سیلف ہیلپ

خوشی ایسے بھی ملتی ہے!…… رانا عون حیدر

خوشی اور کامیابی دو ایسی چیزیں ہیں جنہیں ہم میں سے ہر کوئی کسی بھی دوسری چیز کی نسبت زیادہ سے چاہتا ہے۔ یہ دونوں زندگی میں شائد ہی کبھی خود بخود رونما ہوتی ہیں کیونکہ انہیں حاصل کرنے کے لئے خاص رویے کی ضرورت ہوتی ہے، اور خوش قسمتی سے آپ کا رویہ آپ کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔ اگر رویہ ٹھیک ہو تو آپ بہتر کام سر انجام دیتے ہیں اور جب کام بہتر اور مؤثر ہو تو اس سے خوشی بھی حاصل ہوتی ہے اور کامیابی بھی۔ جب کامیابی اور خوشی کا دارومدار رویے پر ہے تو آپ کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ایسا کیا کیا جائے جس سے رویہ اچھا اور سوچ ہمیشہ مثبت رہے۔ آئیے! ایسا کرنے کیلئے چند آسان اصول جانتے ہیں جو موٹیویشنل سپیکر ڈاکٹر کین او نے تحقیق و تجربہ سے واضع کئے ہیں۔
اظہارِ تشکر
اگرآپ زندگی میں ہمیشہ مثبت چیزوں پر فوکس رکھتے ہیں تو اس سے نہ صرف آپ کو خوشی حاصل ہوتی ہے بلکہ کامیابی بھی ملتی ہے۔ اظہارِ تشکر میں وہ جادوئی طاقت ہے جو زندگی میں زیادہ سے زیادہ مثبت چیزیں لانے کا سبب بنتی ہے۔ اگر آپ روز اظہارِ تشکر کرتے ہیں تو آپ کے آنے والے دن مزید خوشیوں اور کامیابیوں کی نوید بن سکتے ہیں۔
متحرک رہیں
ہر وقت یہ سوچئے کہ زندگی مختصر ہے۔ یہ احساس آپ کو ہمیشہ عمل پر آمادہ رکھے گا۔ دوسرے کیا سوچتے ہیں اس پر دھیان مت دیں کیونکہ آپ کے لئے سب سے اہم وہ چیز ہے جس پر خوشی اور کامیابی کے لئے آپ کا فوکس ہے۔
ناکامی بُری نہیں
کامیابی کے لئے ناکام ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر آپ ناکامی کے بارے بہت زیادہ منفی سوچنا چھوڑ دیتے ہیں تو زندگی میں ضبط اور کامیابی لانا آسان ہو جاتا ہے۔ سوچئے! اگر آپ ناکامی سے نہ ڈرتے تو اب تک کیا کچھ کر چکے ہوتے۔ سوچئے، ماضی میں آپ کتنی بار ناکام ہوئے اور آخر کار کامیاب ہو ہی گئے۔ یاد کیجئے! ناکام ہونے کے بعد کتنی بار آپ ہمت ہار کر بیٹھ گئے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا ہوتا تو اب تک کیا کچھ حاصل کر چکے ہوتے۔
کچھ بھی سیکھنا نہ ممکن نہیں
آپ نے چلنا اور بولنا سیکھا، اور اب گھڑ سواری اور لہروں پر سرفنگ کرنا بھی سیکھ سکتے ہیں۔ آپ ایک زبردست مقرر یا عمدہ درجے کا اکاؤنٹنٹ بن سکتے ہیں۔ چند چیزوں کو چھوڑ کر آپ خوش رہنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی سیکھ سکتے ہیں۔ اس لئے اس بات کا تعین آج اور ابھی سے کریں کہ آپ خوش رہنے کیلئے کیا سیکھنا چاہتے ہیں؟
عمل اور رد عمل
ہم سب جانتے ہیں کہ ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ اگر آپ بال کو اپنے پیر پر گراتے ہیں تو وہ پیر پر ہی گرے گا۔ اگر آپ اچھا کام کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے اور اگر بُرا کرتے ہیں تو بُرا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ یہ دنیا عمل کی دنیا ہے، آپ جیسا کریں گے، ویسا بھریں گے۔ سو ثابت ہوا کہ آپ عمل کے ذریعے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔
تنقید کی پروا میت کیجئے
اگر آپ اس بات پر زیادہ دھیان دیتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو آپ کبھی خوش یا کامیاب نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو حقیقت میں آپ کی خوشی کی پروا کرتے ہیں۔ دراصل زیادہ تر لوگ تو بس آپ کی ٹانگ کھینچنا ہی جانتے ہیں۔ اس لئے بے جا اختلاف اور تنقید کرنے والوں کو خاطر میں لانے کے بجائے وہ کیجئے جو آپ خوشی اور کامیابی کے حصول کیلئے کرنا چاہتے ہیں۔ سوچئے، کتنی بار دوسروں نے آپ کی حوصلہ شکنی کی، اور ان کی رائے کس حد تک درست تھی؟ کیا انہوں نے جس کام سے آپ کو روکا، وہ اس کے ماہر تھے؟ یاد رکھیں! زیادہ تر لوگ ہر معاملے میں رائے دینے کے عادی تو ہوتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی کوئی رائے ہوتی ہی نہیں، کیونکہ وہ جس چیز پر رائے دے رہے ہوتے ہیں، اس کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہی نہیں ہوتے۔ اس لئے ایسے لوگ اور ان کی رائے اہم نہیں بلکہ آپ کا امید پرستی پر مبنی رویہ اہم ہے جو آپ کو لامحدود خوشی اور حقیقی کامیابی سے نواز سکتا ہے۔

Leave a Reply

Back to top button