شخصیات

دلدار پرویز بھٹی: بے مثال فنکار، بہترین انسان

محمد ہمایوں

محمد ہمایوں
میرے ماموں کے بیٹوں مظہر اور طارق کے ماموں انور اکرم صاحب دلدار بھٹی کے بہنوئی تھے اور یہ محکمہ کسٹم میں میرے کولیگ تھے۔ دلدار پرویز بھٹی میرے ان عزیزوں کو جانتے تھے اور وہ ٹی وی پر ان کے پروگرام ”میلہ“ میں شریک بھی ہو چکے تھے۔ مجھے اس تعلق کا پتہ تھا، لیکن بھٹی صاحب مجھے نہیں جانتے تھے۔ اور ہماری ملاقات اچانک ہوئی۔ میں نے 1987ء میں پی ٹی وی کے ادبی پروگرام ”بزم“ میں قومی نشریاتی رابطے پر اپنے دو انشائیے پڑھے، جنہیں بہت پسند کیا گیا اس کے بعد پنجاب کی سطح کے تین چار ادبی پروگراموں میں حصہ لیا۔ ان دنوں میرا ٹی وی سٹیشن آنا جانا تھا۔ یہ 1988ء کی بات ہے۔ میں ٹی وی سٹیشن سے باہر آیا تو مجھے پروفیسر بھٹی صاحب مل گئے، کہنے لگے کہ آپ کہاں ہوتے ہیں۔ میں نے بتایا کہ میں کسٹم کے محکمہ میں ہوں تو انہوں نے مجھے اپنے پروگرام ”میلہ“ کے لیے بک کر لیا۔

”میلہ“ میں حصہ لینے کے بعد میری بھٹی صاحب سے چند مزید ملاقاتیں ہوئیں۔ چند بار فون پر بھی بات ہوئی۔ ایک دفعہ میری ڈیوٹی لاہور ایئر پورٹ ٹریفک میں تھی، بھٹی صاحب ایک صاحب کے ساتھ وہاں کسی کام سے آئے۔ شریف صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ تھے۔ جب شریف صاحب اٹھ کر کسی کام کے لیے گئے تو بھٹی صاحب کہنے لگے ”جنٹلمین آف دی لالٹین“ پھر ایک دفعہ بھٹی صاحب ایئر پورٹ آئے، میری ڈیوٹی وہیں تھی۔ ہمارے اسسٹنٹ کلکٹر نے ان کی بڑی آؤ بھگت کی حالانکہ وہ سی ایس ایس آفیسر تھے اور ان کے بھٹی صاحب سے پہلے سے کوئی مراسم نہ تھے، انہوں نے بھٹی صاحب کو اپنے کمرے میں بٹھایا اور دیر تک ان سے گپ شپ کرتے رہے۔

بھٹی صاحب سے زیادہ ملاقاتوں کا موقع نہ ملا، جس کی حسرت ہی رہی، بہر حال ان سے جو چند ملاقاتیں ہوئیں ان سے اندازہ ہوا کہ وہ بڑے زندہ دل اور حاضر جواب آدمی تھے۔ دوستوں میں بیٹھے خوش گپیاں کرتے، تو سارا ماحول ہی گویا مسکرانے لگتا تھا۔ دلدار کا کالم پڑھتے ہوئے یوں لگتا، جیسے ہم ان کی شگفتہ باتیں سن رہے ہیں۔ جب وہ سنجیدہ موضوع پر سنجیدگی اختیار کرتے تو دانشور لگتے۔ ویسے اکثر وہ سنجیدہ موضوع پر غیر سنجیدہ ہو جاتے تھے اور یوں مزاح پیدا ہو جاتا۔ برجستہ گوئی اور فی البدیہہ مزاحیہ جملے بولنا ان پر ختم تھا، ایسا بے مثال کمپیئر ملنا بہت مشکل ہے۔

”میلہ میں جانے سے میں گھبرا رہا تھا کہ دلدار کے سامنے حال دل کہنا تھا۔ شخصیت کی بڑی بات ہوتی ہے۔ شخصیت کے اثر کی وجہ سے بعض اوقات عاشق اپنے محبوب کو دل ہی دل میں چاہتے رہتے ہیں، اپنا مدعا بیان نہیں کر سکتے، اور ظاہر ہے جو آدمی درخواست نہیں دے گا، اسے نوکری کیا ملے گی؟

ایک دن موسلادھار بارش ہو رہی تھی۔ مشتاق احمد یوسفی تھکے ماندے بارش میں شرابور گھر پہنچے تو دیکھا کہ تین مرغے ان کی پلنگ پر با جماعت اذان دے رہے ہیں۔ سفید چادر پر جا بجا پنجوں کے تازہ نشان تھے البتہ ان کی قبل از وقت واپسی کے سبب جہاں جہاں جگہ خالی رہ گئی وہاں سفید دھبے نہایت بد نما معلوم ہو رہے تھے۔ یوسفی صاحب نے بیگم سے ذرا درشتی سے سوال کیا:
”آخر یہ گلا پھاڑ پھاڑ کے کیوں چیخ رہے ہیں؟“
بولیں: آپ تو خوامخواہ الرجک ہو گئے ہیں۔یہ بے چارے چونچ کھولیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے چڑا رہے ہیں۔
یوسفی صاحب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، بولے: ”بس ہو چکا، آؤ آج دو ٹوک فیصلہ ہو جائے، اب گھر میں یا تو یہ رہیں گے یا میں۔“
بیگم کی آنکھوں میں سچ مچ آنسو بھر آئے، ہراساں ہو کر کہنے لگیں: ”اتنی تیز بارش میں آپ کہاں جائیں گے“۔

دلدار بھٹی کا پروگرام (ٹی وی پر) میں ایک عرصے سے دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک پہلو دار شخصیت کے حامل اور ادب و آرٹ کے آدمی تھے۔ اردو اور پنجابی کے منفرد کمپیئر تھے۔ وہ ان دنوں بہت مقبول تھے اور میں نو وارد تھا۔ بھٹی صاحب انگریزی ادب کے استاد تھے، میں ڈر رہا تھا کہ پتہ نہیں کیا سوال کر لیں۔

انشائیوں کے علاوہ میرے کچھ طنزیہ و مزاحیہ مضمون ایک بڑے اخبار کے ادبی ایڈیشن میں چھپے تھے، سو میرا خیال تھا کہ بھٹی صاحب مجھ سے انشائی اور مزاح کے بارے میں سوال کریں گے۔ چنانچہ میں نے تیاری کی۔ میں ریکارڈنگ کے لیے ٹی وی اسٹیشن پہنچا، وہاں خوش قسمتی سے پروڈیوسر محمد عظیم مل گئے۔ ان سے میری بے تکلفی تھی، ان کے ادبی پروگرام ”بزم“ میں میں نے اپنے دو انشائیے پڑھے تھے۔ وہ میری گھبراہٹ بھانپ گئے اور کہنے لگے: ”ذرا مکھن لگا دینا، وہ اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتا۔“

میری ٹینشن دور ہو گئی لیکن مشکل یہ تھی کہ مجھے مکھن لگانا نہیں آتا۔ پھر مجھے خیال آیا، دلدار تو بڑا پیارا آدمی ہے، لاکھوں کروڑوں لوگوں کو ہنساتا ہے، محبتیں بانٹتا ہے، پھر وہ قابل ہے، فنکار ہے، صدا کار ہے اور باکمال ہے، وہ تعریف کا حقدار ہے۔

وہ صرف کمپیئر نہیں تھے، اپنے پروگرام میں مختلف کھیلوں اور سر گرمیوں کو ایک سمت دینے اور حسن ترتیب دینے کا کام بھی خود کرتے۔ نئے نئے خیالات سے چمک دمک پیدا کرتے۔ پنجاب کے دیسی اور مضافاتی علاقوں سے بھی فنکاروں اور تخلیق کاروں کو بلاتے اور مہکی اگر بتیاں روشن کرتے اور نئے نئے دیے جلاتے، وہ ہدایت کار معلوم ہوتے، ”میلہ“ کا ”ہیرو“ بھرے میلے کو چھوڑ کر نجانے کہاں چلا گیا ہے؟

دلدار کی دلداری تھی کہ میں میلہ میں گھس گیا تھا۔ ”میلہ“ کا ہیرو جب سٹیج پر آیا تو سٹوڈیو پُرجوش تالیوں سے گونج اٹھا۔ دلدار جس پروگرام میں بھی جاتا، پُرجوش تالیاں بجتیں۔ اللہ نے اسے بڑی عزت، مقبولیت اور ہر دلعزیزی بخشی ہوئی تھی۔ وہ یورپ اور امریکہ جا کر بھی سٹیج شو کرتا اور ناظرین سے بڑی داد وصول کرتا۔
پروگرام کے شرکاء سے تعارف کروا کر بھٹی صاحب نے مجھ سے کوئی انشائیہ سنانے کی فرمائش کی۔ میں نے ایک انشائیے کے کچھ حصے سنائے تو وہ کہنے لگے:
کنج انشائیہ ادب برائے ادب ہوندا اے؟
میں نے جواب دیا۔ کجھ انشائیے ادب برائے زندگی دے زمرے وچ وی آوندے نیں۔
انہوں نے مجھ سے دوسرا سوال کیا:
مزاح کیہہ ہوندا اے؟ میں نے مکھن لگایا، بھٹی صاحب، تسی تاں آپ ای مجسم مزاح او۔
بھٹی صاحب: نئیں نئیں ذرا بچیا لئی دس دیو۔
میں نے مزاح کی تعریف کر دی۔

بعد میں لگتا ہے کہ یہ خوشامد نہیں تھی بلکہ حقیقت تھی کہ دلدار واقعی سراپا مزاح تھے، مثالی انسان تھے۔ وہ وسیع المطالعہ تھے۔ بے مثال فنکار تھے۔
جب پاکستان آرٹس کونسل نے دلدار بھٹی کا پس مرگ اعزاز کا کیس اسلام آباد بھیجا تھا، لیکن مجاز اتھارٹی دینے پر آمادہ نہ تھی حالانکہ اس سے پہلے پس مرگ اعزاز فنکاروں بشمول ادیبوں، شاعروں کو ملتے رہے ہیں جیسے معروف نظم گو شاعر اختر حسین جعفری کو پس مرگ تمغہ حسن کارکردگی کا اعزاز دیا گیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ دلدار ایسے خوش ادا انسان کی خدمات کو ہمارے ارباب اختیار یوں نظرانداز کر رہے ہیں۔

Leave a Reply

Back to top button