پان لے کر وہ اس کی دکان کے ساتھ اس سنگین چبوترے پر بیٹھا تھا، جو دن کے وقت ٹائروں اور موٹروں کے مختلف پرزوں سے بھرا ہوتا ہے۔ رات کو ساڑھے آٹھ بجے کے قریب موٹر کے پرزے اور ٹائر بیچنے والوں کی یہ دکان بند ہو جاتی ہے۔ اور اس کا سنگین چبوترہ خوشیا کے لیے خالی ہو جاتا ہے۔

وہ کالے تمباکو والا پان آہستہ آہستہ چبا رہا تھا اور سوچ رہا تھا۔ پان کی گاڑھی تمباکو ملی پیک اس کے دانتوں کی ریخوں سے نکل کر اس کے منہ میں ادھر ادھر پھسل رہی تھی۔ اور اسے ایسا لگتا تھا کہ اس کے خیال، دانتوں تلے پس کر اس کی پیک میں گھل رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ اسے پھینکنا نہیں چاہتا تھا۔

خوشیا پان کی پیک منہ میں پلپلا رہا تھا۔ اور اس واقعہ پر غور کر رہا تھا جو اس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ یعنی آدھ گھنٹہ پہلے۔

وہ اس سنگین چبوترے پر حسبِ معمول بیٹھنے سے پہلے کھیت واڑی کی پانچویں گلی میں گیا تھا۔ منگلور سے جو نئی چھوکری کانتا آئی تھی۔ اسی گلی کے نکڑ پر رہتی تھی۔ خوشیاسے کسی نے کہا تھا کہ وہ اپنا مکان تبدیل کر رہی ہے چنانچہ وہ اسی بات کا پتہ لگانے کے لیے وہاں گیا تھا۔ کانتا کی کھولی کا دروازہ اس نے کھٹکھٹایا۔ اندر سے آواز آئی ’’کون ہے؟‘‘ اس پر خوشیا نے کہا، ’’میں خوشیا‘‘

آواز دوسرے کمرے سے آئی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا خوشیا اندر داخل ہوا۔ جب کانتا نے دروازہ اندر سے بند کیا تو خوشیا نے مڑ کر دیکھا۔ اس کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ جب اس نے کانتا کو بالکل ننگا دیکھا۔ بالکل ننگا ہی سمجھو۔ کیونکہ وہ اپنے انگ کو صرف ایک تولیے سے چھپائے ہوئے تھی، چھپائے ہوئے بھی نہیں کہا جا سکتا۔ کیونکہ چھپانے کی جتنی چیزیں ہوتی ہیں وہ تو سب کی سب خوشیا کی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے تھیں۔

’’کہو خوشیا کیسے آئے۔۔۔؟ میں بس اب نہانے والی ہی تھی۔ بیٹھو بیٹھو۔۔۔ باہر والے سے اپنے لیے چائے کا تو کہہ آئے ہوتے۔۔۔ جانتے تو ہو وہ مواراما یہاں سے بھاگ گیا ہے۔‘‘

خوشیا جس کی آنکھوں نے کبھی عورت کو یوں، اچانک طور پر ننگا نہیں دیکھا تھا، بہت گھبرا گیا۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے؟ اس کی نظریں جو ایک دم عریانی سے دو چار ہو گئی تھیں، اپنے آپ کو کہیں چھپانا چاہتی تھیں۔

اس نے جلدی جلدی صرف اتنا کہا، ’’جاؤ۔۔۔ جاؤ تم نہاؤ، پھر ایک دم اس کی زبان کھل گئی‘‘، ’’پر جب تم ننگی تھیں تو دروازہ کھولنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟ اندر سے کہہ دیا ہوتا میں پھر آ جاتا۔۔۔ لیکن جاؤ۔۔۔ تم نہا لو۔‘‘

کانتا مسکرائی، ’’جب تم نے کہا خوشیا ہے۔ تو میں نے سوچا۔ کیا ہرج ہے۔ اپنا خوشیا ہی تو ہے آنے دو۔۔۔‘‘

کانتا کی یہ مسکراہٹ ابھی تک خوشیا کے دل و دماغ میں تیر رہی تھی۔ اس وقت بھی کانتا کا ننگا جسم موم کے پتلے کی مانند اس کی آنکھوں کے سامنے کھڑا تھا اور پگھل پگھل کر اس کے اندر جارہا تھا۔

1 2 3 4 5 6اگلا صفحہ

Leave a Reply

Back to top button