سیلف ہیلپ

خوشی پھیلانا کتنا آسان ہے!…… سید ثمر احمد

خوشی پھیلانا کتنا آسان ہے۔ ممتاز صاحب کے ایک جملہ نے دل دماغ کی دنیا جھنجھوڑ دی تھی۔ سرشاری کی عظیم کیفیت نے وہاں موجود ’فرشتوں‘ کو جھُوما ہی تو دیا تھا۔ چہرے اخلاص کے یقین سے دمک رہے تھے۔ یکم دسمبر کے پہلے چاند کی سرد شب میں درختوں کی قطار کے پیچھے ایک نشیبی سڑک تھی، اور اس کے سِرے پہ تعلیم گاہ کے چمکتے کمرے کے کونے میں موجود تھے انسان، جو نر اور مادہ نہیں تھے۔یہ ’زاویہ‘ کا روشن کدہ تھا۔ ان کے وجود نے زمین کے اس حصہ کو طمانیت بھرے نور میں بدل دیا تھا۔ جنہوں نے ارادہ کیا ہوا تھا کہ دنیا کی اس چوپال میں جانور بن کے بے حسی کی زندگی نہیں گزارنی بلکہ جس قابل ہوئے وہ کر کے جانا ہے۔

قناعت کا راز: سید ثمر احمد
مالک نے تو کوشش کا پوچھنا ہے، اس کے پیچھے چھپے اخلاص کا پوچھنا ہے۔ وہاں کون سا مقدار پہ حساب کتاب ہو گا، وہاں تو معیاری نیت کی شاخ پہ قبولیت کے پھل اتارے جائیں گے۔ وہ رات کو شکست دینے کی اپنی سی کامیاب کوشش کر رہے تھے اور جلا رہے تھے:
ننھے منھے سورج……
ممتاز صاحب کہہ رہے تھے کہ قطار میں لگے میں کبھی اپنی باری پیچھے والے ضرورت مند کو دے دیتا ہوں،جو ضعیف ہو یا ویسے ہی۔ بظاہر چھوٹی سی بات ہے پر نتیجہ کے طور پہ خوشی کے بادل سایہ کر لیتے ہیں ……دفتر جاتے ہوئے دوست نے ٹیکسی لی۔ سارا راستہ ڈرائیور ہنس ہنس باتیں کرتا رہا۔ جب ڈراپ کی جگہ آئی تو انہوں پوچھا، آپ کیوں اتنا خوش مجھ سے بولتے رہے؟ ’سر، آپ کو کیسا لگا؟‘۔ جواب دیا یقینا بہت اچھا۔’آپ کا موڈ خوش گوار ہو گیا۔ اب آپ آفس میں داخل ہوں گے تو دوسرے سے اسی مہکتے موڈ میں ملیں گے۔ وہ بھی مسکراہٹ میں آجائے گا۔ یوں آگے سے آگے ایک سرکل چل پڑے گا اور آپ کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ یوں سارے سلسلہ کا مستقل بڑھتا ہوا اجر مجھے ملے گا‘۔ حقیقت یہی ہے کہ اس دنیا میں بھلائی اور برائی کے سرکلز چلتے ہیں۔شعور سے چلائیں تو بھلائی کے اور نفس کی شیطنت کے ہاتھ اپنی ڈور دے دیں تو برائی کے۔ ان کے نتائج بھی یہیں ہمیں ملتے ہیں، پر جانتا وہی ہے جو بصیرت کی آنکھ رکھتا ہے۔ جو اندھیرے میں جلاتا ہے:
اپنے اپنے چراغ……
بڑے بڑوں کی بڑی بڑی خدمت سے بہتر ہے کہ چھوٹے چھوٹوں کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کر دی جائیں۔ شہروں میں تو کافی کام ہو جاتا ہے پر گاؤں کی محرومی زیادہ ہے اور گنجائش بھی۔ ہم وہاں راشن پیکس دینے کی کوشش کرتے ہیں جو مستحق بھائی بہنوں کی زندگی میں کچھ آسانی لاتا ہے۔ ڈاکٹر سید عاطف بولے، میں یونیورسٹی میں اپنے طالب علموں کو ہر سمسٹر میں اسائنمنٹ دیتا ہوں جس کے نمبر ان کی پراگریس رپورٹ میں شامل کیے جاتے ہیں کہ وہ دو پودے لگائیں۔ اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔ ہم نے بلڈ دونر سوسائٹی بھی بنائی۔ ایک ’ویلفئیر فنڈ‘ بھی قائم کیا جس میں طلبا و اساتذہ اپنی خوشی سے حصہ لیتے ہیں۔ اس کی مدد سے اب تک کچھ کی ہم فیسیں ادا کر چکے، بس جتنی خدمت کر سکیں وہ کر رہے ہیں۔ ایک پروگرام شروع کیا، Feed the need۔ اس کے تحت پچھلی دفعہ 1800 ماہانہ راشن کے پیکٹ تقسیم کیے گئے اور کپڑے بھی مہیا کیے۔ محفل میں ایسے سکون تھا جیسے تھمی تھمی لہریں اٹھکیلیاں کرتی ہیں۔ سب شرما رہے تھے کہ اپنی ذاتی نیکیاں کیا بتاتے، بھلا یہ بتانے کے لیے تھوڑی کی تھیں۔ سید معین الحسن کسی غریب چھابڑی والے سے بھاؤ تاؤ نہیں کرتے۔ انہوں نے اذان دی کہ معاشرہ وہ چھتنارا درخت ہے جس کے سائے میں فرد پنپتا ہے……یہ جو ہمارے بزرگ ایک ہزار سال دنیا پہ حکومت کرتے رہے، کبھی سوچا کہ کیوں؟ بھائی خدائی معاشرہ قائم تھا۔ اداروں میں، اوپری سطح پہ خرابیاں بھی آتی رہیں پر بیج صحت مند رہا۔ معاشرتی ماں وہ وجود جنم دیتی رہی جو رحمتوں سے منور کرتے رہے۔ جب یہ معاشرہ ٹوٹا تو ہمارے زوال کی انتہائی گراوٹ شروع ہوئی۔ گر حقیقی تبدیلی چاہیے تو معاشرہ سدھارنا ہوگا، یہ وہ مِسنگ لنک ہے جسے جوڑنا ہے۔ چھت تبھی بنتی ہے جب بنیادیں موجود ہوں۔ امیرالمومنین عمر بن خطاب نے کہا کہ عمر نہیں جانتا کہ اس نے حق کو پا لیا، پر اس نے سعی (کوشش) میں کوتاہی نہیں کی۔ چلیں دیکھیں:
خیر، خرچ کے بغیر……
یہ استادعبدالقادر ہیں۔ جس ادارے میں پڑھاتے تھے وہیں اپنے آفس بوائز کو پڑھنے میں مدد دی۔ دونوں اپنی یونیورسٹی ایجوکیشن مکمل کر رہے ہیں۔ ان کے گھریلو تنگ حالات میں کشادگی کے کچھ سانس آئے ہیں۔ کہنے لگے ہمارے ہاں حوصلہ افزائی کا کلچر کمزور ہے، میں نے محسوس کیا اور اس خلا کو بساط بھر پورا کرتا ہوں۔ نیز میں سمجھتا ہوں کہ روحانیت سے دوری معاشرے کا اصل المیہ ہے سو اپنی سمجھ کے مطابق طلبا کو ترغیب دیتا رہتا ہوں۔ یہ جب سے لاہور آئے ہیں اپنی بائیک پہ گزرتے ہوئے انتظار کرتے ہوؤں کو لفٹ دیتے ہیں۔ لوگوں نے ڈرایا کہ لُوٹے جاؤگے پر یہ یقین برخدا لگے رہے اور مسکراتے رہے…… محمد حسین یونیورسٹی کے طالب علم ہیں لیکن انہوں نے اپنی مشاورت کاری کی صلاحیت سے کئیوں کی زندگی بہتر بنانے میں مدد دی……ممتاز صاحب ٹول پلازہ سے گزرتے ہیں تو وہاں بیٹھے تھکے ماندے ٹول کلکٹر سے مزاح کر کے ہشاش بشاش کر دیتے ہیں۔
کامیابی: سات حروف، سات گر: نعیم سلہری
مسعود مجاہد تربیت کار اور مصنف ہیں۔ یہ اپنے بچوں کے ساتھ One Act of kindness daily انجام دیتے ہیں۔ موچی کو 100روپے زیادہ دیتے ہیں۔ کہیں کوئی پبلک جگہ پہ خدمت کرتا نظر آجائے تو تصویر لے کے سوشل میڈیا پہ امید کی بڑھوتری کے لیے لگاتے ہیں۔ سب گھر والوں سمیت ہوٹل میں ویٹرز کا باری باری شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے حیران کر کے مثبت کر دیتے ہیں۔ درد سے بیان کیا کہ ہم چھوٹو ں کو عزت دیں اور اس کے کئی مواقع آتے ہیں جیسے کسی نے گلاس بھر دیا تو شکریہ کہہ دیا۔ ہم احاطہ ہی نہیں کر سکتے کہ ایسے اعمال کے ساتھ کتنی بڑی نفسیاتی، جذباتی اور سماجی تبدیلیوں کا باعث بنا جا سکتا ہے……یارو فرمانِ رسولِ محترمؐ یاد کرو کہ اللہ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے……مسعود نے سنایا:
سچ کی برکت کا ایک واقعہ……
میرے دوست کا گجرات میں پرنٹنگ پریس تھا۔ اس نے تیزاب کی بوتل ایک جگہ رکھی، بچہ آیا اور پی گیا۔ الٹیاں لگیں، ہسپتال جانا پڑا۔ اُس نے مجھے فون کر کے پریشانی میں مشورہ مانگا۔ میں نے کہا کہ جو بھی ہو جائے تم نے اس کے رشتہ داروں کے سامنے سب کچھ سچ بیان کر دینا ہے۔ پہلے تو وہ جھجھکا کہ ایسے تو ایف آئی آر کٹ جائے گی پھر کچھ دیر بعد رضامندی کا فون کیا۔ بچہ کا والد کراچی میں ٹرک ڈرائیور تھا۔ جب بچہ کے گارڈینز آئے تو اُس نے صاف صاف واقعہ بیان کیا اور کہا کہ میں ہر طرح کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔ ہاں یہ جان بوجھ کے نہیں ہوا بلکہ حادثہ تھا۔ اب جیسا آپ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا۔ خیر ایک ہفتہ یہ معاملہ چلا لیکن بالآخر گھر والوں نے اسے معاف کر دیا اور پولیس کو بھی واپس کر دیا۔ ایک مخلص مشورہ کتنا ہی وقت، صلاحیت، پیسا بچا جاتا ہے…… غرض سارے ہی تھے ’زاویہ‘ میں:
اہلِ درد……
کوئی بڑے سٹورز کی بجائے محلہ کی چھوٹی دکانوں سے خریداری کرتا کہ وہ ضرورت مند زیادہ ہیں تو کوئی مزدوروں کے بچوں کو اسٹیشنری فراہم کرتاکہ کتابیں تو گورنمنٹ سے سکولوں میں مل جاتی ہیں۔ محمد عبید مساجد کو سوسائٹی کا مرکز بنانے کی جدوجہد کرتا تو نرم دل مجاہد منیر کسی کی ضرورت کے لیے ساتھ چل پڑتا۔اسے وہ وقت یاد تھا جب والد پھر والدہ وفات پاگئیں اور بچوں کا وارث کوئی بننے کو تیار نہ ہوا۔ مالک مکان نے نکال دیا اور ددھیال ننھیال نے قبول نہ کیا۔ ایسے بے آسرا بلکتے بچوں کو اپنے گھر رکھا، پھر کسی فرشتہ سے انتظام کروایا جس سے معصوموں کی زندگی کا سلسلہ پھر سے چل نکلا……راقم اپنی کوتاہیوں کے ساتھ کوشش کرتا ہے کہ:
٭معاشرتی اور معاشی طور پہ بظاہر اپنے سے کمزوروں کو زیادہ عزت دے۔ بزرگ سے پوچھا کہ تواضع کیا ہے؟ بولے، امیر آدمی سے باوقار انداز میں ملو اور کم وسائل والے سے بِچھ کے ملو۔
٭ہمسایوں کے گھر کچھ دنوں بعد گھر میں پکے کھانے بھجوا دے۔ حضرت احمد جاوید نے کہا کہ آج اگر اچھی ہمسائیگی حاصل کر لی جائے تو ہمارے 60 فیصد سے زیادہ سماجی مسائل حل ہو جائیں۔
٭ترغیب دے، اچھا مشورہ دے اوردوسروں کی زندگیوں میں کسی ویلیو ایڈیشن کا سبب بن جائے۔
٭ہر بات پہ شکریہ ادا کرے۔
٭اپنے سیاحتی سفروں میں صفائی مہم چلائے اور پھیلایا گیا کوڑا کرکٹ چُنے۔ نیز کوئی ریپر بھی سڑک پہ نہ پھینکے۔
٭ پی ڈی ایف بکس کا وٹس ایپ گروپ شروع کیا جو کامیاب گروپس میں سے ایک ہے۔
آخری بات……
کیلی فورنیا کے ساحل پہ ایک شخص روز آتا ہے اور سٹار فش کو اٹھا اٹھا پھر سے سمندر میں پھینکتا ہے۔ شام کے وقت پانی پیچھے ہٹنے کی وجہ سے لاکھوں ستارہ مچھلیاں دنیا بھر کے ساحلوں پہ پھنس جاتی ہیں اور پھر کئی مر جاتی ہیں۔ کسی نے پوچھا، آخر تم کتنی مچھلیوں کو بچا سکتے ہو، یہاں تو تعداد بے شمار ہے۔کیوں تھکتے ہو، فائدہ؟اس نے ایک مچھلی اٹھائی، پانی میں پھینکا اور کہا’میں نے ایک کو تو بچا لیا ہے‘……یہ وہ پہلی موٹیوشنل بات تھی جو فائز حسن سیال کے منہ سے میں نے شعوری عمر کے آغاز میں سنی تھی۔ آج تک جتنا بھی اس فقیر سے خیر پھوٹ سکا ہے اُس میں اِس جملہ کا یقینی حصہ ہے…… اس بات پہ مت جائیے کہ ہمارے کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ جانیے کہ کرنے سے ہی کچھ ہوتا ہے۔ نہ کرنے سے تو بلاشبہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ پانی پینے کے لیے بھی ہونٹ تو کھولنے ہی پڑتے ہیں۔ لوگ بڑے کام سوچتے ہیں اور ان کا قد اور تقاضے دیکھ کے ہمت ہار جاتے ہیں۔ بھائی چھوٹے چھوٹے کنکر چنتے جاؤ، یقین مانو میدان صاف ہوتا جائے گا اور پیر زخمی ہونا بند ہو جائیں گے۔ عنبر برسے گا، کوئل کُوکے گی، بلبل چہکے گی، خوش حالی آئے گی اور خوشی چھائے گی۔
آسمانوں پرنظر کر، انجم و مہ تاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ

اپنے انفرادی، نفسیاتی، روحانی، معاشرتی مسائل میں مشاورت کے لیے مندرجہ ذیل پتہ پر سوال لکھ کے بھیجیں یا ای میل کریں
syyed.writer@gmail.com

Leave a Reply

Back to top button