تجزیہسیاسیات

خیبرپختونخواہ میں طوفانی بارشیں 45افراد کی جان لے گئیں

پشاور: خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں، ژالہ باری اور طوفان کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں چھتیں گرنے اور دیگر حادثات میں ہلاک ہونے افراد کی تعداد 45 ہو گئی، جب کہ 200 کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

طوفانی بارشوں سمیت ژالہ باری اور طوفانی بگولوں سے پشاور سمیت نواحی علاقوں واحد گڑھی، لیاقت آباد، چارسدہ روڈ، چمکنی، پخہ غلام، بدھوثمرباغ، نوشہرہ، مردان اور دیگر علاقوں میں چھتیں گرگئیں، اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔

شدید بارشوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بارشوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش سمیت ژالہ باری بھی ہورہی ہے۔

سب سے زیادہ تباہی چارسدہ روڈ، بدھو ثمر باغ، بڈھنی پل، پخہ غلام، واحد گڑھی، لیاقت آباد اور گردو نواح میں ہوئی جہاں بجلی کے دیو قامت کھمبے اور ٹرانسفارمر گرگئے، درخت جڑوں سے اُکھڑ گئے، کچے مکانوں کی دیواریں اور چھتیں منہدم ہوگئیں اور سائن بورڈز اور بڑے بڑے اشتہاری بورڈ گرگئے، جبکہ بعض مقامات پر کھمبے اور ٹرانسفارمر گرنے سے گاڑیاں تباہ ہوگئیں اور موٹر وے ٹول پلازہ کے بوتھ تیز ہواؤں سے تنکے کی مانند اُڑ گئے۔

بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبے گرنے سے پشاور شہر اندھیرے میں ڈوب گیا اور مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں 200 سے زیادہ زخمی لائے گئے، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

ہلاک ہونے والے 29 افراد کی لاشیں لیڈی ریڈنگ اسپتال، 10 کی چارسدہ اور 5 کی نوشہرہ ڈی ایچ کیو میں منتقل کی گئیں۔

مقامی حکومت کے ایک سینئر افسر ریاض خان محسود اور سینئر پولیس افسر ڈاکٹر نیاز سعید نے ہلاکتوں کی تصدیق کی۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور خیبرٹیچنگ اسپتال منتقل کرنے کے بعد شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجسنی نافذ کردی گئی ۔


ریحام خان کی متاثرینِ بارش کی عیادت


ریحام خان لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے دورے کے موقع پر—۔ڈان نیوز اسکرین گریب
ریحام خان لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے دورے کے موقع پر—۔ڈان نیوز اسکرین گریب

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ ریحام خان طوفانی بارشوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لیے آج لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچیں۔

اس موقع پر ریحام خان کا کہنا تھا کہ مشکل کی اس گھڑی میں وہ متاثرین کے ساتھ ہیں اور پشاور کے گرد و نواح کے متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچائی جارہی ہے۔

ریحام خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موسم کی پیشگی وارننگ نہیں ملی جبکہ انھوں نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو منظم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پشاور کی تباہ کن بارش سے ہونے والے حادثات میں ہوئے زخمیوں کو ہسپتال لایا جارہا ہے۔ —. فوٹو اے ایف پی
پشاور کی تباہ کن بارش سے ہونے والے حادثات میں ہوئے زخمیوں کو ہسپتال لایا جارہا ہے۔ —. فوٹو اے ایف پی

ایک بیان میں محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پشاور، ہزارہ اورمالاکنڈ ڈویژن میں تیز بارش کا امکان ہے ۔

محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 59ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، رسالپور میں 39، بالاکوٹ میں 22، سیدو شریف میں 11ملی میٹر، چراٹ میں 19، کالام 17، دیر 15 اور مالم جبہ میں 9ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

اتوار کو کئی مقامات پر جڑ سے اکھڑے درخت، عمارتوں کا ملبہ اور زمین بوس موبائل ٹاور دیکھے ، جن کی وجہ سے شہر کی کئی اہم سڑکیں بند ہوگئیں۔ شہر کے کئی علاقوں میں تین فٹ تک پانی کھڑا ہے۔

طوفانی بارشوں کے باعث بجلی کے کھمبے اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے—۔ڈان نیوز اسکرین گریب
طوفانی بارشوں کے باعث بجلی کے کھمبے اور درخت جڑوں سے اکھڑ گئے—۔ڈان نیوز اسکرین گریب

مقامی افسر ریاض محسود نے بتایا کہ سڑکوں پر موجود رکاوٹوں اور موبائل ٹاورز گرنے کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں اور رابطوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

پاک فوج کے ترجمان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج بھیج دی گئی ہے جبکہ کمبائنڈ ملٹری اسپتال میں ڈاکٹر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔


راولپنڈی اسلام آباد میں بارشوں کی پیشگوئی


پشاور کے بعد طوفانی بارشوں نے جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کا رخ کرلیا ہے اور گزشتہ شب سے وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ خراب موسم کے باعث پروازوں کا شیڈول بھی شدید متاثر ہوا ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ رات سے سیاہ بادلوں نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر بسیرا کر رکھا ہے اور جڑاوں شہروں کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

موسم کی خرابی کے باعث بینظیر بھٹو انٹرنیشل ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا، فلائیٹ انکوائری کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں کو جانے والی 8 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔اب تک اسلام آباد میں 22 جبکہ راولپنڈی میں 7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹے کے دوران بھی بارش کی پیشگوئی کی ہے۔


وزیراعظم نواز شریف کا اظہارِ افسوس، مالی امداد کا اعلان


وزیر اعظم نواز شریف نے بارشوں سے ہلاکتوں اور مالی نقصان پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ نواز شریف نے صوبائی حکومت اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے خیبرپختونخوا میں بارش سے متاثرہ افراد کےلیے امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔

اعلان کے مطابق بارشوں کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کے خاندانوں کو5،5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے، جبکہ زخمیوں کو50،50 ہزار روپے امداد دی جائے گی۔

دوسری جانب وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے بھی صوبے میں بارشوں کے باعث ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

جبکہ خیبرپختونخوا میں بارشوں سے متاثرہ افراد کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے 2 کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی ہے کہ متاثرین کے لیے خوراک اورادویات فوری روانہ کی جائیں۔


پشاور طوفان: ملکی تاریخ کا تیسرا بڑا ہوائی بگولہ


محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر محمد حنیف نے پشاور میں آنے والے طوفان کو ملکی تاریخ کا تیسرا بڑا ہوائی بگولہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوم کو اس طرح مزید صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ڈان نیوز سےبات چیت کے دوران انہوں نے انہوں نے بتایا کہ اس طرح کا بگولہ دو سال قبل سیالکوٹ اور نو سال پہلے سرگوھا میں آیا تھا۔

انھوں نے پشاور کی طوفانی بارشوں کی وجہ جنگلات کا کٹاؤ اور آلودگی میں اضافہ قرار دیا ہے۔

محمد حنیف کا کہنا تھا کہ اس طوفان کے دوران چلنے والی ہوا کی رفتار ایک سو دس سے ایک سوبیس کلومیٹرفی گھنٹہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں طوفان کے امکانات موجود تھے، لیکن اس کی شدت اس قدر ہوگی اس بارے میں اندازہ نہیں تھا۔

محمد حنیف کے مطابق ہوائی بگولوں کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں آب و ہوا تبدیل ہوچکی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ جنگلات کا کٹاؤ اور تیزی سے بڑھتی فضائی آلودگی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں اس طرح کی مزیدصورتحال دیکھنے میں آ سکتی ہے، جس کے لیے ہمیں تیار رہنا ہوگا۔

صوبائی محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مشتاق علی شاہ نے بارش کو ایک چھوٹے طوفان سے تعبیر کرتے ہوئے بتایا کہ بارش کے دوران 110 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہواؤں نے تباہی مچائی۔

انہوں نے بتایا کہ طوفان کی رفتار دم توڑ چکی ہے لیکن اگلے تین سے چار گھنٹوں تک شدید بارش متوقع ہے۔


ملکی تاریخ کے بدترین طوفان کے امکان سے پی ڈی ایم اے کی بے خبری


پشاور بشمول خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع میں تباہی مچانے والے طوفان اور موسلادھار بارشوں سمیت شدید ژالہ باری کے امکانات سے صوبائی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا ادارہ یکسر بے خبر رہا۔

یاد رہے کہ پی ڈی ایم اے نے اتوار اور پیر کو گرم اور خشک موسم کی پیشن گوئی کی تھی، ادارے کی ویب سائٹ پر اتوار اور پیر کے دن خشک موسم سمیت گرمی کے حوالے تفصیلات پوسٹ کی گئی تھیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی پیش گوئی میں تاریخی سائیکلون کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔

واضح رہے کہ اس ادارے کو ہر سال قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے کروڑوں روپے کا فنڈ دیا جاتا ہے، تاہم پی ڈی ایم اے قدرتی آفات کی نشاندہی اور روک تھام میں ناکام دکھائی دے رہا ہے ۔

Leave a Reply

Back to top button