سیلف ہیلپکالم

دریا پریم کا…… نعیم سلہری

کچھ روز اُدھر کی بات ہے کہ حضرت سلطان باہوؒ کا کلام پڑھتے ہوئے ایک شعر نے توجہ یوں کھینچی کہ سوچ کی کئی پرتیں وا ہو گئیں۔ شعر پڑھ کر محسوس ہوا کہ جو باتیں Law of Attraction کے پرچارک آج کر رہے ہیں، ذہن کے جن گوشوں کو جدید نفسیات آج کھول کر رہی ہے، اللہ کے برگزیدہ بندے اور صوفی مدتوں پہلے اس امر کا نہ صرف اظہار کر چکے بلکہ اچھی طرح سمجھا بھی چکے ہیں۔ سلطان العارفین ؒ فرماتے ہیں:

ایہہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ہُو
ناں کر منت خواج خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ہُو

حضرت ؒ فرماتے ہیں کہ یہ جسم اللہ رب العزت کی قیام گاہ ہے، اگر اُس ذات باری تعالیٰ کو پانا ہے تو کہیں باہر نہیں بلکہ اپنی ذات کے اندر جھانک، سب خزانے وہاں موجود ہیں۔ ایک مومن اور بندہئ خدا کے لئے سب سے بڑا خزانہ ذاتِ باری تعالیٰ ہے، جو اس کے اندر موجود ہے، جس کی تلاش کے لئے اسے کہیں باہر دوڑ دھوپ کرنے کی ضرورت ہے نہ ہی خضر کی۔ مطلب یہ کہ سب تیرے اندر موجود ہے، اور اندر جھانکنے کا طریقہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے بتا دیا ہے، تو پھر بغیر سوچے سمجھے کیوں کسی اور چوکھٹ پر سر پٹختا ہے، سیدھا اپنے اندر جھانک اور خزانہ پا لے۔

انگریزی مصنفہ ہیلن کیلر کا کہنا ہےThe best and most beautiful things in the world cannot be seen or even touched – they must be felt with the heart.۔ ”دنیا میں موجود عمدہ اور سب سے زیادہ خوبصورت اشیاء کو دیکھا جا سکتا ہے، نہ ہی چھوا جا سکتا ہے، انہیں صرف دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے“۔ ہیلن کیلر نابینا خاتون تھیں لیکن ادبی دنیا میں ایک حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی اس کمزوری کو روگ نہیں بلکہ ایک ایسی طاقت بنایا جس کے ذریعے وہ دوسروں کے لئےSource of inspiration یعنی تحریک کا ذریعہ بن گئیں۔ نابینا ہونے کی وجہ سے ہیلن نہ تو دوسروں کو دیکھ سکتی تھیں اور نہ ہی ان کی تحریروں سے ہماری طرح مستفید ہو سکتی تھیں، اس کے باوجود وہ کون سی چیز تھی جس نے انہیں عظیم لوگوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ جی ہاں، وہ تھا inner source if inspiration یعنی آگے بڑھنے کا وہ جذبہ جو ان کی اپنی ذات کے اندر تھا، انہوں نے اسی سے کام لیا کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھیں۔ بقول امیر خسرو ؒ:

خسرو دریا پریم کا الٹی وا کی دھار
جو اُترا سو ڈوب گیا جو ڈوبا سو پار

بات اور طرف نکل گئی، اب آتے ہیں سلطان العارفین ؒ کے ایک اور بند کی طرف جو یہ بتاتا ہے کہ انسانی دل کی وسعت اور گہرائی کیا ہے، اس میں کِیا کِیا سمایا ہے اور کیا کچھ سما سکتا ہے۔ یہ پریم کا کیسا دریا، روحانیت کا کیسا ساگر ہے جس میں ”یار لوگ“ یوں تیرتے ہیں جسے مچھلی گہرے نیلے شفاف پانیوں میں۔

دِل دَریا سَمندروں ڈُونگھے کون دِلاں دیاں جانے ہُو
وِچے بیڑے وِچے بھِیرے وِچے وَنجھ مُہانے ہُو
چوداں طبق دِلے دے اَندر تَنبْو وانگوں تانے ہُو
دِل دا محرم ہووے باہُو سوئی رب پچھانے ہُو

ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم اس بَند کو بڑے من موہنے اور آسان انداز میں یوں سمجھاتے ہیں ”انسانی دِل کی وسعت، گہرائی اور بلندی کے متعلق اتنے زور دار اور اثر انگیز مِصرعے سارے پنجابی لٹریچر میں کہیں اور نہ ہوں گے“۔ دِل کی گہرائی سمندروں سے بھی زیادہ سمجھو۔ ایک ہنگامہ اس کے اندر رہتا ہے۔ سفر و حضر کی ساری منزلیں اور اِن کے اسباب موجود ہیں۔ سُلطان صاحب ؒ نے دوسرے مصرع میں بحری سفر کے لوازمات کی طرف اِشارہ کر کے سلوک کے مراحل کو بیان فرمایا ہے۔

(تیسرے اور) چوتھے مصرع میں فرمایا ہے کہ دِل کے اندر پوری کائنات سمائی ہوئی ہے۔ چودہ طبق خیمے کی طرح اندر تَنے ہوئے ہیں۔ جب فرد کی ذات مرکز سے پھیل کر وُسعت اِختیار کرتی ہے تو پھر کائنات بھی اس کے لئے محدود و مختصر ہو جاتی ہے لیکن اس وُسعت کو پانے کے لئے دِل کے سمندر کی اَتھاہ گہرائی میں اُترنا پڑتا ہے۔

دِل کا محرم ہونے سے دِل کی ساری قوتوں، صلاحیتوں، کمالات اور کرامات سے واقف ہونا مُراد ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر سوچیں تو اِسی ”دِل کا محرم“ ہونے سے اپنی پیدائش کے مقصد اور اس کے شعور کے معنی نکل آئیں گے۔ جس طالبِ حق کی سمجھ میں یہ باتیں آ جاتی ہیں وہی رب کو پہچان پاتا ہے۔ حضرت ؒ نے اس مصرع میں مَن عَرَفَ نَفسَہ فَقَد عَرَفَ رَبَہ کا ہُو بَہو ترجمہ فرما دیا ہے……یعنی جس نے خود کو پہچان لیا، اس نے رب کو پہچان لیا۔

اس بیت کو پڑھتے اور سنتے ہُوئے قاری یا سامع ”دِل دریا سمندروں ڈُونگھے“ سے واقف ہو کر ”دِل دا محرم سوئی باہُو“ کی تعلیم کو خود بخود پا لیتا ہے۔ سُلطان صاحب کے اَبیات میں یہ صفت بدرجہ اَتم پائی جاتی ہے کہ وہ رَبط جِسے منطقی انداز میں سوچنے والے نہیں پا سکتے وجدانی بلکہ فطری انداز میں سوچنے اور محسوس کرنے والے لوگ بآسانی پا لیتے ہیں۔ اور یہاں تو خیر ربط کا معاملہ بہت واضح ہے جِسے دِل و دِماغ دونوں محسوس کر لیتے ہیں“۔

”دا سیکرٹ“ کی مصنفہ رہونڈا بائرن نے Law of Attraction کے ضمن میں ٹیلی ویژن ٹرانسمشن ٹاور اور انسانی دماغ کا موازنہ کرتے ہوئے دماغ کو ٹرانسمشن ٹاور سے زیادہ طاقتور قرار دیا ہے۔ کیا رہونڈا نے ”چوداں طبق دِلے دے اَندر تَنبْو وانگوں تانے ہُو“ کی طرف اشارہ نہیں کیا؟ …… کیا اُس نے مولانا روم ؒ کی بات ”سیرِعارف ہردمِ تا تختِ شاہ“ کی تائید نہیں کی ہے؟ سوچئے گا ضرور کیونکہ یہی وہ دانش، وہ ساگر، وہ پریم کا دریا ہے جس کی انسان کو آج سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Back to top button